<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رواں سال کی پہلی ششماہی، فری لانسرز نے 500 ملین ڈالر سے زائد زرمبادلہ کما لیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282819/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی فری لانسرز نے رواں مالی سال  کی پہلی ششماہی کے دوران 500 ملین ڈالر سے زیادہ کا زرمبادلہ کمایا، جو ملک کی ڈیجیٹل معیشت کی بڑھتی ہوئی طاقت اور پاکستان کی ہنر مند افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی عالمی مانگ کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کے شعبے سے وابستہ فری لانسرز کی برآمدی وصولیاں جولائی تا دسمبر مالی سال 26 کے دوران 557 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال مالی سال 25 کی اسی مدت میں یہ رقم 352 ملین ڈالر تھی۔ اس طرح سالانہ بنیادوں پر 58 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت پاکستان کے عالمی فری لانسنگ مارکیٹ میں مسابقتی مرکز کے طور پر ابھرنے کا ثبوت ہے۔ سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائن، کانٹینٹ کری ایشن اور ای کامرس جیسے شعبوں میں پاکستانی نوجوان تیزی سے اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومتی اور نجی شعبے کی جانب سے سہولتوں اور تربیتی پروگراموں میں اضافے نے فری لانسنگ اور گگ اکانومی کے فروغ کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کل وقتی اور جزوقتی فری لانسرز کی تعداد تقریباً 2.37 ملین ہے۔ عالمی فری لانسنگ پلیٹ فارمز پر پاکستانی فری لانسرز کا شمار سرفہرست تین یا چار ممالک میں کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومت فری لانسرز کی سہولت اور ان کی معاشی شراکت بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ وزارت آئی ٹی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری، سستے براڈبینڈ، آسان ڈیجیٹل ادائیگی نظام اور مہارتوں میں اضافے کے پروگراموں پر کام کر رہی ہے تاکہ فری لانسرز عالمی منڈیوں تک باآسانی رسائی حاصل کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے فری لانسرز کو غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس رکھنے اور اپنی آمدن کا 50 فیصد تک ڈالر میں محفوظ رکھنے کی اجازت دی ہے، جبکہ سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ پاکستان میں رجسٹرڈ فری لانسرز پر صرف 0.25 فیصد ٹیکس عائد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ابراہیم امین کے مطابق فری لانسرز زرِمبادلہ میں اضافے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ متعلقہ حلقوں کا خیال ہے کہ اگر پالیسی سپورٹ اور ڈیجیٹل مہارتوں میں سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رہا تو رواں مالی سال کے اختتام تک فری لانسنگ سے حاصل ہونے والی آمدن ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی فری لانسرز نے رواں مالی سال  کی پہلی ششماہی کے دوران 500 ملین ڈالر سے زیادہ کا زرمبادلہ کمایا، جو ملک کی ڈیجیٹل معیشت کی بڑھتی ہوئی طاقت اور پاکستان کی ہنر مند افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی عالمی مانگ کی عکاسی کرتا ہے۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کے شعبے سے وابستہ فری لانسرز کی برآمدی وصولیاں جولائی تا دسمبر مالی سال 26 کے دوران 557 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال مالی سال 25 کی اسی مدت میں یہ رقم 352 ملین ڈالر تھی۔ اس طرح سالانہ بنیادوں پر 58 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت پاکستان کے عالمی فری لانسنگ مارکیٹ میں مسابقتی مرکز کے طور پر ابھرنے کا ثبوت ہے۔ سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائن، کانٹینٹ کری ایشن اور ای کامرس جیسے شعبوں میں پاکستانی نوجوان تیزی سے اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومتی اور نجی شعبے کی جانب سے سہولتوں اور تربیتی پروگراموں میں اضافے نے فری لانسنگ اور گگ اکانومی کے فروغ کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔</p>
<p>ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کل وقتی اور جزوقتی فری لانسرز کی تعداد تقریباً 2.37 ملین ہے۔ عالمی فری لانسنگ پلیٹ فارمز پر پاکستانی فری لانسرز کا شمار سرفہرست تین یا چار ممالک میں کیا جاتا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومت فری لانسرز کی سہولت اور ان کی معاشی شراکت بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ وزارت آئی ٹی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری، سستے براڈبینڈ، آسان ڈیجیٹل ادائیگی نظام اور مہارتوں میں اضافے کے پروگراموں پر کام کر رہی ہے تاکہ فری لانسرز عالمی منڈیوں تک باآسانی رسائی حاصل کر سکیں۔</p>
<p>حکومت نے فری لانسرز کو غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس رکھنے اور اپنی آمدن کا 50 فیصد تک ڈالر میں محفوظ رکھنے کی اجازت دی ہے، جبکہ سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ پاکستان میں رجسٹرڈ فری لانسرز پر صرف 0.25 فیصد ٹیکس عائد ہے۔</p>
<p>پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ابراہیم امین کے مطابق فری لانسرز زرِمبادلہ میں اضافے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ متعلقہ حلقوں کا خیال ہے کہ اگر پالیسی سپورٹ اور ڈیجیٹل مہارتوں میں سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رہا تو رواں مالی سال کے اختتام تک فری لانسنگ سے حاصل ہونے والی آمدن ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282819</guid>
      <pubDate>Sun, 15 Feb 2026 09:30:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/15092756ac25bab.webp" type="image/webp" medium="image" height="450" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/15092756ac25bab.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
