<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:40:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:40:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیٹ میٹرنگ: کامیاب پالیسی کی ناکامی کی داستان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282877/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سب سے پہلی بات یہ کہ وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس خان لغاری نے سولر نیٹ میٹرنگ سے متعلق حالیہ ریگولیٹری تبدیلیوں کا دفاع کیا ہے۔ وہ سینیٹ کی اس قرارداد کا جواب دے رہے تھے جس میں چھتوں پر سولر پینلز لگانے والے صارفین کے تحفظ اور مجوزہ قواعد و ضوابط کو قومی قابلِ تجدید توانائی کی پالیسی کے مطابق بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوانِ بالا میں بحث کے بعد مزید غوروخوض کیلئے اس قرارداد کو مؤخر کردیا گیا۔ مزید برآں وزیراعظم شہبازشریف نے بھی اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے بجلی کے ریگولیٹری ادارے (نیپرا) کی جانب سے چھتوں پر سولر لگانے والے صارفین کیلئے تیار کردہ ترمیمی قوانین پر نظرِ ثانی کی ہدایت کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حکومت نے حسبِ معمول اسٹیک ہولڈرز (بشمول پروزیومرز) کی آراء پر مناسب غوروخوض کیے بغیر اچانک پالیسی میں تبدیلی کردی۔ حکومت نے موجودہ اور مستقبل کے تمام صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی کو نیٹ بلنگ میں تبدیل کردیا ہے، تاہم موجودہ صارفین کیلئے بجلی کی خریداری کی قیمت کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اصولی طور پر نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی ایک درست قدم ہے اور یہ ان عالمی طریقوں کے عین مطابق ہے جو دیگر ممالک نے اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے اختیار کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2010 کی دہائی میں جب سولر پینلز مہنگے تھے اور صاف توانائی کا رجحان ابھی کم تھا تو بہت سی معیشتوں نے اس ٹیکنالوجی کو ابتدائی طور پر اپنانے کی حوصلہ افزائی کے لیے سبسڈیز اور فراخدلانہ مراعات فراہم کیں۔ پاکستان نے بھی یہی طریقہ اپنایا، جس میں سولر پینلز کی خریداری کے لیے مارک اپ (سود) پر سبسڈیز بھی شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر سولر پینلز کی قیمتیں گر گئیں جبکہ گرڈ (بجلی گھروں) کی بجلی مہنگی ہوتی گئی اور خاص طور پر پاکستان میں ایسا ہوا (جس کی وجوہات گرڈ کی قیمتوں کا غیر موثر نظام اور سولر پینلز کی درآمد پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی عدم موجودگی تھی)۔ اس کے نتیجے میں مراعات کا ڈھانچہ یکطرفہ ہوگیا اور ملک میں سولر پینلز کا استعمال تیزی سے بڑھ گیا۔ سولر کے اس بڑھتےرجحان، بالخصوص نیٹ میٹرنگ استعمال کرنے والے صارفین کی وجہ سے اب گرڈ اور ان صارفین کے لیے منفی اثرات پیدا ہورہے ہیں جو نیٹ میٹرنگ استعمال نہیں کررہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرڈ کے نرخوں (ٹیرف) میں اضافہ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ سسٹم اب بھی ان اوقات میں نیٹ میٹرڈ صارفین کو بجلی فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے جب سورج کی روشنی موجود نہیں ہوتی اور اکثر یہ بجلی ایسی شرحوں پر دی جاتی ہے جو اصل لاگت کی مکمل عکاسی نہیں کرتیں۔ اس کے علاوہ، گرڈ کے استحکام  کے مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں جن میں سولر کے عروج کے اوقات  کے دوران بجلی کا ضرورت سے زیادہ بہاؤ شامل ہے، خاص طور پر جب بہت سے پروزیومرز اپنی منظور شدہ لوڈ  سے زیادہ صلاحیت کے پینلز نصب کرلیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ جیسی دیگر معیشتوں میں اس پالیسی کو تیزی سے بدلا گیا اور مراعات میں بتدریج کمی لائی گئی۔ اس کے برعکس پاکستان میں حکام تقریباً ایک سال تک ان تبدیلیوں پر محض غوروخوض ہی کرتے رہے۔ اس دوران نیٹ میٹرنگ کے کنکشنز میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا جس نے سسٹم کے مالی بوجھ میں مزید اضافہ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر حکومت بروقت کارروائی کرتی تو وہ موجودہ صارفین کے لیے پالیسی کو برقرار رکھ سکتی تھی اور نئے فریم ورک کا اطلاق صرف مستقبل کے کنکشنز پر کیا جا سکتا تھا، تاہم ایک ہی سال میں کنکشنز کی تعداد دوگنی ہو جانے کے بعد صورتحال بدل گئی، اگرچہ حکومت کے پاس موجودہ صارفین کے لیے شرائط تبدیل کرنے کا قانونی جواز موجود ہوسکتا ہے لیکن ایسا کرنے سے عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے اور بداعتمادی گہری ہوتی ہےجبکہ نئے صارفین کے لیے نئی پالیسی کا اطلاق ایک معقول اقدام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تمام صورتحال کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ تذبذب کا شکار رہی اور اس نے صارفین کی تعداد کو ایک پریشان کن حد تک بڑھنے دیا۔ کچھ لوگوں کا استدلال ہے کہ یہ سب سولر پینلز اور انورٹرز درآمد کرنے والے لابی کے دباؤ کی وجہ سے ہوا۔ وجہ کچھ بھی ہو، درست پالیسی فریم ورک میں تاخیر کرنے اور اس کے نتیجے میں ایک بڑا تنازع کھڑا کرنے پر حکومت پر کڑی تنقید ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسیوں میں عدم تسلسل اور مختلف صارفین و سرمایہ کاروں کے لیے الگ الگ قوانین ہونا سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔ حکومت اکثر پالیسیوں کے تمام پہلوؤں پر گہرائی سے غور نہیں کرتی۔ یہ صورتحال 1994 سے پاکستان کی بجلی کی پالیسیوں میں واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ مثال کے طور پر، بجلی کی شدید قلت کے ادوار میں حکومت نئے آئی پی پیز (آزاد بجلی گھروں) کی منظوری دیتی رہی۔ جب یہ پلانٹس فعال ہوئے تو ملک بجلی کی مہنگی کمی سے نکل کر مہنگے اضافی ذخائر (سرپلس) کی دلدل میں جا گرا جس کے نتیجے میں اخراجات بڑھ گئے اور گردشی قرضوں میں وسعت آتی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ تین دہائیوں کے دوران حکومت نے آئی پی پیزکے ساتھ مذاکرات کے تین ادوار کیے ہیں اور ہر بار (معاہدوں میں تبدیلی کا) بوجھ زیادہ تر مقامی سرمایہ کاروں پر پڑا جبکہ حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو چیلنج کرنے سے گریز کیا۔ آج بھی کیپیسٹی پیمنٹس (صلاحیت کی ادائیگیوں) کا سب سے بڑا حصہ چینی آئی پی پیز اور ان سے منسلک قرضوں سے جڑا ہوا ہے، تاہم ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے ان کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں عملی طور پر ترک کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹ میٹرنگ استعمال کرنے والے پروزیومرز خود کو دھوکہ دہی کا شکار محسوس کر رہے ہیں۔ یہ تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار صارفین نسبتاً خوشحال طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے یہ صورتحال (ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا) ایک مثبت پیش رفت نہیں ہے۔ اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ نیٹ میٹرنگ گرڈ استعمال کرنے والے 90 فیصد عام صارفین کو براہِ راست متاثر نہیں کرتی۔ ایک اور اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ سولر اپنانے والے تقریباً 90 فیصد لوگ نیٹ میٹرڈ صارفین نہیں ہیں بلکہ یہ یا تو وہ غریب گھرانے ہیں جو نیٹ میٹرنگ کے ڈھانچے سے باہر (آف گرڈ یا چھوٹے پیمانے پر) سولر استعمال کر رہے ہیں، یا پھر بڑے صنعتی صارفین ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہے اور اسے اس حوالے سے مناسب اقدامات کرنے کی تاکید کی گئی تھی۔ اسی تناظر میں، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مئی 2025 تک پاکستان کے لیے کلائمیٹ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی  کے تحت قرض کی منظوری دی۔ اس صورتحال میں قابلِ تجدید توانائی  کو ایک متبادل کے طور پر درست طور پر مستقبل کا واحد راستہ قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ حکومت نے مراعات تو فراہم کیں لیکن وہ نہ صرف ان صارفین کی تعداد کا اندازہ لگانے میں ناکام رہی جنہوں نے ان مراعات سے فائدہ اٹھایا (جن میں اکثریت متوسط اور اس سے اوپر کے طبقے کی تھی) بلکہ وہ قومی گرڈ سے بجلی کی طلب میں ہونے والی اس کمی کا ادراک بھی نہ کر سکی جو 3 کروڑ 76 لاکھ صارفین کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ اس ناقص حکمتِ عملی نے قدرتی طور پر کیپیسٹی پیمنٹس کے بوجھ میں اضافہ کر دیا ہے اور یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے نیپرا کو سولر سے متعلق قوانین تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر پالیسی میں تبدیلی کے باوجود شمسی توانائی (سولر) کو اپنانے کا عمل بلا تعطل جاری رہ سکتا ہے، اور بیٹری پر مبنی حل میں وسعت آ سکتی ہے جو کہ معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، اصل بات  یہ ہے کہ حکومت نے ایک ایسی پالیسی کے گرد بلا ضرورت تنازع کھڑا کردیا ہے جو کہ سمت کے لحاظ سے درست تھی اور اس واقعے سے سرمایہ کاروں اور عوام کے اعتماد کو مزید ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سب سے پہلی بات یہ کہ وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس خان لغاری نے سولر نیٹ میٹرنگ سے متعلق حالیہ ریگولیٹری تبدیلیوں کا دفاع کیا ہے۔ وہ سینیٹ کی اس قرارداد کا جواب دے رہے تھے جس میں چھتوں پر سولر پینلز لگانے والے صارفین کے تحفظ اور مجوزہ قواعد و ضوابط کو قومی قابلِ تجدید توانائی کی پالیسی کے مطابق بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔</strong></p>
<p>ایوانِ بالا میں بحث کے بعد مزید غوروخوض کیلئے اس قرارداد کو مؤخر کردیا گیا۔ مزید برآں وزیراعظم شہبازشریف نے بھی اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے بجلی کے ریگولیٹری ادارے (نیپرا) کی جانب سے چھتوں پر سولر لگانے والے صارفین کیلئے تیار کردہ ترمیمی قوانین پر نظرِ ثانی کی ہدایت کردی ہے۔</p>
<p>یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حکومت نے حسبِ معمول اسٹیک ہولڈرز (بشمول پروزیومرز) کی آراء پر مناسب غوروخوض کیے بغیر اچانک پالیسی میں تبدیلی کردی۔ حکومت نے موجودہ اور مستقبل کے تمام صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی کو نیٹ بلنگ میں تبدیل کردیا ہے، تاہم موجودہ صارفین کیلئے بجلی کی خریداری کی قیمت کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اصولی طور پر نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی ایک درست قدم ہے اور یہ ان عالمی طریقوں کے عین مطابق ہے جو دیگر ممالک نے اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے اختیار کیے ہیں۔</p>
