<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:50:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:50:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکسٹائل برآمدات 1.25 فیصد اضافے کے ساتھ 10.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282946/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رواں مالی سال 2025-26 کے پہلے 7 ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات 1.25 فیصد اضافے کے ساتھ 10.904 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں،  مالی سال 2024-25 کے اسی عرصے کے دوران  ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات  10.777 ارب ڈالر تھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا جنوری پاکستان نے 3.098 ارب ڈالر کی نِٹ ویئر برآمد کی جبکہ گزشتہ برس یہ حجم 3.033 ارب ڈالر تھا۔ اسی طرح بیڈ ویئر کی برآمدات 1.868 ارب ڈالر کے مقابلے میں 1.92 ارب ڈالر، ریڈی میڈ گارمنٹس 2.441 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2.58 ارب ڈالر اور سوتی کپڑا 1.129 ارب ڈالر کے مقابلے میں 992.17 ملین ڈالر رہا۔ علاوہ ازیں میڈ اپ آرٹیکلزکی برآمدات 660.32 ملین ڈالر کے مقابلے میں 469 ملین ڈالر جبکہ دیگر ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات 432.92 ملین ڈالر کے مقابلے میں 457.5 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب فوڈ گروپ  کی برآمدات جس میں چاول کی برآمدات بھی شامل ہیں، جولائی تا جنوری 35.29 فیصد کی نمایاں کمی کا شکار ہوئی ہیں۔ اس گروپ کی مجموعی برآمدات 2.989 ارب ڈالر رہیں جبکہ مالی سال 2024-25 کے اسی عرصے میں یہ حجم 4.614 ارب ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاول کی مجموعی برآمدات میں 40.51 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو 2.194 ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.305 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔ اس میں باسمتی چاول کی برآمدات 6.62 فیصد کمی کے ساتھ 477.7 ملین ڈالر رہیں (جو گزشتہ برس 571.6 ملین ڈالر تھیں)، جبکہ اری-6  کی برآمدات میں 50.9 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی، جو 1.62 ارب ڈالر کے مقابلے میں صرف 827.8 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری 2026 کے دوران برآمد کی جانے والی اہم اشیاء میں ریڈی میڈ گارمنٹس 121.818 ارب روپے کے ساتھ سرفہرست رہے۔ اس کے بعد نِٹ ویئر 119.897 ارب روپے، بیڈ ویئر 86.381 ارب روپے، باسمتی چاول 55.840 ارب روپے، اور اری-6  چاول 46.620 ارب روپے کے ساتھ اہم برآمدات رہیں۔ دیگر اشیاء میں سوتی کپڑا 46.219 ارب روپے، تولیے 32.569 ارب روپے، میڈ اپ آرٹیکلز (تولیے اور بیڈ ویئر کے علاوہ) 22.674 ارب روپے، سوتی دھاگا  20.574 ارب روپے، اور پیٹرولیم مصنوعات (ٹاپ نیفتھا کے علاوہ) 18.822 ارب روپے ریکارڈ کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری 2026 کے دوران درآمد کی جانے والی اہم اشیاء میں خام پٹرولیم  109.678 ارب روپے کی مالیت کے ساتھ سرفہرست رہا۔ اس کے بعد پام آئل 102.871 ارب روپے، پیٹرولیم مصنوعات 85.740 ارب روپے اور پلاسٹک میٹریل 76.775 ارب روپے کی اہم درآمدات رہیں۔ دیگر بڑی درآمدی اشیاء میں لوہا اور اسٹیل 74.944 ارب روپے، مائع قدرتی گیس  74.841 ارب روپے، برقی مشینری اور آلات 59.963 ارب روپے، لوہے اور اسٹیل کا اسکریپ 56.188 ارب روپے، موبائل فونز 50.287 ارب روپے، اور موٹر کاریں  45.498 ارب روپے ریکارڈ کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات کے مطابق مالی سال 2025-26 کے پہلے سات ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران پاکستان کی مجموعی برآمدات 18.190 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ برس کے اسی عرصے میں 19.583 ارب ڈالر تھیں؛ یوں برآمدات میں 7.11 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسی عرصے کے دوران ملک کی درآمدات 40.260 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے 36.771 ارب ڈالر کے مقابلے میں 9.49 فیصد زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ مالی سال کے پہلے 7 مہینوں کے دوران ملک کا بیلنس آف پیمنٹس منفی 22.07 بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف خوراک کی درآمدات پر نظر ڈالی جائے تو 2025-26 کے ان سات مہینوں میں 5.5 ارب ڈالر کی غذائی اشیاء درآمد کی گئیں جو گزشتہ سال کے 4.614 ارب ڈالر کے مقابلے میں 19.26 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران دھاتوں کی درآمدات 3.88 ارب ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ حجم 3.263 ارب ڈالر تھا، جو 18.8 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس مجموعی اضافے میں لوہے، اسٹیل اور اسکریپ کی درآمدات 7.47 فیصد اضافے کے ساتھ 1.24 ارب ڈالر رہیں (جو پہلے 1.157 ارب ڈالر تھیں)۔ اسی طرح، لوہے اور اسٹیل (تیار شدہ) کی درآمدات میں 31 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا جس کا حجم 1.243 ارب ڈالر سے بڑھ کر 1.63 ارب ڈالر ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران پٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل 9.046 ارب ڈالر تک جا پہنچا جو کہ توانائی کے لیے درآمدات پر پاکستان کے مسلسل اور گہرے انحصار کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب درآمدی زرعی اشیاء بشمول کھاد، کیڑے مار ادویات اور کیمیکلز کا مجموعی حجم 6.27 ارب ڈالر رہا، جو کہ مالی سال 2024-25 کے 5.76 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8.9 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اضافی درآمدات میں ربڑ کی مصنوعات، ٹائر، لکڑی اور پیپر بورڈ شامل ہیں، جن میں 10.68 فیصد اضافہ ہوا اور ان کا حجم 695 ملین ڈالر رہا۔ اس کے علاوہ 3.95 ارب ڈالر مالیت کی ٹیکسٹائل مصنوعات جیسے کہ خام کپاس، مصنوعی ریشہ اور ریشمی دھاگا بھی درآمد کیا گیا۔ دستاویز میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ علاقائی عدم استحکام پاکستان کی برآمدات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ خاص طور پر افغانستان کے ساتھ تجارت گزشتہ چار ماہ سے بند ہے جس کی بڑی وجہ افغان طالبان حکومت کا طرزِ عمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رواں مالی سال 2025-26 کے پہلے 7 ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات 1.25 فیصد اضافے کے ساتھ 10.904 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں،  مالی سال 2024-25 کے اسی عرصے کے دوران  ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات  10.777 ارب ڈالر تھیں۔</strong></p>
<p>ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا جنوری پاکستان نے 3.098 ارب ڈالر کی نِٹ ویئر برآمد کی جبکہ گزشتہ برس یہ حجم 3.033 ارب ڈالر تھا۔ اسی طرح بیڈ ویئر کی برآمدات 1.868 ارب ڈالر کے مقابلے میں 1.92 ارب ڈالر، ریڈی میڈ گارمنٹس 2.441 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2.58 ارب ڈالر اور سوتی کپڑا 1.129 ارب ڈالر کے مقابلے میں 992.17 ملین ڈالر رہا۔ علاوہ ازیں میڈ اپ آرٹیکلزکی برآمدات 660.32 ملین ڈالر کے مقابلے میں 469 ملین ڈالر جبکہ دیگر ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات 432.92 ملین ڈالر کے مقابلے میں 457.5 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔</p>
<p>دوسری جانب فوڈ گروپ  کی برآمدات جس میں چاول کی برآمدات بھی شامل ہیں، جولائی تا جنوری 35.29 فیصد کی نمایاں کمی کا شکار ہوئی ہیں۔ اس گروپ کی مجموعی برآمدات 2.989 ارب ڈالر رہیں جبکہ مالی سال 2024-25 کے اسی عرصے میں یہ حجم 4.614 ارب ڈالر تھا۔</p>
<p>چاول کی مجموعی برآمدات میں 40.51 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو 2.194 ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.305 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔ اس میں باسمتی چاول کی برآمدات 6.62 فیصد کمی کے ساتھ 477.7 ملین ڈالر رہیں (جو گزشتہ برس 571.6 ملین ڈالر تھیں)، جبکہ اری-6  کی برآمدات میں 50.9 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی، جو 1.62 ارب ڈالر کے مقابلے میں صرف 827.8 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔</p>
