<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:57:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:57:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی عالمی بالادستی کی مہم عروج پر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282931/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;1967 میں قبضے میں لیے گئے اور تب سے زیرِ تسلط مغربی کنارے کو باضابطہ طور پر ضم کرنے کی اپنی تازہ ترین کوشش میں اسرائیل نے اب مغربی کنارے کی اراضی کو ’ریاستی ملکیت‘ قرار دے دیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے فلسطینی علاقے کے وسیع حصوں کو اسرائیلی ریاستی زمین کے طور پر رجسٹر کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، جو واضح کرتا ہے کہ کوئی قابض طاقت مقبوضہ علاقوں میں زمین ضبط نہیں کر سکتی، تاہم اس فیصلے کا اصل مقصد برسوں سے بتدریج علاقے پر قبضہ جما رہے اسرائیلی آبادکاروں کی بڑی تعداد کو ریاستی تحفظ فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نوعیت کے اقدامات کے خلاف فلسطینی احتجاج صہیونی قیادت کو ٹس سے مس نہ کر سکے، جس سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اب خاصی حد تک بدنام ہو چکی فلسطینی اتھارٹی کس قدر بے بس ہے۔ عملاً یہ اتھارٹی مغربی کنارے اور دیگر معاملات میں اسرائیلی ریاست کی معاون کے طور پر کردار ادا کرتی رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ حماس بڑی حد تک غزہ تک محدود ہے، تاہم اس نے آبادکار نوآبادیات کے اس کھلے مظاہرے پر، جسے اب اسرائیلی ریاست پہلے سے کہیں زیادہ تقویت دے رہی ہے، شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم میں سے جو لوگ 2003 سے غزہ میں اسرائیلی مظالم کی مسلسل پیروی کے جال میں الجھے ہوئے ہیں، انہیں کچھ تاریخ یاد رکھنا چاہیے۔ جب مشرقی یورپ میں سوشلسٹ نظام اور سوویت ریاست کا شیرازہ بکھرنا شروع ہوا (1989-1991)، تو امریکی سامراج خود کو اس دیرینہ خواہش کی تکمیل کے لیے پہلے سے زیادہ بااعتماد محسوس کرنے لگا کہ وہ عالمی بالادست قوت کے طور پر ابھرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ سوویت ریاست اب اس عزائم کی راہ میں رکاوٹ بننے کے لیے موجود نہ تھی، اس لیے واشنگٹن سرد جنگ کے دوران پروان چڑھائے گئے اس منصوبے کی جانب بے دریغ بڑھا، جسے اب وہ اس اطمینان کے ساتھ آگے بڑھا سکتا تھا کہ کوئی دوسری طاقت اس کے اس ہولناک منصوبے کی راہ نہیں روک سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوجی طاقت کے عالمی سطح پر استعمال کی چند مثالیں ہماری یادداشت تازہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ مصر اور اس کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اردن سمیت دیگر عرب ریاستیں، اسرائیلی جارحیت (جسے امریکہ کی حمایت حاصل تھی) کے سامنے جھک گئیں اور صہیونی ریاست کو تسلیم کر کے اس کے ساتھ شرمناک امن پر آمادہ ہو گئیں، جب کہ عراق، لیبیا اور شام وہ تین عرب ریاستیں تھیں جو ڈٹی رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تینوں عرب ریاستوں کی حکومتیں یکے بعد دیگرے زمین بوس کر دی گئیں۔ سب سے پہلے عراق کی باری آئی، جہاں صدام حسین کی قیادت میں حکومت نے کویت کے ساتھ سرحدی اور تیل کے ذخائر کے تنازع پر امریکی بظاہر غیر جانب داری کو غلط سمجھتے ہوئے کویت پر حملہ اور قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں امریکہ کی دو فوجی یلغاریں ہوئیں (اتفاقاً جب باپ اور بیٹا بش صدور تھے)، اور بالآخر صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ اور انہیں پھانسی دے دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد لیبیا میں معمر قذافی کی حکومت کا تختہ الٹا گیا، جس میں امریکی فضائی بمباری نے کلیدی کردار ادا کیا۔ قذافی کو بعد ازاں نہایت سفاکانہ انداز میں قتل کر دیا گیا۔ انہی عناصر نے حال ہی میں قذافی کے بیٹے کو بھی نشانہ بنایا، جو برسوں سے لیبیا میں نسبتاً پُرسکون زندگی گزار رہا تھا۔ آخر میں شام میں بشار الاسد کی حکومت گزشتہ برس ختم کر دی گئی، تاہم اسد اور ان کا خاندان خوش قسمتی سے ماسکو میں پناہ لینے میں کامیاب ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تینوں عرب مزاحمتی حکومتوں کو گرانا بھی امریکہ کے مقاصد کے لیے کافی نہ تھا۔ اب اس کی توجہ ایران اور لبنان میں مزاحمتی تنظیم (حزب اللہ) اور یمن میں حوثیوں کی جانب مبذول ہوئی، جس میں اسرائیل اگلے مورچے پر رہا۔ اس عمل کے دوران حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ مارے گئے اور تنظیم کمزور ہوئی، جبکہ حوثیوں کو بھی خاصی حد تک قابو کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران ٹرمپ منظر پر آتا ہے اور یہ تھیٹر لاطینی امریکہ تک پھیل جاتا ہے۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی فوج اغوا کر کے امریکہ منتقل کرتی ہے تاکہ انہیں ایک امریکی وفاقی عدالت میں من گھڑت الزامات کا سامنا کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجبوراً مادورو کی نائب صدر ڈیلسے روڈریگز کو ٹرمپ کی مزید فوجی مہم جوئی روکنے کے لیے امریکی مطالبات سے ’تعاون‘ کرنا پڑا۔ اس عمل کے نتیجے میں وہ امریکی ملٹی نیشنل آئل کارپوریشنز، جنہیں وینزویلا کی تیل کی صنعت کے بڑے پیمانے پر قومیائے جانے کے بعد ملک سے نکال دیا گیا تھا، دوبارہ وینزویلا میں تیل کی نکاسی اور منافع کے کاروبار میں واپس آ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کیوبا کو تیل کی فراہمی بھی بند کر دی ہے۔ امریکی تعزیری پابندیوں کے بوجھ تلے پہلے ہی دبے کیوبا کے عوام ایندھن کی قلت کے باعث اب الیکٹرک گاڑیوں اور سائیکل رکشوں کی طرف جا رہے ہیں۔ ٹرمپ کو امید ہے کہ کیوبا پر پابندیوں کا یہ اضافی دباؤ اسے وہاں کی ’ڈیلسے روڈریگز‘ تلاش کرنے میں مدد دے گا، جو اس ملک میں سوشلسٹ حکومت کے خاتمے میں امریکہ کا ساتھ دے سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باشعور پاکستانیوں کے لیے تشویش کی بات یہ ہے کہ ہم ایک بار پھر اپنے آن اینڈ آف ’دوست‘ امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش میں ٹرمپ کی بدنام زمانہ انا کی خوشامد کر رہے ہیں اور سب سے زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ ہم ان کے نام نہاد ’بورڈ آف پیس‘ کا حصہ بننے جا رہے ہیں، جس کا مقصد (ٹرمپ کی سرپرستی میں) غزہ تنازع کو ’حل‘ کرنا بتایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نظری طور پر غزہ میں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی موجود ہے، لیکن اس کے باوجود اسرائیل روزانہ کی بنیاد پر فلسطینیوں کو قتل کر رہا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ وہ حماس کو نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ مسلسل نقل مکانی، خوراک، رسد اور طبی سہولتوں کی بندش کے ذریعے غزہ کے محصور اور مصیبت زدہ عوام کو کچل رہا ہے۔ اگر حماس بورڈ آف پیس کے اس مطالبے کی مزاحمت جاری رکھتی ہے کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے، تو اس مطالبے پر عمل درآمد کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل سیکیورٹی فورس — جس میں پاکستان نے تاحال شمولیت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا — حماس کے ساتھ تصادم میں گھسی جا سکتی ہے۔ اگر پاکستانی فوجی اس فورس کا حصہ بنتے ہیں تو ہمیں اپنے فلسطینی بھائیوں کے خلاف ایک اور شرمناک تصادم میں دھکیلا جا سکتا ہے، جو 1970 میں اردنی بادشاہت کے ساتھ فلسطینیوں کے خلاف ہمارے کردار کی ہولناک یادوں کو تازہ کر دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر بورڈ آف پیس کا حصہ بننا جتنا بھی فائدہ مند دکھائی دے، لیکن یہ ہمیں ایک بار پھر فلسطینیوں کے معاملے میں تاریخ کے غلط جانب لا کھڑا کرنے کا خطرہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقت آ گیا ہے کہ ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرنے کی ہماری دوڑ کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ امریکہ سے اس وابستگی کے باعث ہماری سبکی شاید یہیں ختم نہ ہو۔ اگر سرد جنگ کے بعد امریکی اقدامات اور ان سے عیاں ہونے والے عزائم کا یہ مختصر جائزہ پیشِ نظر رکھا جائے تو واضح ہے کہ اگر ہم امریکی عالمی بالادستی کے اب تقریباً بے لگام منصوبوں کے ساتھ خود کو باندھے رکھنے پر اصرار کریں گے — جو اس کے دیرینہ مغربی اتحادیوں کو بھی بے یار و مددگار چھوڑ رہے ہیں — تو مزید سبکی اور مشکلات ہمارا مقدر بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>1967 میں قبضے میں لیے گئے اور تب سے زیرِ تسلط مغربی کنارے کو باضابطہ طور پر ضم کرنے کی اپنی تازہ ترین کوشش میں اسرائیل نے اب مغربی کنارے کی اراضی کو ’ریاستی ملکیت‘ قرار دے دیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے فلسطینی علاقے کے وسیع حصوں کو اسرائیلی ریاستی زمین کے طور پر رجسٹر کیا جائے گا۔</strong></p>
<p>اگرچہ یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، جو واضح کرتا ہے کہ کوئی قابض طاقت مقبوضہ علاقوں میں زمین ضبط نہیں کر سکتی، تاہم اس فیصلے کا اصل مقصد برسوں سے بتدریج علاقے پر قبضہ جما رہے اسرائیلی آبادکاروں کی بڑی تعداد کو ریاستی تحفظ فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>اس نوعیت کے اقدامات کے خلاف فلسطینی احتجاج صہیونی قیادت کو ٹس سے مس نہ کر سکے، جس سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اب خاصی حد تک بدنام ہو چکی فلسطینی اتھارٹی کس قدر بے بس ہے۔ عملاً یہ اتھارٹی مغربی کنارے اور دیگر معاملات میں اسرائیلی ریاست کی معاون کے طور پر کردار ادا کرتی رہی ہے۔</p>
<p>اگرچہ حماس بڑی حد تک غزہ تک محدود ہے، تاہم اس نے آبادکار نوآبادیات کے اس کھلے مظاہرے پر، جسے اب اسرائیلی ریاست پہلے سے کہیں زیادہ تقویت دے رہی ہے، شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>ہم میں سے جو لوگ 2003 سے غزہ میں اسرائیلی مظالم کی مسلسل پیروی کے جال میں الجھے ہوئے ہیں، انہیں کچھ تاریخ یاد رکھنا چاہیے۔ جب مشرقی یورپ میں سوشلسٹ نظام اور سوویت ریاست کا شیرازہ بکھرنا شروع ہوا (1989-1991)، تو امریکی سامراج خود کو اس دیرینہ خواہش کی تکمیل کے لیے پہلے سے زیادہ بااعتماد محسوس کرنے لگا کہ وہ عالمی بالادست قوت کے طور پر ابھرے۔</p>