<p>2010 کی دہائی میں جب سولر پینلز مہنگے تھے اور صاف توانائی کا رجحان ابھی کم تھا تو بہت سی معیشتوں نے اس ٹیکنالوجی کو ابتدائی طور پر اپنانے کی حوصلہ افزائی کے لیے سبسڈیز اور فراخدلانہ مراعات فراہم کیں۔ پاکستان نے بھی یہی طریقہ اپنایا، جس میں سولر پینلز کی خریداری کے لیے مارک اپ (سود) پر سبسڈیز بھی شامل تھیں۔</p>
<p>تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر سولر پینلز کی قیمتیں گر گئیں جبکہ گرڈ (بجلی گھروں) کی بجلی مہنگی ہوتی گئی اور خاص طور پر پاکستان میں ایسا ہوا (جس کی وجوہات گرڈ کی قیمتوں کا غیر موثر نظام اور سولر پینلز کی درآمد پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی عدم موجودگی تھی)۔ اس کے نتیجے میں مراعات کا ڈھانچہ یکطرفہ ہوگیا اور ملک میں سولر پینلز کا استعمال تیزی سے بڑھ گیا۔ سولر کے اس بڑھتےرجحان، بالخصوص نیٹ میٹرنگ استعمال کرنے والے صارفین کی وجہ سے اب گرڈ اور ان صارفین کے لیے منفی اثرات پیدا ہورہے ہیں جو نیٹ میٹرنگ استعمال نہیں کررہے۔</p>
<p>گرڈ کے نرخوں (ٹیرف) میں اضافہ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ سسٹم اب بھی ان اوقات میں نیٹ میٹرڈ صارفین کو بجلی فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے جب سورج کی روشنی موجود نہیں ہوتی اور اکثر یہ بجلی ایسی شرحوں پر دی جاتی ہے جو اصل لاگت کی مکمل عکاسی نہیں کرتیں۔ اس کے علاوہ، گرڈ کے استحکام  کے مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں جن میں سولر کے عروج کے اوقات  کے دوران بجلی کا ضرورت سے زیادہ بہاؤ شامل ہے، خاص طور پر جب بہت سے پروزیومرز اپنی منظور شدہ لوڈ  سے زیادہ صلاحیت کے پینلز نصب کرلیتے ہیں۔</p>
<p>آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ جیسی دیگر معیشتوں میں اس پالیسی کو تیزی سے بدلا گیا اور مراعات میں بتدریج کمی لائی گئی۔ اس کے برعکس پاکستان میں حکام تقریباً ایک سال تک ان تبدیلیوں پر محض غوروخوض ہی کرتے رہے۔ اس دوران نیٹ میٹرنگ کے کنکشنز میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا جس نے سسٹم کے مالی بوجھ میں مزید اضافہ کر دیا۔</p>
<p>اگر حکومت بروقت کارروائی کرتی تو وہ موجودہ صارفین کے لیے پالیسی کو برقرار رکھ سکتی تھی اور نئے فریم ورک کا اطلاق صرف مستقبل کے کنکشنز پر کیا جا سکتا تھا، تاہم ایک ہی سال میں کنکشنز کی تعداد دوگنی ہو جانے کے بعد صورتحال بدل گئی، اگرچہ حکومت کے پاس موجودہ صارفین کے لیے شرائط تبدیل کرنے کا قانونی جواز موجود ہوسکتا ہے لیکن ایسا کرنے سے عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے اور بداعتمادی گہری ہوتی ہےجبکہ نئے صارفین کے لیے نئی پالیسی کا اطلاق ایک معقول اقدام ہے۔</p>
<p>اس تمام صورتحال کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ تذبذب کا شکار رہی اور اس نے صارفین کی تعداد کو ایک پریشان کن حد تک بڑھنے دیا۔ کچھ لوگوں کا استدلال ہے کہ یہ سب سولر پینلز اور انورٹرز درآمد کرنے والے لابی کے دباؤ کی وجہ سے ہوا۔ وجہ کچھ بھی ہو، درست پالیسی فریم ورک میں تاخیر کرنے اور اس کے نتیجے میں ایک بڑا تنازع کھڑا کرنے پر حکومت پر کڑی تنقید ہونی چاہیے۔</p>
<p>پالیسیوں میں عدم تسلسل اور مختلف صارفین و سرمایہ کاروں کے لیے الگ الگ قوانین ہونا سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔ حکومت اکثر پالیسیوں کے تمام پہلوؤں پر گہرائی سے غور نہیں کرتی۔ یہ صورتحال 1994 سے پاکستان کی بجلی کی پالیسیوں میں واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ مثال کے طور پر، بجلی کی شدید قلت کے ادوار میں حکومت نئے آئی پی پیز (آزاد بجلی گھروں) کی منظوری دیتی رہی۔ جب یہ پلانٹس فعال ہوئے تو ملک بجلی کی مہنگی کمی سے نکل کر مہنگے اضافی ذخائر (سرپلس) کی دلدل میں جا گرا جس کے نتیجے میں اخراجات بڑھ گئے اور گردشی قرضوں میں وسعت آتی گئی۔</p>
