<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:59:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:59:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282959/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو پیر کو بڑے پیمانے پر فروخت  کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے گرتے ہوئے اعتماد اور خطرات سے بچنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث مارکیٹ کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ تجرباتی مطالعات  نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر سرمایہ کاروں کی ایک محدود تعداد کا کنٹرول ہے جو اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق مارکیٹ کو چلانے یا اس میں ہیرا پھیری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق سے مزید یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگرچہ علاقائی مارکیٹوں کے مقابلے میں اس مارکیٹ کا حجم چھوٹا ہے تاہم یہاں ٹریڈنگ کی شرح زیادہ ہے جس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی وجہ میکرو اکنامک پالیسی میں تبدیلیاں ہیں، بالخصوص اسٹاک مارکیٹ کے پلیئرز پر عائد ٹیکسوں میں اضافے پر غور، کیونکہ اس ذریعے سے سالانہ ٹیکس وصولی 10 سے 15 ارب روپے سے بھی کم ہے جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت کی وصولیاں 100 ارب روپے سے زائد ہیں۔ اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے جاری پروگرام کے تحت ایف بی آر کے بجٹ شدہ ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے ان شعبوں پر ٹیکس بڑھانے کا شدید دباؤ ہے جہاں ٹیکس کم ہے یا سرے سے ہے ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نقادوں کا مزید یہ مؤقف ہے کہ مارکیٹ میں ہیرا پھیری کا تعلق موجودہ وزیرِ خزانہ کو درپیش کارکردگی کے چیلنج سے بھی ہوسکتا ہے، خاص طور پر اگر معیشت موجودہ حالات کی طرح ہچکولے کھاتی رہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ٹریڈنگ کی بلند سطح ان قلیل مدتی تاجروں کی نشاندہی کرتی ہے جو اسپیشل کیری فارورڈ ٹریڈنگ ارینجمنٹ (ایک مخصوص تجارتی سہولت) کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاہے صورتحال کچھ بھی ہو، عالمی سطح پر اس بات کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ اسٹاک مارکیٹ کے پلیئرز کل آبادی کا محض ایک بہت چھوٹا حصہ ہوتے ہیں اور یہ بات سمجھ میں آنے والی ہے کہ غریب اور پسماندہ طبقات اس کا حصہ نہیں ہوتے۔ یہ حقیقت جتنی نیو یارک اسٹاک ایکسچینج کے لیے درست ہے، اتنی ہی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لیے بھی صادق آتی ہے، اگرچہ حکومت کے ارکان مارکیٹ میں تیزی کو اپنی انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ عام عوام کو فائدہ نہیں پہنچاتا، اور پاکستان جیسے ملک میں جہاں ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق غربت کی شرح 42.4 فیصد ہے، وہاں توجہ کا مرکز جامع ترقی ہونی چاہیے۔ مزید برآں، یہ دلیل کہ ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی اسٹاک مارکیٹ روزگار کے مواقع پیدا کرے گی اور اس طرح فوائد غریبوں تک پہنچیں گے ، ایک ایسا نظریہ ہے جو ابھی تک دور دور تک درست ثابت نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے معاملے میں حیران کن بات یہ ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی متواتر رپورٹیں جو کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت سمجھی جاتی ہیں، درج ذیل دو عوامل کے ساتھ ہم آہنگ نظر نہیں آتیں: (1) فنانس ڈویژن کے جاری کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران پورٹ فولیو سرمایہ کاری منفی 225.1 ملین ڈالر رہی جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ منفی 221.8 ملین ڈالر تھی۔ (یاد رہے کہ جولائی 2024 سے جون 2025 کے پورے مالی سال کے دوران یہ حجم منفی 650.2 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا)۔(2)  مینوفیکچرنگ سیکٹر کے یہ دعوے کہ 150 سے زائد یونٹس بند ہوچکے ہیں، اس دلیل کو تقویت دیتے ہیں۔ اس صورتحال کی تصدیق حالیہ مہینوں میں کئی کثیر القومی کمپنیوں کے پاکستان سے جانے سے بھی ہوتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں مجموعی قومی پیداوارمیں اضافہ ہوا ہے، تاہم ماہرین کا اتفاق ہے کہ یہ اضافہ پیداوار بڑھنے کی وجہ سے نہیں بلکہ کھپت میں اضافے کے باعث پرانے اسٹاک میں کمی کی وجہ سے ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلاصہ یہ کہ، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کا انتظامی شعبہ اپنی اصلاحاتی پالیسیوں اور ان کی افادیت کو اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی سے الگ کردے۔ اس کے بجائے تمام تر توجہ ایسے ٹیکس اصلاحات پر مرکوز کی جانی چاہیے جو &lt;strong&gt;ادائیگی کی سکت&lt;/strong&gt; کے اصول پر مبنی ہوں، نہ کہ بالواسطہ ٹیکسوں  پر، جن کا بوجھ امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو پیر کو بڑے پیمانے پر فروخت  کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے گرتے ہوئے اعتماد اور خطرات سے بچنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث مارکیٹ کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ تجرباتی مطالعات  نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر سرمایہ کاروں کی ایک محدود تعداد کا کنٹرول ہے جو اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق مارکیٹ کو چلانے یا اس میں ہیرا پھیری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</strong></p>
