<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:49:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:49:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت نجکاری کا عمل تیز، مزید سرکاری ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے جائیں گے، محمد اورنگزیب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282883/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے پرعزم ہے اور مزید سرکاری اداروں (ایس او ایز) کو مرحلہ وار نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ  وزیراعظم کی واضح ہدایت ہے کہ نجکاری کا عمل شفافیت اور رفتار کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ پی آئی اے کی نجکاری سے جو تحریک ملی ہے، اب حالات ہمارے حق میں ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہم صرف 26 اداروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مزید سرکاری ادارے نجکاری کمیشن کے سپرد کیے جائیں گے۔ وزیرِ خزانہ سرکاری اداروں کی کارکردگی، مالی حالت اور ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں کی تفصیلات پیش کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ کئی ادارے پہلے ہی بند ہو چکے ہیں یا بند ہونے کے قریب ہیں۔ ان اداروں کا بنیادی مسئلہ اربوں روپے کی سبسڈی، چوری اور کرپشن تھا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کا کنٹرول اپریل میں نجی شعبے کو منتقل کر دیا جائے گا، جبکہ زری ترقیاتی بینک (زیڈ ٹی بی ایل) کی نجکاری آخری مراحل میں ہے اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن (ایچ بی ایف سی) کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ گزشتہ تین سالوں میں سرکاری اداروں کے مجموعی نقصانات میں کمی آئی ہے۔ 2023 میں یہ نقصان 905 ارب روپے تھا جو اب کم ہو کر 832 ارب روپے رہ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ان اداروں کی جانب سے حکومت کو ملنے والی رقم (ان فلو) 2.119 ٹریلین روپے تھی، جبکہ حکومت کی طرف سے ان پر خرچ (آؤٹ فلو) 2.078 ٹریلین روپے رہا، یوں حکومت کو 40 ارب روپے کا مثبت فائدہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں انہوں نے اعلان کیا کہ وزیراعظم جلد تعمیراتی شعبے کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کریں گے اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے بھی آئندہ 10 سے 12 روز میں پیکج لایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے پرعزم ہے اور مزید سرکاری اداروں (ایس او ایز) کو مرحلہ وار نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ  وزیراعظم کی واضح ہدایت ہے کہ نجکاری کا عمل شفافیت اور رفتار کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ پی آئی اے کی نجکاری سے جو تحریک ملی ہے، اب حالات ہمارے حق میں ہیں۔</strong></p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہم صرف 26 اداروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مزید سرکاری ادارے نجکاری کمیشن کے سپرد کیے جائیں گے۔ وزیرِ خزانہ سرکاری اداروں کی کارکردگی، مالی حالت اور ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں کی تفصیلات پیش کر رہے تھے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ کئی ادارے پہلے ہی بند ہو چکے ہیں یا بند ہونے کے قریب ہیں۔ ان اداروں کا بنیادی مسئلہ اربوں روپے کی سبسڈی، چوری اور کرپشن تھا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کا کنٹرول اپریل میں نجی شعبے کو منتقل کر دیا جائے گا، جبکہ زری ترقیاتی بینک (زیڈ ٹی بی ایل) کی نجکاری آخری مراحل میں ہے اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن (ایچ بی ایف سی) کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ گزشتہ تین سالوں میں سرکاری اداروں کے مجموعی نقصانات میں کمی آئی ہے۔ 2023 میں یہ نقصان 905 ارب روپے تھا جو اب کم ہو کر 832 ارب روپے رہ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ان اداروں کی جانب سے حکومت کو ملنے والی رقم (ان فلو) 2.119 ٹریلین روپے تھی، جبکہ حکومت کی طرف سے ان پر خرچ (آؤٹ فلو) 2.078 ٹریلین روپے رہا، یوں حکومت کو 40 ارب روپے کا مثبت فائدہ ہوا۔</p>
<p>علاوہ ازیں انہوں نے اعلان کیا کہ وزیراعظم جلد تعمیراتی شعبے کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کریں گے اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے بھی آئندہ 10 سے 12 روز میں پیکج لایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282883</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Feb 2026 15:29:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/161522179ce8dbb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/161522179ce8dbb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/dwDTHPQXqNo/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/dwDTHPQXqNo/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=dwDTHPQXqNo"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