<p>چونکہ سوویت ریاست اب اس عزائم کی راہ میں رکاوٹ بننے کے لیے موجود نہ تھی، اس لیے واشنگٹن سرد جنگ کے دوران پروان چڑھائے گئے اس منصوبے کی جانب بے دریغ بڑھا، جسے اب وہ اس اطمینان کے ساتھ آگے بڑھا سکتا تھا کہ کوئی دوسری طاقت اس کے اس ہولناک منصوبے کی راہ نہیں روک سکے گی۔</p>
<p>امریکی فوجی طاقت کے عالمی سطح پر استعمال کی چند مثالیں ہماری یادداشت تازہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ مصر اور اس کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اردن سمیت دیگر عرب ریاستیں، اسرائیلی جارحیت (جسے امریکہ کی حمایت حاصل تھی) کے سامنے جھک گئیں اور صہیونی ریاست کو تسلیم کر کے اس کے ساتھ شرمناک امن پر آمادہ ہو گئیں، جب کہ عراق، لیبیا اور شام وہ تین عرب ریاستیں تھیں جو ڈٹی رہیں۔</p>
<p>ان تینوں عرب ریاستوں کی حکومتیں یکے بعد دیگرے زمین بوس کر دی گئیں۔ سب سے پہلے عراق کی باری آئی، جہاں صدام حسین کی قیادت میں حکومت نے کویت کے ساتھ سرحدی اور تیل کے ذخائر کے تنازع پر امریکی بظاہر غیر جانب داری کو غلط سمجھتے ہوئے کویت پر حملہ اور قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں امریکہ کی دو فوجی یلغاریں ہوئیں (اتفاقاً جب باپ اور بیٹا بش صدور تھے)، اور بالآخر صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ اور انہیں پھانسی دے دی گئی۔</p>
<p>اس کے بعد لیبیا میں معمر قذافی کی حکومت کا تختہ الٹا گیا، جس میں امریکی فضائی بمباری نے کلیدی کردار ادا کیا۔ قذافی کو بعد ازاں نہایت سفاکانہ انداز میں قتل کر دیا گیا۔ انہی عناصر نے حال ہی میں قذافی کے بیٹے کو بھی نشانہ بنایا، جو برسوں سے لیبیا میں نسبتاً پُرسکون زندگی گزار رہا تھا۔ آخر میں شام میں بشار الاسد کی حکومت گزشتہ برس ختم کر دی گئی، تاہم اسد اور ان کا خاندان خوش قسمتی سے ماسکو میں پناہ لینے میں کامیاب ہو گیا۔</p>
<p>تاہم تینوں عرب مزاحمتی حکومتوں کو گرانا بھی امریکہ کے مقاصد کے لیے کافی نہ تھا۔ اب اس کی توجہ ایران اور لبنان میں مزاحمتی تنظیم (حزب اللہ) اور یمن میں حوثیوں کی جانب مبذول ہوئی، جس میں اسرائیل اگلے مورچے پر رہا۔ اس عمل کے دوران حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ مارے گئے اور تنظیم کمزور ہوئی، جبکہ حوثیوں کو بھی خاصی حد تک قابو کر لیا گیا۔</p>
<p>اسی دوران ٹرمپ منظر پر آتا ہے اور یہ تھیٹر لاطینی امریکہ تک پھیل جاتا ہے۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی فوج اغوا کر کے امریکہ منتقل کرتی ہے تاکہ انہیں ایک امریکی وفاقی عدالت میں من گھڑت الزامات کا سامنا کرنا پڑے۔</p>