<p>تحقیق سے مزید یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگرچہ علاقائی مارکیٹوں کے مقابلے میں اس مارکیٹ کا حجم چھوٹا ہے تاہم یہاں ٹریڈنگ کی شرح زیادہ ہے جس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی وجہ میکرو اکنامک پالیسی میں تبدیلیاں ہیں، بالخصوص اسٹاک مارکیٹ کے پلیئرز پر عائد ٹیکسوں میں اضافے پر غور، کیونکہ اس ذریعے سے سالانہ ٹیکس وصولی 10 سے 15 ارب روپے سے بھی کم ہے جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت کی وصولیاں 100 ارب روپے سے زائد ہیں۔ اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے جاری پروگرام کے تحت ایف بی آر کے بجٹ شدہ ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے ان شعبوں پر ٹیکس بڑھانے کا شدید دباؤ ہے جہاں ٹیکس کم ہے یا سرے سے ہے ہی نہیں۔</p>
<p>نقادوں کا مزید یہ مؤقف ہے کہ مارکیٹ میں ہیرا پھیری کا تعلق موجودہ وزیرِ خزانہ کو درپیش کارکردگی کے چیلنج سے بھی ہوسکتا ہے، خاص طور پر اگر معیشت موجودہ حالات کی طرح ہچکولے کھاتی رہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ٹریڈنگ کی بلند سطح ان قلیل مدتی تاجروں کی نشاندہی کرتی ہے جو اسپیشل کیری فارورڈ ٹریڈنگ ارینجمنٹ (ایک مخصوص تجارتی سہولت) کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔</p>
<p>چاہے صورتحال کچھ بھی ہو، عالمی سطح پر اس بات کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ اسٹاک مارکیٹ کے پلیئرز کل آبادی کا محض ایک بہت چھوٹا حصہ ہوتے ہیں اور یہ بات سمجھ میں آنے والی ہے کہ غریب اور پسماندہ طبقات اس کا حصہ نہیں ہوتے۔ یہ حقیقت جتنی نیو یارک اسٹاک ایکسچینج کے لیے درست ہے، اتنی ہی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لیے بھی صادق آتی ہے، اگرچہ حکومت کے ارکان مارکیٹ میں تیزی کو اپنی انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ عام عوام کو فائدہ نہیں پہنچاتا، اور پاکستان جیسے ملک میں جہاں ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق غربت کی شرح 42.4 فیصد ہے، وہاں توجہ کا مرکز جامع ترقی ہونی چاہیے۔ مزید برآں، یہ دلیل کہ ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی اسٹاک مارکیٹ روزگار کے مواقع پیدا کرے گی اور اس طرح فوائد غریبوں تک پہنچیں گے ، ایک ایسا نظریہ ہے جو ابھی تک دور دور تک درست ثابت نہیں ہو سکا۔</p>
<p>پاکستان کے معاملے میں حیران کن بات یہ ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی متواتر رپورٹیں جو کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت سمجھی جاتی ہیں، درج ذیل دو عوامل کے ساتھ ہم آہنگ نظر نہیں آتیں: (1) فنانس ڈویژن کے جاری کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران پورٹ فولیو سرمایہ کاری منفی 225.1 ملین ڈالر رہی جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ منفی 221.8 ملین ڈالر تھی۔ (یاد رہے کہ جولائی 2024 سے جون 2025 کے پورے مالی سال کے دوران یہ حجم منفی 650.2 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا)۔(2)  مینوفیکچرنگ سیکٹر کے یہ دعوے کہ 150 سے زائد یونٹس بند ہوچکے ہیں، اس دلیل کو تقویت دیتے ہیں۔ اس صورتحال کی تصدیق حالیہ مہینوں میں کئی کثیر القومی کمپنیوں کے پاکستان سے جانے سے بھی ہوتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں مجموعی قومی پیداوارمیں اضافہ ہوا ہے، تاہم ماہرین کا اتفاق ہے کہ یہ اضافہ پیداوار بڑھنے کی وجہ سے نہیں بلکہ کھپت میں اضافے کے باعث پرانے اسٹاک میں کمی کی وجہ سے ہوا ہے۔</p>
<p>خلاصہ یہ کہ، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کا انتظامی شعبہ اپنی اصلاحاتی پالیسیوں اور ان کی افادیت کو اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی سے الگ کردے۔ اس کے بجائے تمام تر توجہ ایسے ٹیکس اصلاحات پر مرکوز کی جانی چاہیے جو <strong>ادائیگی کی سکت</strong> کے اصول پر مبنی ہوں، نہ کہ بالواسطہ ٹیکسوں  پر، جن کا بوجھ امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282959</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Feb 2026 15:25:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/18145458e139faf.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/18145458e139faf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
