<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:57:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:57:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم دورہ امریکہ میں غزہ کے لیے فوج بھیجنے کے معاملے پر وضاحت مانگیں گے، ذرائع کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282966/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تین باخبر ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا ہے کہ پاکستان عالمی استحکام فورس(آئی ایس ایف) کے حصے کے طور پرغزہ میں اپنے فوجی دستے بھیجنے کا عہد کرنے سے پہلے امریکہ سے یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ یہ ایک  امن مشن ہوگا، نہ کہ اسے حماس کو غیر مسلح کرنے کا ہدف دیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کو واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے پہلے باضابطہ اجلاس میں شرکت کرنے والے ہیں، جہاں کم از کم 20 دیگر ممالک کے وفود بھی موجود ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ جو اس اجلاس کی صدارت کریں گے، توقع ہے کہ وہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے اربوں ڈالر کے منصوبے اور وہاں اقوامِ متحدہ سے منظور شدہ استحکام فورس کی تفصیلات کا اعلان کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی ذرائع کے مطابق شہباز شریف اپنے دورے کے دوران اس فورس کے مقاصد، اس کے اختیارات اور کمانڈ کے ڈھانچے کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم کے ایک قریبی ساتھی نے کہا کہ ہم فوج بھیجنے کے لیے تیار ہیں لیکن یہ واضح کر دوں کہ ہماری افواج صرف امن مشن کا حصہ بن سکتی ہیں۔ حماس کو غیر مسلح کرنے جیسے کسی اور کردار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تعمیرِ نو اور بحالی کی نگرانی کے لیے فورس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ منصوبے میں مسلم ممالک کی افواج پر مشتمل ایک دستہ تشکیل دینے کی تجویز ہے جو تباہ حال فلسطینی علاقے میں تعمیرِ نو اور معاشی بحالی کے عبوری دور کی نگرانی کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج، جو جنگوں اور شورش پسندی سے نمٹنے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے، اس کثیر القومی فورس کے لیے ایک اہم اثاثہ ثابت ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;توازن برقرار رکھنے کے عوامل&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری کے آخر میں شروع کیے گئے اس  بورڈ آف پیس کا ابتدائی مقصد غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنا تھا لیکن صدر ٹرمپ اسے عالمی تنازعات کے حل کے لیے ایک وسیع تر پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتے ہیں۔ بعض ممالک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ ادارہ اقوامِ متحدہ کا حریف بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق سفیر حسین حقانی کا کہنا ہے کہ پاکستانی عوام صرف فلسطینیوں کے تحفظ کی خاطر فوج بھیجنے کی حمایت کریں گے۔ اگر وہاں تعیناتی کے بعد فلسطینیوں کی صورتحال میں بہتری نہ آئی تو پاکستان میں شدید عوامی ردِعمل پیدا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تین باخبر ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا ہے کہ پاکستان عالمی استحکام فورس(آئی ایس ایف) کے حصے کے طور پرغزہ میں اپنے فوجی دستے بھیجنے کا عہد کرنے سے پہلے امریکہ سے یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ یہ ایک  امن مشن ہوگا، نہ کہ اسے حماس کو غیر مسلح کرنے کا ہدف دیا جائے گا۔</strong></p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کو واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے پہلے باضابطہ اجلاس میں شرکت کرنے والے ہیں، جہاں کم از کم 20 دیگر ممالک کے وفود بھی موجود ہوں گے۔</p>
<p>ٹرمپ جو اس اجلاس کی صدارت کریں گے، توقع ہے کہ وہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے اربوں ڈالر کے منصوبے اور وہاں اقوامِ متحدہ سے منظور شدہ استحکام فورس کی تفصیلات کا اعلان کریں گے۔</p>
<p>حکومتی ذرائع کے مطابق شہباز شریف اپنے دورے کے دوران اس فورس کے مقاصد، اس کے اختیارات اور کمانڈ کے ڈھانچے کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم کے ایک قریبی ساتھی نے کہا کہ ہم فوج بھیجنے کے لیے تیار ہیں لیکن یہ واضح کر دوں کہ ہماری افواج صرف امن مشن کا حصہ بن سکتی ہیں۔ حماس کو غیر مسلح کرنے جیسے کسی اور کردار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔</p>
<p><strong>تعمیرِ نو اور بحالی کی نگرانی کے لیے فورس</strong></p>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ منصوبے میں مسلم ممالک کی افواج پر مشتمل ایک دستہ تشکیل دینے کی تجویز ہے جو تباہ حال فلسطینی علاقے میں تعمیرِ نو اور معاشی بحالی کے عبوری دور کی نگرانی کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج، جو جنگوں اور شورش پسندی سے نمٹنے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے، اس کثیر القومی فورس کے لیے ایک اہم اثاثہ ثابت ہوسکتی ہے۔</p>
<p><strong>توازن برقرار رکھنے کے عوامل</strong></p>
<p>جنوری کے آخر میں شروع کیے گئے اس  بورڈ آف پیس کا ابتدائی مقصد غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنا تھا لیکن صدر ٹرمپ اسے عالمی تنازعات کے حل کے لیے ایک وسیع تر پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتے ہیں۔ بعض ممالک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ ادارہ اقوامِ متحدہ کا حریف بن سکتا ہے۔</p>
<p>سابق سفیر حسین حقانی کا کہنا ہے کہ پاکستانی عوام صرف فلسطینیوں کے تحفظ کی خاطر فوج بھیجنے کی حمایت کریں گے۔ اگر وہاں تعیناتی کے بعد فلسطینیوں کی صورتحال میں بہتری نہ آئی تو پاکستان میں شدید عوامی ردِعمل پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282966</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Feb 2026 19:49:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/181855515338c69.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/181855515338c69.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
