<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:17:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:17:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ میں تیزی بحال، 100 انڈیکس میں تقریباً 3.3 فیصد کا اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282939/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کئی روزہ فروخت کے دباؤ کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں دوبارہ مثبت رجحانات دیکھنے کو ملے، اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے بدھ کو تقریباً 3.3 فیصد کے اضافے کے ساتھ شاندار بحالی کا مظاہرہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ مارک انڈیکس مثبت آغاز کے ساتھ کھلا اور ابتدائی کاروبار میں تیزی سے بڑھتا ہوا 177,000 پوائنٹس کی سطح کی جانب بڑھ گیا، جس کی پشت پر مضبوط خریداری کا رجحان تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم دوپہر کے سیشن میں منافع بکنگ دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں انڈیکس 175,000–175,500 پوائنٹس کی حدود تک واپس آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے آخری گھنٹوں میں دوبارہ خریداری کا زور سامنے آیا اور کے ایس ای 100 انڈیکس تیزی سے بڑھتے ہوئے دن کی بلند ترین سطح 178,974.16 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباربند ہونے پر کے ایس ای 100 انڈیکس 178,853.09 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 5,702.68 پوائنٹس یا 3.29 فیصد کے اضافے کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی کمپنیوں این بی پی، ایم ای بی ایل، ایچ بی ایل، یو بی ایل اور ایم سی بی کی مضبوط حمایت نے مارکیٹ کی کارکردگی کو سہارا دیا، جنہوں نے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں مشترکہ طور پر 2,699 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ اس کے برعکس  پی آئی او سی، پی او ایل اور اے آئی سی ایل نے کے ایس ای 100 انڈیکس پر دباؤ ڈالا اور مشترکہ طور پر 163 پوائنٹس کی کمی کی، جیسا کہ بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں بتائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ جنوری 2026 میں دوبارہ سرپلس میں آ گیا، جس کی وجہ ورکرز کی ترسیلات میں اضافے کی حمایت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ جنوری 2026 میں 121 ڈالر ملین کے سرپلس پر رہا، جو دسمبر 2025 کے 265 ڈالر ملین کے خسارے کے مقابلے میں بہتری ہے۔ سالانہ بنیادوں پر بھی بیرونی توازن میں بہتری آئی، کیونکہ جنوری 2025 میں یہ 393 ڈالر ملین خسارے میں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم شعبوں بشمول آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں (ای اینڈ پی)، او ایم سیز، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ مارکیٹ میں زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز بشمول ایچ بی ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل، مار، اوجی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، حبکو اور پی ایس اوبھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ جنوری 2026 میں دوبارہ سرپلس (منافع) میں آگیا جس کی بنیادی وجہ سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق جنوری 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ 121 ملین ڈالر سرپلس رہا، جبکہ اس کے مقابلے میں دسمبر 2025 میں 265 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ سالانہ بنیادوں پر بھی بیرونی توازن میں بہتری دیکھی گئی کیونکہ جنوری 2025 میں 393 ملین ڈالر کا خسارہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ منگل کو اسٹاک ایکسچینج دباؤ کا شکار رہی اور اس میں مندی کا تسلسل برقرار رہا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,303.52 پوائنٹس یا 0.75 فیصد کی کمی کے بعد 173,150.42 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر بدھ کو ایشیائی حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا حالانکہ عالمی منڈیوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حوالے سے نئی تشویش نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، دوسری جانب ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ ایٹمی مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے کے بعد تیل کی قیمتیں دباؤ کا شکار رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کا بینچ مارک نکی 225 انڈیکس 0.93 فیصد اضافے کے ساتھ 57,090.14 پر پہنچ گیا جس سے مسلسل تین روزہ مندی کا