<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آر ایل این جی کارگو کی طلب میں مسلسل کمی، پیٹرولیم ڈویژن مخمصے کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282852/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پیٹرولیم ڈویژن انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر(آئی ایس ایم او) کی جانب سے آر ایل این جی کارگو کی طلب میں مزید کمی کی درخواست پر شدید تذبذب کا شکار ہے۔ باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ آئی ایس ایم او نے تقریباً 10 اضافی آر ایل این جی کارگو کم کرنے کی تجویز دی ہے، جو پہلے سے کم کی گئی مقدار کے علاوہ ہیں، اور یہ اقدام انٹیگریٹڈ جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان)(آئی جی سی ای پی) کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصی سیکرٹری پیٹرولیم مرزا ناصرالدین مشہود احمد نے 13 دسمبر 2025 کے آئی ایس ایم او کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے پاور ڈویژن کو آگاہ کیا کہ 2026 کے لیے پاور سیکٹر کی آر ایل این جی طلب ایک بار پھر نیچے کی جانب نظرثانی کی گئی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق قطر کے ساتھ ایل این جی سیل اینڈ پرچیز معاہدوں کے تحت آئندہ کیلنڈر سال کے لیے سالانہ ڈیلیوری پلان 15 اکتوبر تک حتمی شکل دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026 کے لیے آر ایل این جی طلب پاور اور پیٹرولیم وزرا کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے اجلاسوں میں آئی جی سی ای پی کے مطابق طے کی گئی تھی اور ان اعدادوشمار کو ووڈ میکنزی کی اسٹڈی میں بھی شامل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 30 نومبر 2025 کو قطر انرجی کے ساتھ 2026 کا سالانہ ڈیلیوری پلان فائنل کر لیا گیا۔ تاہم آئی ایس ایم او کی تازہ نظرثانی کے بعد پیٹرولیم ڈویژن کا مؤقف ہے کہ مزید کارگو میں تبدیلی یا ری شیڈولنگ کی گنجائش نہیں، کیونکہ اس سے منصوبہ بندی اور طلب کے تخمینوں میں تضاد پیدا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق طلب میں کمی کے باعث تقریباً 10 ایل این جی کارگو سرپلس ہونے کا خدشہ ہے۔ پہلے ہی ڈیلیوری پلان کی تکمیل کے بعد تبدیلیوں سے آپریشنل مسائل جنم لے چکے ہیں، جن میں لائن پیک پریشر میں اضافہ اور سسٹم کو برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 200 ایم ایم سی ایف ڈی مقامی گیس کی بندش شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وفاقی کابینہ 2026 کے لیے نیٹ پروسیڈ ڈیفرینشل میکانزم کے تحت قطر سے 24 سے 29 اضافی کارگو موخر یا منتقل کرنے کی منظوری دے چکی ہے، کیونکہ پاور سیکٹر کی کم طلب کے باعث گیس کی مجموعی کھپت گھٹ رہی ہے۔ اس صورتحال سے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کو مالی و آپریشنل چیلنجز کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر پیٹرولیم نے واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ منصوبہ بندی کی سطح پر نااہلی کی وجہ سے دوطرفہ یا سہ فریقی معاہدوں اور قیمتوں کے انتظامات کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پیٹرولیم ڈویژن انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر(آئی ایس ایم او) کی جانب سے آر ایل این جی کارگو کی طلب میں مزید کمی کی درخواست پر شدید تذبذب کا شکار ہے۔ باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ آئی ایس ایم او نے تقریباً 10 اضافی آر ایل این جی کارگو کم کرنے کی تجویز دی ہے، جو پہلے سے کم کی گئی مقدار کے علاوہ ہیں، اور یہ اقدام انٹیگریٹڈ جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان)(آئی جی سی ای پی) کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>خصوصی سیکرٹری پیٹرولیم مرزا ناصرالدین مشہود احمد نے 13 دسمبر 2025 کے آئی ایس ایم او کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے پاور ڈویژن کو آگاہ کیا کہ 2026 کے لیے پاور سیکٹر کی آر ایل این جی طلب ایک بار پھر نیچے کی جانب نظرثانی کی گئی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق قطر کے ساتھ ایل این جی سیل اینڈ پرچیز معاہدوں کے تحت آئندہ کیلنڈر سال کے لیے سالانہ ڈیلیوری پلان 15 اکتوبر تک حتمی شکل دیا جاتا ہے۔</p>
<p>2026 کے لیے آر ایل این جی طلب پاور اور پیٹرولیم وزرا کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے اجلاسوں میں آئی جی سی ای پی کے مطابق طے کی گئی تھی اور ان اعدادوشمار کو ووڈ میکنزی کی اسٹڈی میں بھی شامل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 30 نومبر 2025 کو قطر انرجی کے ساتھ 2026 کا سالانہ ڈیلیوری پلان فائنل کر لیا گیا۔ تاہم آئی ایس ایم او کی تازہ نظرثانی کے بعد پیٹرولیم ڈویژن کا مؤقف ہے کہ مزید کارگو میں تبدیلی یا ری شیڈولنگ کی گنجائش نہیں، کیونکہ اس سے منصوبہ بندی اور طلب کے تخمینوں میں تضاد پیدا ہوگا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق طلب میں کمی کے باعث تقریباً 10 ایل این جی کارگو سرپلس ہونے کا خدشہ ہے۔ پہلے ہی ڈیلیوری پلان کی تکمیل کے بعد تبدیلیوں سے آپریشنل مسائل جنم لے چکے ہیں، جن میں لائن پیک پریشر میں اضافہ اور سسٹم کو برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 200 ایم ایم سی ایف ڈی مقامی گیس کی بندش شامل ہے۔</p>
<p>دوسری جانب وفاقی کابینہ 2026 کے لیے نیٹ پروسیڈ ڈیفرینشل میکانزم کے تحت قطر سے 24 سے 29 اضافی کارگو موخر یا منتقل کرنے کی منظوری دے چکی ہے، کیونکہ پاور سیکٹر کی کم طلب کے باعث گیس کی مجموعی کھپت گھٹ رہی ہے۔ اس صورتحال سے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کو مالی و آپریشنل چیلنجز کا سامنا ہے۔</p>
<p>وزیر پیٹرولیم نے واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ منصوبہ بندی کی سطح پر نااہلی کی وجہ سے دوطرفہ یا سہ فریقی معاہدوں اور قیمتوں کے انتظامات کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282852</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Feb 2026 09:21:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/1609142377e94ed.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/1609142377e94ed.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
