<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:22:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:22:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیزی سے بڑھتی لاگت: کیمیکل مینوفیکچررز کا حکومت سے پالیسی میں بنیادی تبدیلی کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282954/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے کیمیکل سیکٹر نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں،  ٹیرِف میں غیر متوازن صورتحال اور ریگولیٹری نظام کی مسلسل نااہلی اس شعبے کی مسابقت  کو ختم کررہی ہے اور ملکی سطح پر ویلیو ایڈیشن کو کمزور بنارہی ہے۔ صنعت نے حکومت پر زور دیا کہ وہ صنعتی ترقی کے فروغ کیلئے فوری طور پر ڈھانچہ جاتی اصلاحات نافذ کرے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خدشات پاکستان کیمیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی سی ایم اے) کے نمائندوں نے وزیرِ تجارت جام کمال خان کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران اٹھائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اس ملاقات کا مقصد کیمیکل سیکٹر کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لینا اور پاکستان کے صنعتی و برآمدی فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران پاکستان کیمیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن  کے وفد نے کیمیکل سیکٹر کی کارکردگی کے حوالے سے اپنے خدشات پیش کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین پی سی ایم اے نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں، مالیاتی رکاوٹوں ، ٹیرف کی نامناسب شرح اور ریگولیٹری نظام کی نااہلی نے مقامی مینوفیکچررز پر شدید دباؤ پیدا کردیا ہے۔ وفد نے نشاندہی کی کہ کچھ خام مال بہت کم یا زیرو ڈیوٹی پر درآمد کیا جارہا ہے لیکن اس کے بدلے میں برآمدات میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال ملکی سطح پر ویلیو ایڈیشن (مصنوعات کی قدر میں اضافے) کے عمل کو کمزور کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی نمائندگان نے مارکیٹ سے غیر معیاری اور جعلی مصنوعات کے خاتمے کے لیے کوالٹی کے معیار کو مضبوط بنانے اور دانشورانہ ملکیت  کے قوانین کے سخت نفاذ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بہتر معیار اور مستقل ریگولیٹری نگرانی سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور  غیر ملکی تعاون کی حوصلہ افزائی کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے مزید اس بات پر زور دیا کہ صنعتی ترقی کو صرف برآمدی اعدادوشمار  کے تناظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ اسے وسیع تر معاشی اشاریوں جیسے کہ روزگار کی فراہمی، ٹیکس نیٹ میں اضافہ اور مقامی مارکیٹ کی ترقی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جام کمال نے زور دیا کہ پاکستان کے معاشی چیلنجز محض پالیسی سے متعلق نہیں بلکہ ان کا زیادہ تر تعلق گورننس اور عملدرآمد کے فقدان  سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ تجارت جام کمال خان نے اس بات پر زور دیا کہ اندروانی نظام میں بہتری لائے بغیرجس میں کسٹمز کے طریقہ کار، ریگولیٹری نفاذ، معیارات کی پاسداری اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی شامل ہے حکومت کی جانب سے دی جانے والی کوئی بھی رعایت یا تجارتی مراعات مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ تجارتی اور صنعتی پالیسیوں کو حقیقی معاشی ترقی میں بدلنے کے لیے بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ تجارت نے برآمدی بنیادوں میں تنوع لانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ اگرچہ ٹیکسٹائل کا شعبہ برآمدات میں سب سے بڑا حصہ ڈال رہا ہے، لیکن معاشی استحکام  کو یقینی بنانے کے لیے کیمیکلز، فارماسیوٹیکلز، جراحی کے آلات ، فوڈ پروسیسنگ، اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وزیرِ اعظم کا وسیع تر معاشی وژن غیر روایتی برآمدی شعبوں کے لیے مواقع بڑھانے پر بھرپور زور دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی مذاکرات کے حوالے سے جام کمال نے کہا کہ پاکستان کو اسٹریٹجک بنیادوں پر ان ممالک کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے جہاں پاکستان کو بڑے پیمانے پر تجارتی عدم توازن کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تجویز دی کہ جن ممالک سے درآمدات کا حجم بہت زیادہ ہے، وہاں تجارتی توازن کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان اپنی منتخب مقامی مصنوعات کے لیے ترجیحی مارکیٹ رسائی  کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹھوس نتائج حاصل کرنے کے لیے تجارتی مذاکرات لازمی طور پر اعداد و شمار اور مخصوص شعبوں  پر مبنی ہونے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدی سہولیات کے طریقہ کار  پر بات کرتے ہوئے، وفاقی وزیر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ شفافیت کو یقینی بنانے اور مراعات کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اثرات پر مبنی تشخیص  ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مستقبل کی پالیسیوں میں کسی بھی تبدیلی سے پہلے موجودہ اسکیموں کا ایک تفصیلی جائزہ لینے کی تجویز کی حمایت کی تاکہ برآمدی فوائد، ریونیو پر پڑنے والے اثرات اور صنعتی سطح پر ہونے والے فوائد کی پیمائش کی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے اختتام پر جام کمال نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کی تجاویز کا بغور جائزہ لیا جائے گا اور جہاں مناسب ہوا، انہیں جاری پالیسی سازی کے عمل میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے پاکستان کے لیے ایک ایسی صنعتی حکمتِ عملی کے فروغ کے لیے وزارت کے عزم کا اعادہ کیا جو تحقیق پر مبنی، شفاف اور ترقی کی حامل ہو اور جس کے لیے صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے کیمیکل سیکٹر نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں،  ٹیرِف میں غیر متوازن صورتحال اور ریگولیٹری نظام کی مسلسل نااہلی اس شعبے کی مسابقت  کو ختم کررہی ہے اور ملکی سطح پر ویلیو ایڈیشن کو کمزور بنارہی ہے۔ صنعت نے حکومت پر زور دیا کہ وہ صنعتی ترقی کے فروغ کیلئے فوری طور پر ڈھانچہ جاتی اصلاحات نافذ کرے۔</strong></p>