سلسلہ ٹوٹنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب قمری نئے سال کی تعطیلات کے باعث چین، ہانگ کانگ، سنگاپور، تائیوان اور جنوبی کوریا سمیت کئی اہم ایشیائی مارکیٹیں بند رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا میں کاروبار کا یہ مثبت آغاز وال اسٹریٹ پر منگل کے بے رونق سیشن کے بعد ہوا، جہاں سرمایہ کار مصنوعی ذہانت کے عروج کے مستقبل سے متعلق کشمکش کا شکار نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنیوں کی جانب سے اس شعبے میں ضرورت سے زیادہ سرمایہ کاری کے خدشات اور اس نئی ٹیکنالوجی کے لیبر مارکیٹ پر ممکنہ منفی اثرات سے متعلق بے چینی نے حالیہ ہفتوں میں سرمایہ کاروں کو تذبذب اور گھبراہٹ میں مبتلا کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی منڈیوں میں گزشتہ رات ڈاؤ جونز 0.07 فیصد اضافے کے ساتھ 49,533.19 پر بند ہوا، ایس اینڈ پی 500 0.10 فیصد اضافے سے 6,843.22 پر رہا، جبکہ نیسڈک ڈیک میں 0.14 فیصد اضافہ دیکھا گیا اور یہ 22,578.38 کی سطح پر پہنچا۔ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس ابتدا میں 0.88 فیصد تک گرا تھا، تاہم بعد ازاں اس نے اپنا خسارہ پورا کیا اور کاروبار کا اختتام مثبت زون میں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء پاکستانی روپیہ نے بدھ کو انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دکھائی اور 0.01 فیصد مضبوط ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.57 روپے پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں 0.03 روپے کا اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس میں حجم پچھلے بند ہونے والے 716.03 ملین سے کم ہو کر 697.68 ملین رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب شیئرز کی مجموعی مالیت پچھلے سیشن کے 40.47 ارب روپے سے بڑھ کر 50 ارب روپے ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک لمیٹڈ حجم میں سب سے آگے رہی جس کے 116.97 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد بینک آف پنجاب کے 71.11 ملین اور پاک پیٹرولیم کے 27.58 ملین شیئرز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو مجموعی طور پر 484 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 334 میں اضافہ، 103 میں کمی اور 47 میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/02/18175919adee29d.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/02/18175919adee29d.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کئی روزہ فروخت کے دباؤ کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں دوبارہ مثبت رجحانات دیکھنے کو ملے، اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے بدھ کو تقریباً 3.3 فیصد کے اضافے کے ساتھ شاندار بحالی کا مظاہرہ کیا۔</strong></p>
<p>بینچ مارک انڈیکس مثبت آغاز کے ساتھ کھلا اور ابتدائی کاروبار میں تیزی سے بڑھتا ہوا 177,000 پوائنٹس کی سطح کی جانب بڑھ گیا، جس کی پشت پر مضبوط خریداری کا رجحان تھا۔</p>
<p>تاہم دوپہر کے سیشن میں منافع بکنگ دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں انڈیکس 175,000–175,500 پوائنٹس کی حدود تک واپس آگیا۔</p>
<p>کاروبار کے آخری گھنٹوں میں دوبارہ خریداری کا زور سامنے آیا اور کے ایس ای 100 انڈیکس تیزی سے بڑھتے ہوئے دن کی بلند ترین سطح 178,974.16 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔</p>
<p>کاروباربند ہونے پر کے ایس ای 100 انڈیکس 178,853.09 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 5,702.68 پوائنٹس یا 3.29 فیصد کے اضافے کے مترادف ہے۔</p>
<p>بڑی کمپنیوں این بی پی، ایم ای بی ایل، ایچ بی ایل، یو بی ایل اور ایم سی بی کی مضبوط حمایت نے مارکیٹ کی کارکردگی کو سہارا دیا، جنہوں نے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں مشترکہ طور پر 2,699 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ اس کے برعکس  پی آئی او سی، پی او ایل اور اے آئی سی ایل نے کے ایس ای 100 انڈیکس پر دباؤ ڈالا اور مشترکہ طور پر 163 پوائنٹس کی کمی کی، جیسا کہ بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں بتائی ہے۔</p>
<p>اسی دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ جنوری 2026 میں دوبارہ سرپلس میں آ گیا، جس کی وجہ ورکرز کی ترسیلات میں اضافے کی حمایت تھی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ جنوری 2026 میں 121 ڈالر ملین کے سرپلس پر رہا، جو دسمبر 2025 کے 265 ڈالر ملین کے خسارے کے مقابلے میں بہتری ہے۔ سالانہ بنیادوں پر بھی بیرونی توازن میں بہتری آئی، کیونکہ جنوری 2025 میں یہ 393 ڈالر ملین خسارے میں تھا۔</p>
