<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کے پی ٹی کے ذریعے تیزی سے پھیلتی ہوئی میرین بنکرنگ سروسز کا آغاز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282841/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے بحری شعبے نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے ذریعے  میرین بنکرنگ سروسز(بحری جہازوں کو ایندھن کی فراہمی) کے آغاز سے  تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اس منصوبے کی قیادت دنیا کی سب سے بڑی آزاد توانائی کمپنی  ویٹول کر رہی ہے۔ کے پی ٹی کے مطابق یہ اقدام عالمی معیار کے بنکر بارجز اور شفاف لائسنسنگ نظام متعارف کروا کر پاکستان کی بحری صلاحیتوں میں بڑے اضافے کی علامت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویٹول کا ہدف کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر سالانہ 5 سے 6 لاکھ میٹرک ٹن ایندھن کی فراہمی ہے، جس میں ہائی اور لو سلفر فیول آئل شامل ہیں۔ اس منصوبے کی خاص بات کیماڑی آئل ٹرمینلز سے براہ راست لوڈنگ ہے، جس سے ٹرکوں کی ضرورت ختم اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے مقامی ریفائنریوں کے ایندھن کا 40 سے 50 فیصد حصہ بحری ایندھن کے طور پر استعمال ہوگا، جس سے معاشی ترقی اور توانائی کی حفاظت کو تقویت ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2026 کے روڈ میپ کے تحت بنیادی ڈھانچے کو ماہانہ 100 آپریشنز تک بڑھانے اور ماحول دوست  بایو بنکر ایندھن متعارف کروانے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے بحری شعبے نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے ذریعے  میرین بنکرنگ سروسز(بحری جہازوں کو ایندھن کی فراہمی) کے آغاز سے  تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اس منصوبے کی قیادت دنیا کی سب سے بڑی آزاد توانائی کمپنی  ویٹول کر رہی ہے۔ کے پی ٹی کے مطابق یہ اقدام عالمی معیار کے بنکر بارجز اور شفاف لائسنسنگ نظام متعارف کروا کر پاکستان کی بحری صلاحیتوں میں بڑے اضافے کی علامت ہے۔</strong></p>
<p>ویٹول کا ہدف کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر سالانہ 5 سے 6 لاکھ میٹرک ٹن ایندھن کی فراہمی ہے، جس میں ہائی اور لو سلفر فیول آئل شامل ہیں۔ اس منصوبے کی خاص بات کیماڑی آئل ٹرمینلز سے براہ راست لوڈنگ ہے، جس سے ٹرکوں کی ضرورت ختم اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے مقامی ریفائنریوں کے ایندھن کا 40 سے 50 فیصد حصہ بحری ایندھن کے طور پر استعمال ہوگا، جس سے معاشی ترقی اور توانائی کی حفاظت کو تقویت ملے گی۔</p>
<p>سال 2026 کے روڈ میپ کے تحت بنیادی ڈھانچے کو ماہانہ 100 آپریشنز تک بڑھانے اور ماحول دوست  بایو بنکر ایندھن متعارف کروانے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282841</guid>
      <pubDate>Sun, 15 Feb 2026 14:07:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/15140054242ecc3.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/15140054242ecc3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
