<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 20 Jul 2026 02:48:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 20 Jul 2026 02:48:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حوصلہ افزائی کی گمراہ کن غلط فہمیاں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282961/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لوگ جو کرتے ہیں وہ کیوں کرتے ہیں۔ لوگ وہ کیوں نہیں کرتے جو وہ نہیں کرتے۔ لوگ جیسا سلوک کرتے ہیں ویسا کیوں کرتے ہیں۔ لوگ اس طرح برتاؤ کیوں نہیں کرتے جس طرح وہ نہیں کرتے۔ یہ وہ سوالات ہیں جو زیادہ تر رہنماؤں، پیروکاروں اور محققین کو مایوس، متجسس اور مشغول رکھتے ہیں۔ کبھی کبھی آپ لوگوں کو ایسے کام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں جنہیں ہم ”غیر معمولی“ یا ”کردار کے برعکس“ قرار دیتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض اوقات ہم لوگوں کو ایسے کام کرتے دیکھتے ہیں جو ناقابلِ فہم ہوتے ہیں۔ اور بعض اوقات یہی لوگ بالکل معمول کے مطابق رویہ اختیار کرتے نظر آتے ہیں۔ انسانی رویہ پیچیدہ بھی ہے۔ انسانی رویہ قابلِ پیش گوئی بھی ہے۔ انسانی رویہ ناقابلِ پیش گوئی بھی ہے۔ کئی بار ہمارے قریب ترین لوگ اس انداز میں برتاؤ کرتے ہیں کہ ہم سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں: کیا ہم واقعی انہیں جانتے تھے؟ درحقیقت ہم خود بھی کبھی کبھار ایسے انداز میں پیش آتے ہیں جو ہمیں حیران کر دیتا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی رویے کو سمجھنے کی کوشش کرنا لاحاصل ہے؟ نہیں۔ بلکہ اگر کچھ ہے تو وہ یہ کہ اس پیچیدہ موضوع کے بارے میں سیکھتے رہنا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات درست ہے کہ ہر انسان منفرد ہوتا ہے۔ انسانی رویہ حیاتیاتی، نفسیاتی اور سماجی و ثقافتی عوامل سمیت متعدد عناصر سے متاثر ہوتا ہے۔ ایک ہی خاندان کے دو افراد (حتیٰ کہ جڑواں بچے بھی) مختلف تجربات اور طرزِ فکر کے باعث مختلف رویے اختیار کر سکتے ہیں۔ اس بنیادی حقیقت کو اکثر گھروں اور اداروں میں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کے رویے کا موازنہ اپنے بچپن سے کرتے رہتے ہیں۔ منیجرز اپنے جونیئرز کا تقابل اُس دور سے کرتے ہیں جب وہ خود جونیئر تھے۔ یہ موازنہ گمراہ کن ہے۔ جن ادراکی قوتوں نے والدین کے رویوں کو تشکیل دیا اور جو بچوں کے رویوں کو تشکیل دے رہی ہیں، وہ مختلف ہیں۔ پھر رویہ ایک جیسا کیسے ہو سکتا ہے؟ جب ان مفروضوں پر سوال نہ اٹھایا جائے تو یہ غلط فہمیاں حقیقت کا روپ دھار لیتی ہیں۔ اور یہی نام نہاد حقائق غلط فیصلہ سازی کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ آئیے چند ایسی غلط فہمیاں پر نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح غیر ضروری رویوں اور نتائج کا سبب بنتی ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی غلط فہمی: تنخواہ سب سے بڑا محرک ہے&lt;br&gt;”وفاداری؟ کس وفاداری کی بات، انہیں صرف تنخواہوں سے فرق پڑتا ہے۔“ یہ جملے آج بھی سننے کو ملتے ہیں۔ رہنما اس بات پر ناخوش ہیں کہ ملازمین کس طرح آفر لیٹر کا کارڈ کھیلتے ہیں، دوسری کمپنیوں میں درخواست دیتے ہیں، زیادہ تنخواہ حاصل کرتے ہیں اور چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عام رائے پائی جاتی ہے کہ پیسہ سب کچھ ہے، پیسہ بھرتی کرتا ہے اور پیسہ ہی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔&lt;br&gt;تاہم، دی کانفرنس بورڈ کے تازہ ترین جاب سیٹسفیکشن سروے کے مطابق آج کا ملازم پیسہ چاہتا ضرور ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ وہ اپنی محنت کا مقصد اور معنی چاہتا ہے۔ جب وہ جان لیتے ہیں کہ ان کے کام کا مقصد کیا ہے، تب انہیں تحریک ملتی ہے۔ ایک اور اہم محرک پہچان اور تعریف ہے۔ زیادہ تر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں اہمیت یا قدر نہیں دی جاتی۔ یہی انسانی بے رغبتی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ زیادہ تر سرویز میں معاوضہ تیسرے سے پانچویں نمبر پر آتا ہے۔ میری کوچنگ کے تجربے میں اکثر لوگ اسی وجہ سے نوکری چھوڑ دیتے ہیں کہ انہیں لگا کہ وہ اہم نہیں ہیں۔ کسی کے لیے اہم ہونا انسانی خواہش ہے۔ جب آپ کی تعریف نہ ہو، تو آپ غیر ضروری اور غیر متعلقہ محسوس کرتے ہیں، یہ احساس حوصلہ شکن ہے۔&lt;br&gt;ایک کوچنگ سیشن میں جب رہنما شکایت کرتے ہیں کہ ملازمین مادّی چیزوں کے زیادہ خواہاں ہیں، میں پوچھتی ہوں کہ آپ نے آخری بار کب اپنی ٹیم کی تعریف عوامی طور پر کی تھی۔ جواب اکثر ”کئی بار“ ہوتا ہے، لیکن جب میں پوچھتی ہوں کہ گزشتہ چند ہفتوں میں کوئی ایک مخصوص موقع بتائیں، تو وہ ہچکچاتے ہیں۔ میں نے ایک رہنما کو مشورہ دیا کہ ٹیم کے لیے واٹس ایپ گروپ بنائیں اور ایک مخصوص رکن کی تعریف کریں۔ انہوں نے کیا، اور حیران ہوئے کہ چند الفاظ کی تعریف نے کئی مالی محرکات سے زیادہ اثر دکھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری غلط فہمی: ایک ہی طریقہ سب پر لاگو ہوتا ہے&lt;br&gt;ایک رہنما نے کوچنگ سیشن میں تعریف کے بارے میں شکایت کی: ”آپ نے کہا کہ میں اسے عوامی طور پر سراہوں، میں نے کیا، لیکن کام نہیں آیا۔“&lt;br&gt;رہنما اکثر وقت کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جو کسی کو متحرک کرتا ہے، وہ دوسرے کے لیے مؤثر نہیں ہو سکتا۔ کچھ ملازمین عوامی تعریف پسند کرتے ہیں، کچھ ذاتی تعریف اور کام میں بہتری کے مواقع چاہتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں والدین کو ان کی کارکردگی کے بارے میں خط لکھنا سب سے بڑی خوشی دیتا ہے۔ رہنماؤں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جیسے وہ اپنے صارفین کے لیے اپنی پیشکش کو حسب ضرورت ڈھالتے ہیں، ویسے ہی انہیں ملازمین کے محرکات کو بھی ان کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسری غلط فہمی“: انسانی رویہ صرف دھکا دینے سے حرکت میں آتا ہے&lt;br&gt;زیادہ تر رہنما سمجھتے ہیں کہ انسان فطری طور پر سست ہے۔ یہ خیال انہیں مائیکرو مینیجر بنا دیتا ہے جو مسلسل ملازمین کی نگرانی کرتا رہتا ہے۔ یہ غلط فہمی ہے کیونکہ انسان ہر طرح سے کسی نہ کسی حد تک قابل ہے۔ انسان آزادی کے خواہاں بھی ہیں۔ جب انہیں زیادہ نگرانی میں رکھا جاتا ہے، تو وہ قید محسوس کرتے ہیں اور کام یا نظام سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رہنماؤں کو اپنے ملازمین کے ساتھ رہنمائی کرنا، بااختیار بنانا اور اعتماد کرنا (سی ای ٹی) کے اصول پرعمل کرنا چاہیے تاکہ وہ اقدامات خود کرسکیں۔ جب تک رہنما انسانی صلاحیت پر یقین کھوتے رہیں گے، نتائج غیر مستحکم رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھی غلط فہمی: ملازمین فیڈبیک پسند نہیں کرتے&lt;br&gt;ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ ملازمین اپنی کارکردگی کے بارے میں بتائے جانے والے فیڈبیک کو ناپسند کرتے ہیں۔ رہنما یا تو بری خبریں دینے سے گریز کرتے ہیں یا سوچتے ہیں کہ تعریف کرنے سے ملازمین کی توقعات بڑھ جائیں گی۔ اسی وجہ سے فیڈبیک سالانہ یا ششماہی تقریب بنتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملازمین فیڈبیک سے نفرت نہیں کرتے، بلکہ بے ترتیب اور بے سوچ فیڈبیک سے نفرت کرتے ہیں۔ جب میں رہنما سے پوچھتی ہوں کہ کیا آپ اپنی ٹیم کے ساتھ باقاعدہ ذاتی ملاقات (ون آن ون میٹنگ) کرتے ہیں، تو اکثر جواب ملتا ہے کہ ہم تو اکثر ملاقات کرتے ہیں۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ فیڈبیک کوئی ”غیر سنجیدہ“ سرگرمی نہیں بلکہ مخصوص، منظم اور اہم نظام ہونا چاہیے۔ اگر صحیح طریقے سے اور باقاعدگی سے دیا جائے تو یہ ملازمین کو بہتر ہونے اور ترقی کرنے میں مدد دیتا ہے۔ بصورتِ دیگر، جیسا کہ اکثر ہوتا ہے، یہ ایک ’میں بمقابلہ تم‘ کا تنازع بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانچویں غلط فہمی: رہنما کو کارکنوں سے فاصلے پر رہنا چاہیے&lt;br&gt;کچھ رہنما یہ سوچتے ہیں کہ پیشہ ورانہ رویہ کا تقاضا ہے کہ وہ ملازمین سے فاصلے پر رہیں۔ وہ اچھے معاوضے اور سہولتیں دیتے ہیں اور ملازمین کی مصروفیت ایچ آر پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ہاں، ایچ آر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملازمین کی مصروفیت پر نظر رکھے، لیکن رہنما کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود ملازمین کو متحرک اور مصروف رکھے۔ حال ہی میں ایک کوچنگ اسائنمنٹ میں، میں نے مختلف رہنماؤں کا جائزہ لیا۔ سب سے متاثر کن رہنما وہ نہیں تھے جو بڑے فیصلوں کا اعلان کرتا، بلکہ وہ تھا جوملازمین سے سب سے زیادہ جڑا ہوا تھا۔ ملازمین نے کہا کہ ”وہ ہم سے بات کرتے ہیں، ہم سے پوچھتے ہیں، ہم سے مذاق کرتے ہیں۔“ یہی تعلق سب سے زیادہ حوصلہ افزا تھا، نہ کہ پانچ ستارہ دفاتر میں بڑے فیصلے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقی قیادت کا مطلب&lt;br&gt;قیادت کا اصل مطلب یہ نہیں کہ ملازمین کو تنخواہوں کے ذریعے باندھ دیا جائے، بلکہ انہیں مقصد اور کام سے جوڑا جائے۔ قیادت اعلیٰ عہدوں پر بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ ٹیم کے درمیان بیٹھنے، انہیں سمجھنے اور ان کی ترقی کے لیے مدد کرنے کا ہے۔ لوگ وہ تحریک چاہتے ہیں جو انہیں دیکھے جانے، سراہے جانے، قدر دیے جانے اور شامل کیے جانے سے ملتی ہے۔ بری خبر یہ ہے کہ بہت کم رہنما ایسا کرتے ہیں، اچھی خبر یہ ہے کہ اس پر کوئی زیادہ خرچ نہیں آتا۔ خلاصہ یہ کہ قیادت کا مقصد صرف خود شمع محفل بننا نہیں، بلکہ اپنی روشنی سے دیگر دیپ جلانا اور انہیں روشن کرنا ہی اصل مقصد ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ، بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لوگ جو کرتے ہیں وہ کیوں کرتے ہیں۔ لوگ وہ کیوں نہیں کرتے جو وہ نہیں کرتے۔ لوگ جیسا سلوک کرتے ہیں ویسا کیوں کرتے ہیں۔ لوگ اس طرح برتاؤ کیوں نہیں کرتے جس طرح وہ نہیں کرتے۔ یہ وہ سوالات ہیں جو زیادہ تر رہنماؤں، پیروکاروں اور محققین کو مایوس، متجسس اور مشغول رکھتے ہیں۔ کبھی کبھی آپ لوگوں کو ایسے کام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں جنہیں ہم ”غیر معمولی“ یا ”کردار کے برعکس“ قرار دیتے ہیں۔</strong></p>
<p>بعض اوقات ہم لوگوں کو ایسے کام کرتے دیکھتے ہیں جو ناقابلِ فہم ہوتے ہیں۔ اور بعض اوقات یہی لوگ بالکل معمول کے مطابق رویہ اختیار کرتے نظر آتے ہیں۔ انسانی رویہ پیچیدہ بھی ہے۔ انسانی رویہ قابلِ پیش گوئی بھی ہے۔ انسانی رویہ ناقابلِ پیش گوئی بھی ہے۔ کئی بار ہمارے قریب ترین لوگ اس انداز میں برتاؤ کرتے ہیں کہ ہم سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں: کیا ہم واقعی انہیں جانتے تھے؟ درحقیقت ہم خود بھی کبھی کبھار ایسے انداز میں پیش آتے ہیں جو ہمیں حیران کر دیتا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی رویے کو سمجھنے کی کوشش کرنا لاحاصل ہے؟ نہیں۔ بلکہ اگر کچھ ہے تو وہ یہ کہ اس پیچیدہ موضوع کے بارے میں سیکھتے رہنا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔</p>
<p>یہ بات درست ہے کہ ہر انسان منفرد ہوتا ہے۔ انسانی رویہ حیاتیاتی، نفسیاتی اور سماجی و ثقافتی عوامل سمیت متعدد عناصر سے متاثر ہوتا ہے۔ ایک ہی خاندان کے دو افراد (حتیٰ کہ جڑواں بچے بھی) مختلف تجربات اور طرزِ فکر کے باعث مختلف رویے اختیار کر سکتے ہیں۔ اس بنیادی حقیقت کو اکثر گھروں اور اداروں میں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کے رویے کا موازنہ اپنے بچپن سے کرتے رہتے ہیں۔ منیجرز اپنے جونیئرز کا تقابل اُس دور سے کرتے ہیں جب وہ خود جونیئر تھے۔ یہ موازنہ گمراہ کن ہے۔ جن ادراکی قوتوں نے والدین کے رویوں کو تشکیل دیا اور جو بچوں کے رویوں کو تشکیل دے رہی ہیں، وہ مختلف ہیں۔ پھر رویہ ایک جیسا کیسے ہو سکتا ہے؟ جب ان مفروضوں پر سوال نہ اٹھایا جائے تو یہ غلط فہمیاں حقیقت کا روپ دھار لیتی ہیں۔ اور یہی نام نہاد حقائق غلط فیصلہ سازی کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ آئیے چند ایسی غلط فہمیاں پر نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح غیر ضروری رویوں اور نتائج کا سبب بنتی ہیں:</p>
<p>پہلی غلط فہمی: تنخواہ سب سے بڑا محرک ہے<br>”وفاداری؟ کس وفاداری کی بات، انہیں صرف تنخواہوں سے فرق پڑتا ہے۔“ یہ جملے آج بھی سننے کو ملتے ہیں۔ رہنما اس بات پر ناخوش ہیں کہ ملازمین کس طرح آفر لیٹر کا کارڈ کھیلتے ہیں، دوسری کمپنیوں میں درخواست دیتے ہیں، زیادہ تنخواہ حاصل کرتے ہیں اور چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عام رائے پائی جاتی ہے کہ پیسہ سب کچھ ہے، پیسہ بھرتی کرتا ہے اور پیسہ ہی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔<br>تاہم، دی کانفرنس بورڈ کے تازہ ترین جاب سیٹسفیکشن سروے کے مطابق آج کا ملازم پیسہ چاہتا ضرور ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ وہ اپنی محنت کا مقصد اور معنی چاہتا ہے۔ جب وہ جان لیتے ہیں کہ ان کے کام کا مقصد کیا ہے، تب انہیں تحریک ملتی ہے۔ ایک اور اہم محرک پہچان اور تعریف ہے۔ زیادہ تر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں اہمیت یا قدر نہیں دی جاتی۔ یہی انسانی بے رغبتی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ زیادہ تر سرویز میں معاوضہ تیسرے سے پانچویں نمبر پر آتا ہے۔ میری کوچنگ کے تجربے میں اکثر لوگ اسی وجہ سے نوکری چھوڑ دیتے ہیں کہ انہیں لگا کہ وہ اہم نہیں ہیں۔ کسی کے لیے اہم ہونا انسانی خواہش ہے۔ جب آپ کی تعریف نہ ہو، تو آپ غیر ضروری اور غیر متعلقہ محسوس کرتے ہیں، یہ احساس حوصلہ شکن ہے۔<br>ایک کوچنگ سیشن میں جب رہنما شکایت کرتے ہیں کہ ملازمین مادّی چیزوں کے زیادہ خواہاں ہیں، میں پوچھتی ہوں کہ آپ نے آخری بار کب اپنی ٹیم کی تعریف عوامی طور پر کی تھی۔ جواب اکثر ”کئی بار“ ہوتا ہے، لیکن جب میں پوچھتی ہوں کہ گزشتہ چند ہفتوں میں کوئی ایک مخصوص موقع بتائیں، تو وہ ہچکچاتے ہیں۔ میں نے ایک رہنما کو مشورہ دیا کہ ٹیم کے لیے واٹس ایپ گروپ بنائیں اور ایک مخصوص رکن کی تعریف کریں۔ انہوں نے کیا، اور حیران ہوئے کہ چند الفاظ کی تعریف نے کئی مالی محرکات سے زیادہ اثر دکھایا۔</p>
<p>دوسری غلط فہمی: ایک ہی طریقہ سب پر لاگو ہوتا ہے<br>ایک رہنما نے کوچنگ سیشن میں تعریف کے بارے میں شکایت کی: ”آپ نے کہا کہ میں اسے عوامی طور پر سراہوں، میں نے کیا، لیکن کام نہیں آیا۔“<br>رہنما اکثر وقت کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جو کسی کو متحرک کرتا ہے، وہ دوسرے کے لیے مؤثر نہیں ہو سکتا۔ کچھ ملازمین عوامی تعریف پسند کرتے ہیں، کچھ ذاتی تعریف اور کام میں بہتری کے مواقع چاہتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں والدین کو ان کی کارکردگی کے بارے میں خط لکھنا سب سے بڑی خوشی دیتا ہے۔ رہنماؤں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جیسے وہ اپنے صارفین کے لیے اپنی پیشکش کو حسب ضرورت ڈھالتے ہیں، ویسے ہی انہیں ملازمین کے محرکات کو بھی ان کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔</p>
<p>تیسری غلط فہمی“: انسانی رویہ صرف دھکا دینے سے حرکت میں آتا ہے<br>زیادہ تر رہنما سمجھتے ہیں کہ انسان فطری طور پر سست ہے۔ یہ خیال انہیں مائیکرو مینیجر بنا دیتا ہے جو مسلسل ملازمین کی نگرانی کرتا رہتا ہے۔ یہ غلط فہمی ہے کیونکہ انسان ہر طرح سے کسی نہ کسی حد تک قابل ہے۔ انسان آزادی کے خواہاں بھی ہیں۔ جب انہیں زیادہ نگرانی میں رکھا جاتا ہے، تو وہ قید محسوس کرتے ہیں اور کام یا نظام سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رہنماؤں کو اپنے ملازمین کے ساتھ رہنمائی کرنا، بااختیار بنانا اور اعتماد کرنا (سی ای ٹی) کے اصول پرعمل کرنا چاہیے تاکہ وہ اقدامات خود کرسکیں۔ جب تک رہنما انسانی صلاحیت پر یقین کھوتے رہیں گے، نتائج غیر مستحکم رہیں گے۔</p>
