<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:50:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:50:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فروری کے جائزے میں پاکستان کی پوزیشن مضبوط، آئی ایم ایف کی سات میں سے چھ بڑی شرائط پوری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282914/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اپنے جاری بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت مقرر کردہ سات  مقداری کارکردگی کے معیارات  (کیوپی سیز) میں سے تقریباً تمام کو پورا کرنے کے قریب ہے، جس سے رواں ماہ کے آخر میں ہونے والے جائزے سے قبل ملک کی پوزیشن مضبوط ہو گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے منگل کو جاری ہونے والی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ  ہمارے حساب کتاب کے مطابق پاکستان تمام 7 مقداری اہداف  مکمل کرنے کے قریب ہے، تاہم ایک اشارے کا ڈیٹا ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا (ٹارگٹڈ کیش ٹرانسفر کی کم از کم حد)، جو گزشتہ جائزے میں صرف ایک ارب روپے کے فرق سے رہ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی ٹیم فروری کے آخری ہفتے میں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی(ای ایف ایف) کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلیٹی(آر ایس ایف) کے دوسرے جائزے کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گی۔ اس جائزے میں ستمبر 2025 اور دسمبر 2025 کے لیے مقرر کردہ اہداف اور کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن کے مطابق آئی ایم ایف کے کسی بھی پروگرام میں مقداری کارکردگی کا معیار(کیوپی سی) انتہائی اہم ہوتا ہے کیونکہ اسے پورا نہ کرنے کی صورت میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے باقاعدہ استثنیٰ  حاصل کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس کے تخمینوں کے مطابق پاکستان خالص بین الاقوامی ذخائر اور  سویپ پوزیشنز سے متعلق اہداف سمیت آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خالص بین الاقوامی ذخائر (این آئی آر) ستمبر اور دسمبر 2025 کے مقررہ اہداف کے اندر رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح اسٹیٹ بینک کے خالص ملکی اثاثے (این ڈی اے) بھی مقررہ حد (14.9 سے 15.1 ٹریلین روپے) کے مقابلے میں 12.5 سے 13.5 ٹریلین روپے کی رینج میں رہنے کی توقع ہے۔ غیر ملکی کرنسی سویپس کے اہداف بھی ستمبر اور دسمبر 2025 کے لیے مقررہ حد سے کم رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ستمبر اور دسمبر 2025 کے لیے ’پرائمری سرپلس(بنیادی بجٹ بچت) کے اعداد و شمار بالترتیب 3.5 ٹریلین اور 4.1 ٹریلین روپے رہے، جو کہ 460 ارب اور 3.2 ٹریلین روپے کے مقررہ ہدف سے کہیں بہتر ہیں۔ سرکاری ضمانتوں اور نقد امداد (کیش ٹرانسفر) کے اخراجات کے اہداف بھی پورے ہونے کا امکان ہے، جبکہ ٹیکس گوشواروں کا نیا ہدف بھی حاصل کر لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر  کے ٹیکس ریونیو کے حوالے سے بروکریج ہاؤس نے کہا کہ ٹیکس وصولی کا ہدف 336 ارب روپے سے رہ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کمی کا ایک حصہ  سپر ٹیکس سے متعلق عدالتی فیصلے کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے، تاہم مجموعی وصولی سالانہ ہدف سے کچھ کم رہنے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اپنے جاری بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت مقرر کردہ سات  مقداری کارکردگی کے معیارات  (کیوپی سیز) میں سے تقریباً تمام کو پورا کرنے کے قریب ہے، جس سے رواں ماہ کے آخر میں ہونے والے جائزے سے قبل ملک کی پوزیشن مضبوط ہو گئی ہے۔</strong></p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے منگل کو جاری ہونے والی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ  ہمارے حساب کتاب کے مطابق پاکستان تمام 7 مقداری اہداف  مکمل کرنے کے قریب ہے، تاہم ایک اشارے کا ڈیٹا ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا (ٹارگٹڈ کیش ٹرانسفر کی کم از کم حد)، جو گزشتہ جائزے میں صرف ایک ارب روپے کے فرق سے رہ گیا تھا۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی ٹیم فروری کے آخری ہفتے میں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی(ای ایف ایف) کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلیٹی(آر ایس ایف) کے دوسرے جائزے کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گی۔ اس جائزے میں ستمبر 2025 اور دسمبر 2025 کے لیے مقرر کردہ اہداف اور کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔</p>
<p>ٹاپ لائن کے مطابق آئی ایم ایف کے کسی بھی پروگرام میں مقداری کارکردگی کا معیار(کیوپی سی) انتہائی اہم ہوتا ہے کیونکہ اسے پورا نہ کرنے کی صورت میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے باقاعدہ استثنیٰ  حاصل کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس کے تخمینوں کے مطابق پاکستان خالص بین الاقوامی ذخائر اور  سویپ پوزیشنز سے متعلق اہداف سمیت آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خالص بین الاقوامی ذخائر (این آئی آر) ستمبر اور دسمبر 2025 کے مقررہ اہداف کے اندر رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>اسی طرح اسٹیٹ بینک کے خالص ملکی اثاثے (این ڈی اے) بھی مقررہ حد (14.9 سے 15.1 ٹریلین روپے) کے مقابلے میں 12.5 سے 13.5 ٹریلین روپے کی رینج میں رہنے کی توقع ہے۔ غیر ملکی کرنسی سویپس کے اہداف بھی ستمبر اور دسمبر 2025 کے لیے مقررہ حد سے کم رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ستمبر اور دسمبر 2025 کے لیے ’پرائمری سرپلس(بنیادی بجٹ بچت) کے اعداد و شمار بالترتیب 3.5 ٹریلین اور 4.1 ٹریلین روپے رہے، جو کہ 460 ارب اور 3.2 ٹریلین روپے کے مقررہ ہدف سے کہیں بہتر ہیں۔ سرکاری ضمانتوں اور نقد امداد (کیش ٹرانسفر) کے اخراجات کے اہداف بھی پورے ہونے کا امکان ہے، جبکہ ٹیکس گوشواروں کا نیا ہدف بھی حاصل کر لیا جائے گا۔</p>
<p>ایف بی آر  کے ٹیکس ریونیو کے حوالے سے بروکریج ہاؤس نے کہا کہ ٹیکس وصولی کا ہدف 336 ارب روپے سے رہ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کمی کا ایک حصہ  سپر ٹیکس سے متعلق عدالتی فیصلے کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے، تاہم مجموعی وصولی سالانہ ہدف سے کچھ کم رہنے کا خدشہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282914</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Feb 2026 12:43:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/17123332a946e16.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/17123332a946e16.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
