<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:24:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:24:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کمبوڈیا کے وزیر اعظم کا تھائی لینڈ پر قبضہ گیری کا الزام، ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد نیا تنازع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282952/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہن مانیٹ نے رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں الزام عائد کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے کے باوجود تھائی افواج کمبوڈیا کے علاقوں پر قابض ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے  بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن موجود ہن مانیٹ نے سرحد پر صورتحال کو نازک قرار دیتے ہوئے تھائی لینڈ پر زور دیا کہ وہ متنازع سرحد کی حد بندی کے لیے مشترکہ باؤنڈری کمیشن (جے بی سی) کو کام شروع کرنے کی اجازت دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہن مانیٹ کے مطابق تھائی فوجیوں نے کمبوڈیا کی حدود میں خاردار تاریں اور شپنگ کنٹینرز لگا رکھے ہیں، جو ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب تھائی لینڈ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ فوجی پوزیشنز صرف کشیدگی میں کمی کے اقدامات کا حصہ ہیں۔ واضح رہے کہ جولائی میں شروع ہونے والی بدترین لڑائی نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہن مانیٹ نے امید ظاہر کی کہ تھائی لینڈ میں انتخابات کے اختتام کے بعد اب تکنیکی سطح پر حد بندی کا کام جلد شروع ہو سکے گا، تاکہ سرحدی علاقوں میں معمولاتِ زندگی بحال ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہن مانیٹ نے رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں الزام عائد کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے کے باوجود تھائی افواج کمبوڈیا کے علاقوں پر قابض ہیں۔</strong></p>
<p>ٹرمپ کے  بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن موجود ہن مانیٹ نے سرحد پر صورتحال کو نازک قرار دیتے ہوئے تھائی لینڈ پر زور دیا کہ وہ متنازع سرحد کی حد بندی کے لیے مشترکہ باؤنڈری کمیشن (جے بی سی) کو کام شروع کرنے کی اجازت دے۔</p>
<p>ہن مانیٹ کے مطابق تھائی فوجیوں نے کمبوڈیا کی حدود میں خاردار تاریں اور شپنگ کنٹینرز لگا رکھے ہیں، جو ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب تھائی لینڈ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ فوجی پوزیشنز صرف کشیدگی میں کمی کے اقدامات کا حصہ ہیں۔ واضح رہے کہ جولائی میں شروع ہونے والی بدترین لڑائی نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا تھا۔</p>
<p>ہن مانیٹ نے امید ظاہر کی کہ تھائی لینڈ میں انتخابات کے اختتام کے بعد اب تکنیکی سطح پر حد بندی کا کام جلد شروع ہو سکے گا، تاکہ سرحدی علاقوں میں معمولاتِ زندگی بحال ہو سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282952</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Feb 2026 13:15:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/1813101252882b6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/1813101252882b6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