<p>یہ خدشات پاکستان کیمیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی سی ایم اے) کے نمائندوں نے وزیرِ تجارت جام کمال خان کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران اٹھائے۔</p>
<p>بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اس ملاقات کا مقصد کیمیکل سیکٹر کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لینا اور پاکستان کے صنعتی و برآمدی فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔</p>
<p>ملاقات کے دوران پاکستان کیمیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن  کے وفد نے کیمیکل سیکٹر کی کارکردگی کے حوالے سے اپنے خدشات پیش کیے۔</p>
<p>چیئرمین پی سی ایم اے نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں، مالیاتی رکاوٹوں ، ٹیرف کی نامناسب شرح اور ریگولیٹری نظام کی نااہلی نے مقامی مینوفیکچررز پر شدید دباؤ پیدا کردیا ہے۔ وفد نے نشاندہی کی کہ کچھ خام مال بہت کم یا زیرو ڈیوٹی پر درآمد کیا جارہا ہے لیکن اس کے بدلے میں برآمدات میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال ملکی سطح پر ویلیو ایڈیشن (مصنوعات کی قدر میں اضافے) کے عمل کو کمزور کررہی ہے۔</p>
<p>صنعتی نمائندگان نے مارکیٹ سے غیر معیاری اور جعلی مصنوعات کے خاتمے کے لیے کوالٹی کے معیار کو مضبوط بنانے اور دانشورانہ ملکیت  کے قوانین کے سخت نفاذ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔</p>
<p>انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بہتر معیار اور مستقل ریگولیٹری نگرانی سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور  غیر ملکی تعاون کی حوصلہ افزائی کرے گی۔</p>
<p>وفد نے مزید اس بات پر زور دیا کہ صنعتی ترقی کو صرف برآمدی اعدادوشمار  کے تناظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ اسے وسیع تر معاشی اشاریوں جیسے کہ روزگار کی فراہمی، ٹیکس نیٹ میں اضافہ اور مقامی مارکیٹ کی ترقی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔</p>
<p>دوسری جانب جام کمال نے زور دیا کہ پاکستان کے معاشی چیلنجز محض پالیسی سے متعلق نہیں بلکہ ان کا زیادہ تر تعلق گورننس اور عملدرآمد کے فقدان  سے ہے۔</p>
<p>وزیرِ تجارت جام کمال خان نے اس بات پر زور دیا کہ اندروانی نظام میں بہتری لائے بغیرجس میں کسٹمز کے طریقہ کار، ریگولیٹری نفاذ، معیارات کی پاسداری اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی شامل ہے حکومت کی جانب سے دی جانے والی کوئی بھی رعایت یا تجارتی مراعات مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے گی۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ تجارتی اور صنعتی پالیسیوں کو حقیقی معاشی ترقی میں بدلنے کے لیے بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔</p>
<p>وزیرِ تجارت نے برآمدی بنیادوں میں تنوع لانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ اگرچہ ٹیکسٹائل کا شعبہ برآمدات میں سب سے بڑا حصہ ڈال رہا ہے، لیکن معاشی استحکام  کو یقینی بنانے کے لیے کیمیکلز، فارماسیوٹیکلز، جراحی کے آلات ، فوڈ پروسیسنگ، اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وزیرِ اعظم کا وسیع تر معاشی وژن غیر روایتی برآمدی شعبوں کے لیے مواقع بڑھانے پر بھرپور زور دیتا ہے۔</p>
<p>تجارتی مذاکرات کے حوالے سے جام کمال نے کہا کہ پاکستان کو اسٹریٹجک بنیادوں پر ان ممالک کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے جہاں پاکستان کو بڑے پیمانے پر تجارتی عدم توازن کا سامنا ہے۔</p>
<p>انہوں نے تجویز دی کہ جن ممالک سے درآمدات کا حجم بہت زیادہ ہے، وہاں تجارتی توازن کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان اپنی منتخب مقامی مصنوعات کے لیے ترجیحی مارکیٹ رسائی  کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹھوس نتائج حاصل کرنے کے لیے تجارتی مذاکرات لازمی طور پر اعداد و شمار اور مخصوص شعبوں  پر مبنی ہونے چاہئیں۔</p>
<p>برآمدی سہولیات کے طریقہ کار  پر بات کرتے ہوئے، وفاقی وزیر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ شفافیت کو یقینی بنانے اور مراعات کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اثرات پر مبنی تشخیص  ناگزیر ہے۔</p>
<p>انہوں نے مستقبل کی پالیسیوں میں کسی بھی تبدیلی سے پہلے موجودہ اسکیموں کا ایک تفصیلی جائزہ لینے کی تجویز کی حمایت کی تاکہ برآمدی فوائد، ریونیو پر پڑنے والے اثرات اور صنعتی سطح پر ہونے والے فوائد کی پیمائش کی جاسکے۔</p>
<p>اجلاس کے اختتام پر جام کمال نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کی تجاویز کا بغور جائزہ لیا جائے گا اور جہاں مناسب ہوا، انہیں جاری پالیسی سازی کے عمل میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے پاکستان کے لیے ایک ایسی صنعتی حکمتِ عملی کے فروغ کے لیے وزارت کے عزم کا اعادہ کیا جو تحقیق پر مبنی، شفاف اور ترقی کی حامل ہو اور جس کے لیے صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282954</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Feb 2026 13:28:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/1812551546937dc.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/1812551546937dc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
