<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ-ایران جوہری مذاکرات سے قبل خام تیل کی قیمت میں اتار چڑھائو</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282853/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;واشنگٹن اور تہران کے درمیان متوقع مذاکرات سے قبل پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں محدود اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے قیمتوں کو سہارا دیا ہوا ہے، جبکہ اوپیک پلس اپریل سے پیداوار میں اضافے کی بحالی کی جانب مائل دکھائی دے رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کی قیمت 3 سینٹ کمی کے ساتھ 67.72 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، تاہم جمعہ کو یہ 23 سینٹ اضافے کے ساتھ بند ہوا تھا۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ( ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 3 سینٹ کمی کے بعد 62.86 ڈالر فی بیرل رہا۔ امریکی تعطیل کے باعث پیر کو ڈبلیو ٹی آئی کی باقاعدہ سیٹلمنٹ نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے دونوں بینچ مارکس میں مجموعی طور پر کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ تقریباً 0.5 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی ایک فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔ اس کمی کی ایک وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان تھا جس میں انہوں نے عندیہ دیا کہ امریکا اگلے ایک ماہ میں ایران کے ساتھ معاہدہ کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک نے رواں ماہ کے آغاز میں تہران کے جوہری پروگرام پر دہائیوں سے جاری تنازع کے حل اور ممکنہ فوجی تصادم سے بچنے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کیے ہیں۔ منگل کو جنیوا میں دوسرے دور کی بات چیت متوقع ہے۔ ایک ایرانی سفارت کار کے مطابق ایران ایسا معاہدہ چاہتا ہے جس سے دونوں ممالک کو معاشی فوائد حاصل ہوں، جن میں توانائی اور کان کنی میں سرمایہ کاری شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکا نے خطے میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیج دیا ہے اور مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جغرافیائی سیاسی تناؤ نہ ہوتا تو ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 60 ڈالر سے بھی کم ہو سکتی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>واشنگٹن اور تہران کے درمیان متوقع مذاکرات سے قبل پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں محدود اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے قیمتوں کو سہارا دیا ہوا ہے، جبکہ اوپیک پلس اپریل سے پیداوار میں اضافے کی بحالی کی جانب مائل دکھائی دے رہا ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کی قیمت 3 سینٹ کمی کے ساتھ 67.72 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، تاہم جمعہ کو یہ 23 سینٹ اضافے کے ساتھ بند ہوا تھا۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ( ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 3 سینٹ کمی کے بعد 62.86 ڈالر فی بیرل رہا۔ امریکی تعطیل کے باعث پیر کو ڈبلیو ٹی آئی کی باقاعدہ سیٹلمنٹ نہیں ہوگی۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے دونوں بینچ مارکس میں مجموعی طور پر کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ تقریباً 0.5 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی ایک فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔ اس کمی کی ایک وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان تھا جس میں انہوں نے عندیہ دیا کہ امریکا اگلے ایک ماہ میں ایران کے ساتھ معاہدہ کر سکتا ہے۔</p>
<p>دونوں ممالک نے رواں ماہ کے آغاز میں تہران کے جوہری پروگرام پر دہائیوں سے جاری تنازع کے حل اور ممکنہ فوجی تصادم سے بچنے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کیے ہیں۔ منگل کو جنیوا میں دوسرے دور کی بات چیت متوقع ہے۔ ایک ایرانی سفارت کار کے مطابق ایران ایسا معاہدہ چاہتا ہے جس سے دونوں ممالک کو معاشی فوائد حاصل ہوں، جن میں توانائی اور کان کنی میں سرمایہ کاری شامل ہے۔</p>
<p>ادھر امریکا نے خطے میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیج دیا ہے اور مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جغرافیائی سیاسی تناؤ نہ ہوتا تو ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 60 ڈالر سے بھی کم ہو سکتی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282853</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Feb 2026 09:21:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/16091931b2085a6.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/16091931b2085a6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