<p>چوتھی غلط فہمی: ملازمین فیڈبیک پسند نہیں کرتے<br>ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ ملازمین اپنی کارکردگی کے بارے میں بتائے جانے والے فیڈبیک کو ناپسند کرتے ہیں۔ رہنما یا تو بری خبریں دینے سے گریز کرتے ہیں یا سوچتے ہیں کہ تعریف کرنے سے ملازمین کی توقعات بڑھ جائیں گی۔ اسی وجہ سے فیڈبیک سالانہ یا ششماہی تقریب بنتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملازمین فیڈبیک سے نفرت نہیں کرتے، بلکہ بے ترتیب اور بے سوچ فیڈبیک سے نفرت کرتے ہیں۔ جب میں رہنما سے پوچھتی ہوں کہ کیا آپ اپنی ٹیم کے ساتھ باقاعدہ ذاتی ملاقات (ون آن ون میٹنگ) کرتے ہیں، تو اکثر جواب ملتا ہے کہ ہم تو اکثر ملاقات کرتے ہیں۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ فیڈبیک کوئی ”غیر سنجیدہ“ سرگرمی نہیں بلکہ مخصوص، منظم اور اہم نظام ہونا چاہیے۔ اگر صحیح طریقے سے اور باقاعدگی سے دیا جائے تو یہ ملازمین کو بہتر ہونے اور ترقی کرنے میں مدد دیتا ہے۔ بصورتِ دیگر، جیسا کہ اکثر ہوتا ہے، یہ ایک ’میں بمقابلہ تم‘ کا تنازع بن جاتا ہے۔</p>
<p>پانچویں غلط فہمی: رہنما کو کارکنوں سے فاصلے پر رہنا چاہیے<br>کچھ رہنما یہ سوچتے ہیں کہ پیشہ ورانہ رویہ کا تقاضا ہے کہ وہ ملازمین سے فاصلے پر رہیں۔ وہ اچھے معاوضے اور سہولتیں دیتے ہیں اور ملازمین کی مصروفیت ایچ آر پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ہاں، ایچ آر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملازمین کی مصروفیت پر نظر رکھے، لیکن رہنما کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود ملازمین کو متحرک اور مصروف رکھے۔ حال ہی میں ایک کوچنگ اسائنمنٹ میں، میں نے مختلف رہنماؤں کا جائزہ لیا۔ سب سے متاثر کن رہنما وہ نہیں تھے جو بڑے فیصلوں کا اعلان کرتا، بلکہ وہ تھا جوملازمین سے سب سے زیادہ جڑا ہوا تھا۔ ملازمین نے کہا کہ ”وہ ہم سے بات کرتے ہیں، ہم سے پوچھتے ہیں، ہم سے مذاق کرتے ہیں۔“ یہی تعلق سب سے زیادہ حوصلہ افزا تھا، نہ کہ پانچ ستارہ دفاتر میں بڑے فیصلے۔</p>
<p>حقیقی قیادت کا مطلب<br>قیادت کا اصل مطلب یہ نہیں کہ ملازمین کو تنخواہوں کے ذریعے باندھ دیا جائے، بلکہ انہیں مقصد اور کام سے جوڑا جائے۔ قیادت اعلیٰ عہدوں پر بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ ٹیم کے درمیان بیٹھنے، انہیں سمجھنے اور ان کی ترقی کے لیے مدد کرنے کا ہے۔ لوگ وہ تحریک چاہتے ہیں جو انہیں دیکھے جانے، سراہے جانے، قدر دیے جانے اور شامل کیے جانے سے ملتی ہے۔ بری خبر یہ ہے کہ بہت کم رہنما ایسا کرتے ہیں، اچھی خبر یہ ہے کہ اس پر کوئی زیادہ خرچ نہیں آتا۔ خلاصہ یہ کہ قیادت کا مقصد صرف خود شمع محفل بننا نہیں، بلکہ اپنی روشنی سے دیگر دیپ جلانا اور انہیں روشن کرنا ہی اصل مقصد ہونا چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ، بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282961</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Feb 2026 20:24:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عندلیب عباس)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/18160912e54dacb.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/18160912e54dacb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
