<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 19:46:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 19:46:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور آسٹریا کا اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور تعلیمی شعبے مستحکم کرنے کا عزم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282890/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور آسٹریا نے معاشی تعاون، تجارت و سرمایہ کاری، سیاحت، ہاسپیٹلٹی، تعلیم، آئی ٹی، صحت اور انسانی وسائل کی ترقی و نقل مکانی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں ممالک نے ان شعبوں سے متعلق زیرِ غور مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے مفاہمت ویانا کے تاریخی ہافبرگ پیلس میں وفاقی چانسلری میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور آسٹریا کے وفاقی چانسلر کرسچن اسٹاککر کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے دوران طے پائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ بھی موجود تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی چانسلر اسٹاککر نے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ اور تاریخی تعلقات کو یاد کیا۔ اس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی۔ دونوں جانب سے علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور امن و سلامتی کے چیلنجز، تنازعات کے پرامن حل، پائیدار ترقی، موسمیاتی اقدامات اور انسانی حقوق کے تحفظ و فروغ کے لیے اقوام متحدہ کے مرکزی کردار پر اتفاق کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کثیر الجہتی  کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اظہار کیا اور اقوام متحدہ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے اور ایک دوسرے کی نامزدگیوں  کی باہمی حمایت کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم اور آسٹریا کے وفاقی چانسلر نے آسٹریا اور پاکستان کی ان معروف کمپنیوں کے سی ای اوز  کے فورم کی مشترکہ صدارت بھی کی جو قابلِ تجدید توانائی، صنعتی مینوفیکچرنگ، تعمیرات، آئی ٹی، ٹیکسٹائل، جراحی کے آلات، چمڑے، کھیلوں کے سامان، صحت، سیاحت اور فوڈ اینڈ ایگرو انڈسٹریز میں کام کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں موجودہ پلیٹ فارمز کے موثر استعمال کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان حکومتی سطح (جی ٹو جی)، حکومت و کاروبار (جی ٹو بی) اور کاروباری سطح (بی ٹو بی) کے رابطوں کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے آسٹریا کی کمپنیوں کو رواں سال اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والے یورپی یونین پاکستان بزنس فورم میں شرکت کی دعوت دی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے دورے کے دوران  نتیجہ خیز ملاقاتوں پر وفاقی چانسلر کا شکریہ ادا کیا اور انہیں اپنی اولین فرصت میں پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل وفاقی چانسلری پہنچنے پر وزیراعظم کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ انہوں نے مہمانوں کی کتاب  میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کیے۔ اس موقع پر پاکستان اور آسٹریا کے قومی ترانے بجائے گئے اور دونوں رہنماؤں نے مذاکرات سے قبل اپنے اپنے وفود کا ایک دوسرے سے تعارف کرایا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور آسٹریا نے معاشی تعاون، تجارت و سرمایہ کاری، سیاحت، ہاسپیٹلٹی، تعلیم، آئی ٹی، صحت اور انسانی وسائل کی ترقی و نقل مکانی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں ممالک نے ان شعبوں سے متعلق زیرِ غور مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>اس حوالے سے مفاہمت ویانا کے تاریخی ہافبرگ پیلس میں وفاقی چانسلری میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور آسٹریا کے وفاقی چانسلر کرسچن اسٹاککر کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے دوران طے پائی۔</p>
<p>اس موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ بھی موجود تھیں۔</p>
<p>ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی چانسلر اسٹاککر نے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ اور تاریخی تعلقات کو یاد کیا۔ اس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی۔ دونوں جانب سے علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور امن و سلامتی کے چیلنجز، تنازعات کے پرامن حل، پائیدار ترقی، موسمیاتی اقدامات اور انسانی حقوق کے تحفظ و فروغ کے لیے اقوام متحدہ کے مرکزی کردار پر اتفاق کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کثیر الجہتی  کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اظہار کیا اور اقوام متحدہ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے اور ایک دوسرے کی نامزدگیوں  کی باہمی حمایت کو سراہا۔</p>
<p>وزیراعظم اور آسٹریا کے وفاقی چانسلر نے آسٹریا اور پاکستان کی ان معروف کمپنیوں کے سی ای اوز  کے فورم کی مشترکہ صدارت بھی کی جو قابلِ تجدید توانائی، صنعتی مینوفیکچرنگ، تعمیرات، آئی ٹی، ٹیکسٹائل، جراحی کے آلات، چمڑے، کھیلوں کے سامان، صحت، سیاحت اور فوڈ اینڈ ایگرو انڈسٹریز میں کام کر رہی ہیں۔</p>
<p>ملاقات میں موجودہ پلیٹ فارمز کے موثر استعمال کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان حکومتی سطح (جی ٹو جی)، حکومت و کاروبار (جی ٹو بی) اور کاروباری سطح (بی ٹو بی) کے رابطوں کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔</p>
<p>وزیراعظم نے آسٹریا کی کمپنیوں کو رواں سال اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والے یورپی یونین پاکستان بزنس فورم میں شرکت کی دعوت دی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے دورے کے دوران  نتیجہ خیز ملاقاتوں پر وفاقی چانسلر کا شکریہ ادا کیا اور انہیں اپنی اولین فرصت میں پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی۔</p>
<p>اس سے قبل وفاقی چانسلری پہنچنے پر وزیراعظم کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ انہوں نے مہمانوں کی کتاب  میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کیے۔ اس موقع پر پاکستان اور آسٹریا کے قومی ترانے بجائے گئے اور دونوں رہنماؤں نے مذاکرات سے قبل اپنے اپنے وفود کا ایک دوسرے سے تعارف کرایا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282890</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Feb 2026 19:08:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/16185730685e082.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/16185730685e082.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/lgRY-Hh_UGE/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/lgRY-Hh_UGE/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=lgRY-Hh_UGE"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
