<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران نے امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کیلئے سمجھوتہ کرنے پر آمادگی ظاہر کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282837/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے نائب وزیر خارجہ ماجد تخت روانچی نے اتوار کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں بی بی سی کو بتایا کہ اگر واشنگٹن پابندیاں ہٹانے پر بات کرنے کے لیے تیار ہے تو ایران امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے سمجھوتوں پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماجد تخت رووانچی نے تصدیق کی کہ جوہری مذاکرات کے دوسرے دور کا انعقاد منگل کو جنیوا میں ہوگا، جس سے پہلے تہران اور واشنگٹن نے اس ماہ کے آغاز میں عمان میں بات چیت دوبارہ شروع کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی مذاکرات زیادہ تر مثبت سمت میں گئے، تاہم یہ فیصلہ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ نتیجہ کیا نکلے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے کہا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر کچھ پابندیوں پر بات کرنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ مالی پابندیاں اٹھائی جائیں، مگر میزائل پروگرام یا دیگر مسائل کو جوہری مذاکرات سے جوڑنے سے انکار کیا ہے۔ ماجد تخت رووانچی نے مثال کے طور پر بتایا کہ ایران اپنے سب سے زیادہ افزودہ یورینیم کو کم کرنے پر رضامند ہو سکتا ہے، بشرطیکہ تمام مالی پابندیاں ختم کر دی جائیں، جس سے ایران کی لچک کا اظہار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ نے بھی کہا کہ ملک انتہائی افزودہ یورینیم کو کم کرنے پر رضامند ہو سکتا ہے، مگر صفر افزودگی قبول نہیں کرے گا، جو گزشتہ سال معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ امریکہ نے ایران میں افزودگی کو ممکنہ جوہری ہتھیاروں کے راستے کے طور پر دیکھا تھا، جبکہ ایران اس دعوے کی تردید کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماجد تخت رووانچی کے مطابق امریکی وفد میں سٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر شامل ہوں گے، اور عمانی نمائندے امریکی-ایران رابطوں کی ثالثی کریں گے۔  امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں 2015 کے ایران جوہری معاہدے سے امریکہ کو نکال دیا تھا، جسے براک اوباما کی اہم خارجہ پالیسی کارنامہ قرار دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے نائب وزیر خارجہ ماجد تخت روانچی نے اتوار کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں بی بی سی کو بتایا کہ اگر واشنگٹن پابندیاں ہٹانے پر بات کرنے کے لیے تیار ہے تو ایران امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے سمجھوتوں پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔</strong></p>
<p>ماجد تخت رووانچی نے تصدیق کی کہ جوہری مذاکرات کے دوسرے دور کا انعقاد منگل کو جنیوا میں ہوگا، جس سے پہلے تہران اور واشنگٹن نے اس ماہ کے آغاز میں عمان میں بات چیت دوبارہ شروع کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی مذاکرات زیادہ تر مثبت سمت میں گئے، تاہم یہ فیصلہ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ نتیجہ کیا نکلے گا۔</p>
<p>ایران نے کہا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر کچھ پابندیوں پر بات کرنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ مالی پابندیاں اٹھائی جائیں، مگر میزائل پروگرام یا دیگر مسائل کو جوہری مذاکرات سے جوڑنے سے انکار کیا ہے۔ ماجد تخت رووانچی نے مثال کے طور پر بتایا کہ ایران اپنے سب سے زیادہ افزودہ یورینیم کو کم کرنے پر رضامند ہو سکتا ہے، بشرطیکہ تمام مالی پابندیاں ختم کر دی جائیں، جس سے ایران کی لچک کا اظہار ہوتا ہے۔</p>
<p>ایران کی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ نے بھی کہا کہ ملک انتہائی افزودہ یورینیم کو کم کرنے پر رضامند ہو سکتا ہے، مگر صفر افزودگی قبول نہیں کرے گا، جو گزشتہ سال معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ امریکہ نے ایران میں افزودگی کو ممکنہ جوہری ہتھیاروں کے راستے کے طور پر دیکھا تھا، جبکہ ایران اس دعوے کی تردید کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔</p>
<p>ماجد تخت رووانچی کے مطابق امریکی وفد میں سٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر شامل ہوں گے، اور عمانی نمائندے امریکی-ایران رابطوں کی ثالثی کریں گے۔  امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں 2015 کے ایران جوہری معاہدے سے امریکہ کو نکال دیا تھا، جسے براک اوباما کی اہم خارجہ پالیسی کارنامہ قرار دیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282837</guid>
      <pubDate>Sun, 15 Feb 2026 13:42:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/151338069b32275.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/151338069b32275.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