<p>مجبوراً مادورو کی نائب صدر ڈیلسے روڈریگز کو ٹرمپ کی مزید فوجی مہم جوئی روکنے کے لیے امریکی مطالبات سے ’تعاون‘ کرنا پڑا۔ اس عمل کے نتیجے میں وہ امریکی ملٹی نیشنل آئل کارپوریشنز، جنہیں وینزویلا کی تیل کی صنعت کے بڑے پیمانے پر قومیائے جانے کے بعد ملک سے نکال دیا گیا تھا، دوبارہ وینزویلا میں تیل کی نکاسی اور منافع کے کاروبار میں واپس آ رہی ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے کیوبا کو تیل کی فراہمی بھی بند کر دی ہے۔ امریکی تعزیری پابندیوں کے بوجھ تلے پہلے ہی دبے کیوبا کے عوام ایندھن کی قلت کے باعث اب الیکٹرک گاڑیوں اور سائیکل رکشوں کی طرف جا رہے ہیں۔ ٹرمپ کو امید ہے کہ کیوبا پر پابندیوں کا یہ اضافی دباؤ اسے وہاں کی ’ڈیلسے روڈریگز‘ تلاش کرنے میں مدد دے گا، جو اس ملک میں سوشلسٹ حکومت کے خاتمے میں امریکہ کا ساتھ دے سکے۔</p>
<p>باشعور پاکستانیوں کے لیے تشویش کی بات یہ ہے کہ ہم ایک بار پھر اپنے آن اینڈ آف ’دوست‘ امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش میں ٹرمپ کی بدنام زمانہ انا کی خوشامد کر رہے ہیں اور سب سے زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ ہم ان کے نام نہاد ’بورڈ آف پیس‘ کا حصہ بننے جا رہے ہیں، جس کا مقصد (ٹرمپ کی سرپرستی میں) غزہ تنازع کو ’حل‘ کرنا بتایا جا رہا ہے۔</p>
<p>نظری طور پر غزہ میں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی موجود ہے، لیکن اس کے باوجود اسرائیل روزانہ کی بنیاد پر فلسطینیوں کو قتل کر رہا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ وہ حماس کو نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ مسلسل نقل مکانی، خوراک، رسد اور طبی سہولتوں کی بندش کے ذریعے غزہ کے محصور اور مصیبت زدہ عوام کو کچل رہا ہے۔ اگر حماس بورڈ آف پیس کے اس مطالبے کی مزاحمت جاری رکھتی ہے کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے، تو اس مطالبے پر عمل درآمد کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل سیکیورٹی فورس — جس میں پاکستان نے تاحال شمولیت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا — حماس کے ساتھ تصادم میں گھسی جا سکتی ہے۔ اگر پاکستانی فوجی اس فورس کا حصہ بنتے ہیں تو ہمیں اپنے فلسطینی بھائیوں کے خلاف ایک اور شرمناک تصادم میں دھکیلا جا سکتا ہے، جو 1970 میں اردنی بادشاہت کے ساتھ فلسطینیوں کے خلاف ہمارے کردار کی ہولناک یادوں کو تازہ کر دے گا۔</p>
<p>بظاہر بورڈ آف پیس کا حصہ بننا جتنا بھی فائدہ مند دکھائی دے، لیکن یہ ہمیں ایک بار پھر فلسطینیوں کے معاملے میں تاریخ کے غلط جانب لا کھڑا کرنے کا خطرہ رکھتا ہے۔</p>
<p>وقت آ گیا ہے کہ ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرنے کی ہماری دوڑ کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ امریکہ سے اس وابستگی کے باعث ہماری سبکی شاید یہیں ختم نہ ہو۔ اگر سرد جنگ کے بعد امریکی اقدامات اور ان سے عیاں ہونے والے عزائم کا یہ مختصر جائزہ پیشِ نظر رکھا جائے تو واضح ہے کہ اگر ہم امریکی عالمی بالادستی کے اب تقریباً بے لگام منصوبوں کے ساتھ خود کو باندھے رکھنے پر اصرار کریں گے — جو اس کے دیرینہ مغربی اتحادیوں کو بھی بے یار و مددگار چھوڑ رہے ہیں — تو مزید سبکی اور مشکلات ہمارا مقدر بن سکتی ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282931</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Feb 2026 17:24:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (راشد رحمان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/1716523768e5820.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/1716523768e5820.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
