<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 00:37:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 00:37:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ ، عالمی بینک کے مالی تعاون سے جاری پروجیکٹ نتائج فراہم کرنے میں ناکام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282944/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی بینک کے مالی تعاون سے شروع کیا گیا 78 ملین ڈالر کا ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروجیکٹ جس کا مقصد بزنس رجسٹریشن، لائسنسنگ اور حکومت سے کاروباری اداروں کو فراہم کی جانے والی خدمات کو سہل بنانا تھا، عملی سطح پر نتائج فراہم کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ منظوری کے تقریباً 2 سال بعد بھی پاکستان بزنس پورٹل پر صفر ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں جبکہ فنڈز کا استعمال صرف 7 فیصد سے کچھ زائد رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کی سرکاری دستاویزات میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگرچہ ادارہ جاتی ڈھانچےکا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے لیکن کاروبار سے متعلق براہِ راست استعمال ہونے والے مرکزی اجزاء  اب بھی غیر فعال ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کے سیکشن 2 کے تحت پاکستان بزنس پورٹل کو رجسٹریشن، لائسنس، سرٹیفکیٹس اور دیگر ریگولیٹری منظوریوں کو ڈیجیٹل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا تاکہ قواعد و ضوابط کی تعمیل کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے اور کاروباری آسانی  کو بہتر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم رپورٹ تصدیق کرتی ہے کہ آج تک کوئی بھی رجسٹریشن، لائسنس، سرٹیفکیٹس اور دیگر  لین دین عمل میں نہیں آیا اور کوئی بھی بی ٹو جی خدمات آن لائن منتقل نہیں کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ 2024 میں منظور ہونے والے اس منصوبے کے لیے اب تک صرف 5.32 ملین ڈالر جاری کیے گئے ہیں جو کہ کل مالیاتی فنڈ کا محض 7.39 فیصد بنتا ہے۔ شیڈول کے مطابق یہ منصوبہ 31 جولائی 2028 کو ختم ہونا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کا ترقیاتی مقصد شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے ڈیجیٹل طور پر بااختیار سرکاری خدمات کی فراہمی  کے حوالے سے حکومت کی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کے بنیادی مقاصد کے حصول کی مجموعی رفتار کو قدرے اطمینان بخش  قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس پر عملدرآمد کی پیش رفت بھی قدرے اطمینان بخش ہی رہی ہے۔ خطرے کی مجموعی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے اور یہ بڑے خطرے  سے کم ہو کر متوسط درجے پر آ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویزات کے مطابق اگست 2025 میں قومی ڈیجیٹل شناختی نظام کے سافٹ لانچ کے بعد سے پاکستان اب تک تقریباً 8 لاکھ 50 ہزار ڈیجیٹل آئی ڈیزجاری کر چکا ہے جو اس منصوبے کے تحت ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ڈیجیٹل آئی ڈی کے اس اجرا کا آغاز ’ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کے نفاذ کے بعد ہوا جس نے باضابطہ طور پر ملک کے ڈیجیٹل حکومتی ادارہ جاتی ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔ اگست سے دسمبر 2025 کے درمیان کل 849,177 ڈیجیٹل آئی ڈیز جاری کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے دستیاب ڈیجیٹل والٹ اس وقت سات ایسی دستاویزات  فراہم کر رہا ہے جن کی ڈیجیٹل تصدیق ممکن ہے۔ ان میں فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ، گاڑی کی رجسٹریشن کے کاغذات، ویکسینیشن سرٹیفکیٹ اور ڈی مٹیریلائزڈ (ڈیجیٹل) قومی شناختی کارڈ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل ڈیٹا ایکسچینج لیئر جو مختلف اداروں کے درمیان ڈیٹا کے تبادلے کے لیے ایک مرکزی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اب تک 1.2 ملین ٹرانزیکشنز مکمل کر چکی ہے۔ جنوری 2026 تک سات بڑے ادارے اس پلیٹ فارم سے منسلک ہو چکے ہیں۔ مزید برآں، وفاقی حکومت نے ڈیجیٹل آئی ڈی اور این ڈی ایکس ایل کو چلانے والے ضوابط کی بھی منظوری دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی بینک کے مالی تعاون سے شروع کیا گیا 78 ملین ڈالر کا ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروجیکٹ جس کا مقصد بزنس رجسٹریشن، لائسنسنگ اور حکومت سے کاروباری اداروں کو فراہم کی جانے والی خدمات کو سہل بنانا تھا، عملی سطح پر نتائج فراہم کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ منظوری کے تقریباً 2 سال بعد بھی پاکستان بزنس پورٹل پر صفر ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں جبکہ فنڈز کا استعمال صرف 7 فیصد سے کچھ زائد رہا۔</strong></p>
<p>عالمی بینک کی سرکاری دستاویزات میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگرچہ ادارہ جاتی ڈھانچےکا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے لیکن کاروبار سے متعلق براہِ راست استعمال ہونے والے مرکزی اجزاء  اب بھی غیر فعال ہیں۔</p>
<p>منصوبے کے سیکشن 2 کے تحت پاکستان بزنس پورٹل کو رجسٹریشن، لائسنس، سرٹیفکیٹس اور دیگر ریگولیٹری منظوریوں کو ڈیجیٹل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا تاکہ قواعد و ضوابط کی تعمیل کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے اور کاروباری آسانی  کو بہتر بنایا جا سکے۔</p>
<p>تاہم رپورٹ تصدیق کرتی ہے کہ آج تک کوئی بھی رجسٹریشن، لائسنس، سرٹیفکیٹس اور دیگر  لین دین عمل میں نہیں آیا اور کوئی بھی بی ٹو جی خدمات آن لائن منتقل نہیں کی گئی ہیں۔</p>
<p>مارچ 2024 میں منظور ہونے والے اس منصوبے کے لیے اب تک صرف 5.32 ملین ڈالر جاری کیے گئے ہیں جو کہ کل مالیاتی فنڈ کا محض 7.39 فیصد بنتا ہے۔ شیڈول کے مطابق یہ منصوبہ 31 جولائی 2028 کو ختم ہونا ہے۔</p>
<p>اس منصوبے کا ترقیاتی مقصد شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے ڈیجیٹل طور پر بااختیار سرکاری خدمات کی فراہمی  کے حوالے سے حکومت کی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے۔</p>
<p>منصوبے کے بنیادی مقاصد کے حصول کی مجموعی رفتار کو قدرے اطمینان بخش  قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس پر عملدرآمد کی پیش رفت بھی قدرے اطمینان بخش ہی رہی ہے۔ خطرے کی مجموعی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے اور یہ بڑے خطرے  سے کم ہو کر متوسط درجے پر آ گئی ہے۔</p>
<p>دستاویزات کے مطابق اگست 2025 میں قومی ڈیجیٹل شناختی نظام کے سافٹ لانچ کے بعد سے پاکستان اب تک تقریباً 8 لاکھ 50 ہزار ڈیجیٹل آئی ڈیزجاری کر چکا ہے جو اس منصوبے کے تحت ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ڈیجیٹل آئی ڈی کے اس اجرا کا آغاز ’ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کے نفاذ کے بعد ہوا جس نے باضابطہ طور پر ملک کے ڈیجیٹل حکومتی ادارہ جاتی ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔ اگست سے دسمبر 2025 کے درمیان کل 849,177 ڈیجیٹل آئی ڈیز جاری کی گئیں۔</p>
<p>پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے دستیاب ڈیجیٹل والٹ اس وقت سات ایسی دستاویزات  فراہم کر رہا ہے جن کی ڈیجیٹل تصدیق ممکن ہے۔ ان میں فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ، گاڑی کی رجسٹریشن کے کاغذات، ویکسینیشن سرٹیفکیٹ اور ڈی مٹیریلائزڈ (ڈیجیٹل) قومی شناختی کارڈ شامل ہیں۔</p>
<p>نیشنل ڈیٹا ایکسچینج لیئر جو مختلف اداروں کے درمیان ڈیٹا کے تبادلے کے لیے ایک مرکزی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اب تک 1.2 ملین ٹرانزیکشنز مکمل کر چکی ہے۔ جنوری 2026 تک سات بڑے ادارے اس پلیٹ فارم سے منسلک ہو چکے ہیں۔ مزید برآں، وفاقی حکومت نے ڈیجیٹل آئی ڈی اور این ڈی ایکس ایل کو چلانے والے ضوابط کی بھی منظوری دے دی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282944</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Feb 2026 11:54:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/181131498af30ba.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/181131498af30ba.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
