<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 23:25:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 23:25:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کاٹن کا ہفتہ وار جائزہ : کم کاروباری حجم کے باعث مندی کا رجحان برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282870/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کی روئی منڈی میں گزشتہ ہفتے کاروباری حجم میں کمی کے باعث مندی کا رجحان غالب رہا۔ ٹیکسٹائل کی صنعت شدید مالی بحران، توانائی کی بلند قیمتوں اور نئے ’سپر ٹیکس‘ کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی کے حکام نے ملکی صنعتوں کی بقا کے لیے فوری طور پر انڈسٹریل ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اپٹما نے خبردار کیا ہے کہ عالمی حریفوں کے مقابلے میں پاکستانی برآمدات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاشتکاروں کی حالتِ زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کسان اتحاد کے چیئرمین خالد کھوکھر نے کہا کہ روئی اور دیگر فصلوں کے کاشتکار وینٹی لیٹر پر ہیں، جہاں بیج کی لاگت بھی پوری نہیں ہو رہی۔ دوسری جانب کاٹن ایکسچینج بلڈنگ کیس میں ایف آئی اے نے رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں روئی کی قیمت 15,000 سے 16,200 روپے فی من کے درمیان رہی۔ بین الاقوامی سطح پر نیویارک کاٹن فیوچرز 62 سے 68 سینٹ فی پاؤنڈ کے درمیان رہے۔ امریکی محکمہ زراعت (یوایس ڈی اے) کے مطابق پاکستان روئی کی خریداری اور درآمد میں سرِفہرست ممالک میں شامل رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کی روئی منڈی میں گزشتہ ہفتے کاروباری حجم میں کمی کے باعث مندی کا رجحان غالب رہا۔ ٹیکسٹائل کی صنعت شدید مالی بحران، توانائی کی بلند قیمتوں اور نئے ’سپر ٹیکس‘ کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔</strong></p>
<p>ایف پی سی سی آئی کے حکام نے ملکی صنعتوں کی بقا کے لیے فوری طور پر انڈسٹریل ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اپٹما نے خبردار کیا ہے کہ عالمی حریفوں کے مقابلے میں پاکستانی برآمدات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔</p>
<p>کاشتکاروں کی حالتِ زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کسان اتحاد کے چیئرمین خالد کھوکھر نے کہا کہ روئی اور دیگر فصلوں کے کاشتکار وینٹی لیٹر پر ہیں، جہاں بیج کی لاگت بھی پوری نہیں ہو رہی۔ دوسری جانب کاٹن ایکسچینج بلڈنگ کیس میں ایف آئی اے نے رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی ہے۔</p>
<p>مارکیٹ میں روئی کی قیمت 15,000 سے 16,200 روپے فی من کے درمیان رہی۔ بین الاقوامی سطح پر نیویارک کاٹن فیوچرز 62 سے 68 سینٹ فی پاؤنڈ کے درمیان رہے۔ امریکی محکمہ زراعت (یوایس ڈی اے) کے مطابق پاکستان روئی کی خریداری اور درآمد میں سرِفہرست ممالک میں شامل رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282870</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Feb 2026 13:16:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نسیم عثمان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/161303374a49ecb.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/161303374a49ecb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