<p>جنوری 2026 کے دوران برآمد کی جانے والی اہم اشیاء میں ریڈی میڈ گارمنٹس 121.818 ارب روپے کے ساتھ سرفہرست رہے۔ اس کے بعد نِٹ ویئر 119.897 ارب روپے، بیڈ ویئر 86.381 ارب روپے، باسمتی چاول 55.840 ارب روپے، اور اری-6  چاول 46.620 ارب روپے کے ساتھ اہم برآمدات رہیں۔ دیگر اشیاء میں سوتی کپڑا 46.219 ارب روپے، تولیے 32.569 ارب روپے، میڈ اپ آرٹیکلز (تولیے اور بیڈ ویئر کے علاوہ) 22.674 ارب روپے، سوتی دھاگا  20.574 ارب روپے، اور پیٹرولیم مصنوعات (ٹاپ نیفتھا کے علاوہ) 18.822 ارب روپے ریکارڈ کی گئیں۔</p>
<p>جنوری 2026 کے دوران درآمد کی جانے والی اہم اشیاء میں خام پٹرولیم  109.678 ارب روپے کی مالیت کے ساتھ سرفہرست رہا۔ اس کے بعد پام آئل 102.871 ارب روپے، پیٹرولیم مصنوعات 85.740 ارب روپے اور پلاسٹک میٹریل 76.775 ارب روپے کی اہم درآمدات رہیں۔ دیگر بڑی درآمدی اشیاء میں لوہا اور اسٹیل 74.944 ارب روپے، مائع قدرتی گیس  74.841 ارب روپے، برقی مشینری اور آلات 59.963 ارب روپے، لوہے اور اسٹیل کا اسکریپ 56.188 ارب روپے، موبائل فونز 50.287 ارب روپے، اور موٹر کاریں  45.498 ارب روپے ریکارڈ کی گئیں۔</p>
<hr />
<p>ادارہ شماریات کے مطابق مالی سال 2025-26 کے پہلے سات ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران پاکستان کی مجموعی برآمدات 18.190 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ برس کے اسی عرصے میں 19.583 ارب ڈالر تھیں؛ یوں برآمدات میں 7.11 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب اسی عرصے کے دوران ملک کی درآمدات 40.260 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے 36.771 ارب ڈالر کے مقابلے میں 9.49 فیصد زیادہ ہیں۔</p>
<p>اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ مالی سال کے پہلے 7 مہینوں کے دوران ملک کا بیلنس آف پیمنٹس منفی 22.07 بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔</p>
<p>صرف خوراک کی درآمدات پر نظر ڈالی جائے تو 2025-26 کے ان سات مہینوں میں 5.5 ارب ڈالر کی غذائی اشیاء درآمد کی گئیں جو گزشتہ سال کے 4.614 ارب ڈالر کے مقابلے میں 19.26 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔</p>
<p>رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران دھاتوں کی درآمدات 3.88 ارب ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ حجم 3.263 ارب ڈالر تھا، جو 18.8 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس مجموعی اضافے میں لوہے، اسٹیل اور اسکریپ کی درآمدات 7.47 فیصد اضافے کے ساتھ 1.24 ارب ڈالر رہیں (جو پہلے 1.157 ارب ڈالر تھیں)۔ اسی طرح، لوہے اور اسٹیل (تیار شدہ) کی درآمدات میں 31 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا جس کا حجم 1.243 ارب ڈالر سے بڑھ کر 1.63 ارب ڈالر ہو گیا۔</p>
<p>رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران پٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل 9.046 ارب ڈالر تک جا پہنچا جو کہ توانائی کے لیے درآمدات پر پاکستان کے مسلسل اور گہرے انحصار کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب درآمدی زرعی اشیاء بشمول کھاد، کیڑے مار ادویات اور کیمیکلز کا مجموعی حجم 6.27 ارب ڈالر رہا، جو کہ مالی سال 2024-25 کے 5.76 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8.9 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>اضافی درآمدات میں ربڑ کی مصنوعات، ٹائر، لکڑی اور پیپر بورڈ شامل ہیں، جن میں 10.68 فیصد اضافہ ہوا اور ان کا حجم 695 ملین ڈالر رہا۔ اس کے علاوہ 3.95 ارب ڈالر مالیت کی ٹیکسٹائل مصنوعات جیسے کہ خام کپاس، مصنوعی ریشہ اور ریشمی دھاگا بھی درآمد کیا گیا۔ دستاویز میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ علاقائی عدم استحکام پاکستان کی برآمدات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ خاص طور پر افغانستان کے ساتھ تجارت گزشتہ چار ماہ سے بند ہے جس کی بڑی وجہ افغان طالبان حکومت کا طرزِ عمل ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282946</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Feb 2026 12:35:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/181234565431da5.webp" type="image/webp" medium="image" height="541" width="780">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/181234565431da5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