<p>اہم شعبوں بشمول آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں (ای اینڈ پی)، او ایم سیز، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ مارکیٹ میں زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز بشمول ایچ بی ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل، مار، اوجی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، حبکو اور پی ایس اوبھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔</p>
<p>پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ جنوری 2026 میں دوبارہ سرپلس (منافع) میں آگیا جس کی بنیادی وجہ سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق جنوری 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ 121 ملین ڈالر سرپلس رہا، جبکہ اس کے مقابلے میں دسمبر 2025 میں 265 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ سالانہ بنیادوں پر بھی بیرونی توازن میں بہتری دیکھی گئی کیونکہ جنوری 2025 میں 393 ملین ڈالر کا خسارہ ہوا تھا۔</p>
<p>یاد رہے کہ منگل کو اسٹاک ایکسچینج دباؤ کا شکار رہی اور اس میں مندی کا تسلسل برقرار رہا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,303.52 پوائنٹس یا 0.75 فیصد کی کمی کے بعد 173,150.42 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر بدھ کو ایشیائی حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا حالانکہ عالمی منڈیوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حوالے سے نئی تشویش نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، دوسری جانب ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ ایٹمی مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے کے بعد تیل کی قیمتیں دباؤ کا شکار رہیں۔</p>
<p>جاپان کا بینچ مارک نکی 225 انڈیکس 0.93 فیصد اضافے کے ساتھ 57,090.14 پر پہنچ گیا جس سے مسلسل تین روزہ مندی کا سلسلہ ٹوٹنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب قمری نئے سال کی تعطیلات کے باعث چین، ہانگ کانگ، سنگاپور، تائیوان اور جنوبی کوریا سمیت کئی اہم ایشیائی مارکیٹیں بند رہیں۔</p>
<p>ایشیا میں کاروبار کا یہ مثبت آغاز وال اسٹریٹ پر منگل کے بے رونق سیشن کے بعد ہوا، جہاں سرمایہ کار مصنوعی ذہانت کے عروج کے مستقبل سے متعلق کشمکش کا شکار نظر آئے۔</p>
<p>کمپنیوں کی جانب سے اس شعبے میں ضرورت سے زیادہ سرمایہ کاری کے خدشات اور اس نئی ٹیکنالوجی کے لیبر مارکیٹ پر ممکنہ منفی اثرات سے متعلق بے چینی نے حالیہ ہفتوں میں سرمایہ کاروں کو تذبذب اور گھبراہٹ میں مبتلا کر رکھا ہے۔</p>
<p>امریکی منڈیوں میں گزشتہ رات ڈاؤ جونز 0.07 فیصد اضافے کے ساتھ 49,533.19 پر بند ہوا، ایس اینڈ پی 500 0.10 فیصد اضافے سے 6,843.22 پر رہا، جبکہ نیسڈک ڈیک میں 0.14 فیصد اضافہ دیکھا گیا اور یہ 22,578.38 کی سطح پر پہنچا۔ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس ابتدا میں 0.88 فیصد تک گرا تھا، تاہم بعد ازاں اس نے اپنا خسارہ پورا کیا اور کاروبار کا اختتام مثبت زون میں کیا۔</p>
<p>دریں اثناء پاکستانی روپیہ نے بدھ کو انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دکھائی اور 0.01 فیصد مضبوط ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.57 روپے پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں 0.03 روپے کا اضافہ ہے۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس میں حجم پچھلے بند ہونے والے 716.03 ملین سے کم ہو کر 697.68 ملین رہ گیا۔</p>
<p>دوسری جانب شیئرز کی مجموعی مالیت پچھلے سیشن کے 40.47 ارب روپے سے بڑھ کر 50 ارب روپے ہو گئی۔</p>
<p>کے الیکٹرک لمیٹڈ حجم میں سب سے آگے رہی جس کے 116.97 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد بینک آف پنجاب کے 71.11 ملین اور پاک پیٹرولیم کے 27.58 ملین شیئرز شامل ہیں۔</p>
<p>بدھ کو مجموعی طور پر 484 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 334 میں اضافہ، 103 میں کمی اور 47 میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/02/18175919adee29d.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/02/18175919adee29d.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282939</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Feb 2026 21:02:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/18103541c137bb6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/18103541c137bb6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