<p>گزشتہ تین دہائیوں کے دوران حکومت نے آئی پی پیزکے ساتھ مذاکرات کے تین ادوار کیے ہیں اور ہر بار (معاہدوں میں تبدیلی کا) بوجھ زیادہ تر مقامی سرمایہ کاروں پر پڑا جبکہ حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو چیلنج کرنے سے گریز کیا۔ آج بھی کیپیسٹی پیمنٹس (صلاحیت کی ادائیگیوں) کا سب سے بڑا حصہ چینی آئی پی پیز اور ان سے منسلک قرضوں سے جڑا ہوا ہے، تاہم ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے ان کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں عملی طور پر ترک کر دی ہیں۔</p>
<p>نیٹ میٹرنگ استعمال کرنے والے پروزیومرز خود کو دھوکہ دہی کا شکار محسوس کر رہے ہیں۔ یہ تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار صارفین نسبتاً خوشحال طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے یہ صورتحال (ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا) ایک مثبت پیش رفت نہیں ہے۔ اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ نیٹ میٹرنگ گرڈ استعمال کرنے والے 90 فیصد عام صارفین کو براہِ راست متاثر نہیں کرتی۔ ایک اور اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ سولر اپنانے والے تقریباً 90 فیصد لوگ نیٹ میٹرڈ صارفین نہیں ہیں بلکہ یہ یا تو وہ غریب گھرانے ہیں جو نیٹ میٹرنگ کے ڈھانچے سے باہر (آف گرڈ یا چھوٹے پیمانے پر) سولر استعمال کر رہے ہیں، یا پھر بڑے صنعتی صارفین ہیں۔</p>
<p>یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہے اور اسے اس حوالے سے مناسب اقدامات کرنے کی تاکید کی گئی تھی۔ اسی تناظر میں، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مئی 2025 تک پاکستان کے لیے کلائمیٹ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی  کے تحت قرض کی منظوری دی۔ اس صورتحال میں قابلِ تجدید توانائی  کو ایک متبادل کے طور پر درست طور پر مستقبل کا واحد راستہ قرار دیا گیا۔</p>
<p>موجودہ حکومت نے مراعات تو فراہم کیں لیکن وہ نہ صرف ان صارفین کی تعداد کا اندازہ لگانے میں ناکام رہی جنہوں نے ان مراعات سے فائدہ اٹھایا (جن میں اکثریت متوسط اور اس سے اوپر کے طبقے کی تھی) بلکہ وہ قومی گرڈ سے بجلی کی طلب میں ہونے والی اس کمی کا ادراک بھی نہ کر سکی جو 3 کروڑ 76 لاکھ صارفین کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ اس ناقص حکمتِ عملی نے قدرتی طور پر کیپیسٹی پیمنٹس کے بوجھ میں اضافہ کر دیا ہے اور یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے نیپرا کو سولر سے متعلق قوانین تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر پالیسی میں تبدیلی کے باوجود شمسی توانائی (سولر) کو اپنانے کا عمل بلا تعطل جاری رہ سکتا ہے، اور بیٹری پر مبنی حل میں وسعت آ سکتی ہے جو کہ معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، اصل بات  یہ ہے کہ حکومت نے ایک ایسی پالیسی کے گرد بلا ضرورت تنازع کھڑا کردیا ہے جو کہ سمت کے لحاظ سے درست تھی اور اس واقعے سے سرمایہ کاروں اور عوام کے اعتماد کو مزید ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282877</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Feb 2026 14:32:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/1613551077d01ef.webp" type="image/webp" medium="image" height="1102" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/1613551077d01ef.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
