<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>او جی ڈی سی نے ”کل 3 کنویں“سے تیل کی پیداوار میں 1,400 فیصد کا بڑا اضافہ کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282882/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کے سب سے بڑے ادارے آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (اوجی ڈی سی) نے پنجاب کے ضلع چکوال میں واقع اپنے کنویں کل 03  سے تیل کی پیداوار میں 1,400 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں اس اہم پیش رفت سے آگاہ کیا۔ او جی ڈی سی کے مطابق یہ کامیابی کنویں کی مرمت اور صفائی  کے کامیاب عمل کے ذریعے حاصل کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے بتایا اس تکنیکی مداخلت سے قبل کنواں قدرتی بہاؤ کے تحت یومیہ تقریباً 50 بیرل تیل پیدا کر رہا تھا۔ منصوبہ بند ورک اوور  بشمول ملٹی اسٹیج فزیکو کیمیکل  ٹریٹمنٹ اور ای ایس پی کی تنصیب کے بعد اب پیداوار بڑھ کر 750 بیرل یومیہ ہو گئی ہے، جو کہ 1,400 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمی او جی ڈی سی کے پیداواری اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد پرانے ذخائر  سے پیداوار کو برقرار رکھنا اور اس میں بہتری لانا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی کمپنی نے سندھ کے ضلع حیدرآباد میں واقع پساکھی-7 کنویں سے پیداوار 375 بیرل سے بڑھا کر 520 بیرل یومیہ کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او جی ڈی سی ایل کا تعارف او جی ڈی سی ایل پاکستان کا سب سے بڑا ای اینڈ پی  ادارہ ہے جو تلاش، ڈرلنگ، پیداوار اور ریزروائر مینجمنٹ جیسے امور انجام دیتا ہے۔ کمپنی کے پاس پاکستان میں تلاش کے لیے سب سے وسیع رقبہ (40 فیصد سے زائد) موجود ہے۔ اس ادارے میں حکومتِ پاکستان 67 فیصد حصص کے ساتھ سب سے بڑی شیئر ہولڈر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کے سب سے بڑے ادارے آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (اوجی ڈی سی) نے پنجاب کے ضلع چکوال میں واقع اپنے کنویں کل 03  سے تیل کی پیداوار میں 1,400 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>کمپنی نے پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں اس اہم پیش رفت سے آگاہ کیا۔ او جی ڈی سی کے مطابق یہ کامیابی کنویں کی مرمت اور صفائی  کے کامیاب عمل کے ذریعے حاصل کی گئی۔</p>
<p>کمپنی نے بتایا اس تکنیکی مداخلت سے قبل کنواں قدرتی بہاؤ کے تحت یومیہ تقریباً 50 بیرل تیل پیدا کر رہا تھا۔ منصوبہ بند ورک اوور  بشمول ملٹی اسٹیج فزیکو کیمیکل  ٹریٹمنٹ اور ای ایس پی کی تنصیب کے بعد اب پیداوار بڑھ کر 750 بیرل یومیہ ہو گئی ہے، جو کہ 1,400 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>ادارے کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمی او جی ڈی سی کے پیداواری اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد پرانے ذخائر  سے پیداوار کو برقرار رکھنا اور اس میں بہتری لانا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی کمپنی نے سندھ کے ضلع حیدرآباد میں واقع پساکھی-7 کنویں سے پیداوار 375 بیرل سے بڑھا کر 520 بیرل یومیہ کی تھی۔</p>
<p>او جی ڈی سی ایل کا تعارف او جی ڈی سی ایل پاکستان کا سب سے بڑا ای اینڈ پی  ادارہ ہے جو تلاش، ڈرلنگ، پیداوار اور ریزروائر مینجمنٹ جیسے امور انجام دیتا ہے۔ کمپنی کے پاس پاکستان میں تلاش کے لیے سب سے وسیع رقبہ (40 فیصد سے زائد) موجود ہے۔ اس ادارے میں حکومتِ پاکستان 67 فیصد حصص کے ساتھ سب سے بڑی شیئر ہولڈر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282882</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Feb 2026 15:21:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/1615153446134c4.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/1615153446134c4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
