<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک بھارت مقابلہ: آغا سلمان کو اچھے کھیل کی توقع، کھلاڑیوں کے ہاتھ ملانے پر سوالیہ نشان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282812/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے توقع ظاہر کی ہے کہ اتوار کو اپنے روایتی حریف بھارت کے خلاف ٹی 20 ورلڈ کپ کا میچ مثبت کھیل کے جذبے کے ساتھ کھیلا جائے گا، تاہم وہ اس بات کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں کہ آیا میچ سے قبل  دونوں ٹیموں کے درمیان روایتی ہینڈ شیک ہوگا یا نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ٹیمیں گزشتہ سال کے ایشیا کپ فائنل کے بعد پہلی بار ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی، ایشیا کپ کا فائنل انتہائی کشیدہ ماحول میں منعقد ہوا تھا جو پاکستان اور بھارت کے درمیان  فوجی تصادم کے بعد پیدا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ ٹاکرا ایسے وقت میں ہورہا ہے جب اس سے قبل پاکستان نے سکیورٹی خدشات کی بنا پر بھارت میں کھیلنے سے انکار پر بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے نکالے جانے پر برہمی کا اظہار کیا اور اس مقابلے میں شرکت نہ کرنے کی دھمکی دی تھی، تاہم بعد میں یہ ارادہ ترک کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے کپتان سلمان آغا نے ہفتے کو کولمبو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے توقع ہے کہ یہ میچ اسی جذبے کے ساتھ کھیلا جانا چاہیے جس کے تحت یہ اپنے آغاز سے کھیلا جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا کپ میں بھارت نے پاکستان کو 3 بار شکست دی تھی جس میں 28 ستمبر کو دبئی میں کھیلا جانے والا فائنل بھی شامل ہے لیکن بھارتی ٹیم نے میچوں سے قبل یا بعد میں اپنے حریف کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانےسے انکار کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب آغا سلمان سے پوچھا گیا کہ کیا اس بار مصافحہ ہوگا تو انہوں نے کہا کہ  ہمیں کل پتہ چل جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی جانب سے بائیکاٹ کی دھمکی نے کرکٹ کے اس مہنگے ترین اور منافع بخش  مقابلے کو خطرے میں ڈال دیا تھا جس کی وجہ سے براڈکاسٹرز کو یہ خوف لاحق ہو گیا تھا کہ اشتہارات کی مد میں انہیں کروڑوں ڈالر کا نقصان ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی نے مذاکرات کے کئی دور منعقد کیے جس کے بعد ایک درمیانی راستہ نکالا گیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ میچ طے شدہ منصوبے کے مطابق منعقد ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آغا سلمان نے مزید کہا کہ پاک بھارت ٹاکرا ہمیشہ ہی ایک بڑے معرکے کی حیثیت رکھتا ہے اور کل کا میچ بھی اس سے مختلف نہیں ہوگا۔ ٹورنامنٹ میں آنے سے پہلے ہی ہم ہر طرح کی صورتحال کے لیے تیار تھے،خواہ میچ منعقد ہو یا نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کپتانوں پر دباؤ  زیادہ ہوتا ہے۔ جب آپ اپنی ٹیم کے کپتان ہوں اور اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے ہوں، تو یہ ایک اضافی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ آپ اس ذمہ داری سے راہِ فرار اختیار نہیں کرسکتے۔ جب آپ ملک کی نمائندگی اور کپتانی کر رہے ہوں تو دباؤ تو ہوگا ہی، بس آپ کو اس سے نمٹنے کا راستہ نکالنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو بارش کے قوی امکانات کے پیشِ نظر آغا سلمان نے کہا کہ پاکستان حالات کے مطابق ڈھلنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بارش ہمارے اختیار میں نہیں ہے، لیکن اگر میچ (اوورز میں) چھوٹا ہوتا ہے تو ہم ضروری تبدیلیاں کرنے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ دونوں ٹیمیں ٹورنامنٹ میں اپنے ابتدائی دو دو میچ جیت چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے توقع ظاہر کی ہے کہ اتوار کو اپنے روایتی حریف بھارت کے خلاف ٹی 20 ورلڈ کپ کا میچ مثبت کھیل کے جذبے کے ساتھ کھیلا جائے گا، تاہم وہ اس بات کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں کہ آیا میچ سے قبل  دونوں ٹیموں کے درمیان روایتی ہینڈ شیک ہوگا یا نہیں۔</strong></p>
<p>دونوں ٹیمیں گزشتہ سال کے ایشیا کپ فائنل کے بعد پہلی بار ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی، ایشیا کپ کا فائنل انتہائی کشیدہ ماحول میں منعقد ہوا تھا جو پاکستان اور بھارت کے درمیان  فوجی تصادم کے بعد پیدا ہوا تھا۔</p>
<p>موجودہ ٹاکرا ایسے وقت میں ہورہا ہے جب اس سے قبل پاکستان نے سکیورٹی خدشات کی بنا پر بھارت میں کھیلنے سے انکار پر بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے نکالے جانے پر برہمی کا اظہار کیا اور اس مقابلے میں شرکت نہ کرنے کی دھمکی دی تھی، تاہم بعد میں یہ ارادہ ترک کردیا گیا۔</p>
<p>پاکستان کے کپتان سلمان آغا نے ہفتے کو کولمبو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے توقع ہے کہ یہ میچ اسی جذبے کے ساتھ کھیلا جانا چاہیے جس کے تحت یہ اپنے آغاز سے کھیلا جاتا رہا ہے۔</p>
<p>ایشیا کپ میں بھارت نے پاکستان کو 3 بار شکست دی تھی جس میں 28 ستمبر کو دبئی میں کھیلا جانے والا فائنل بھی شامل ہے لیکن بھارتی ٹیم نے میچوں سے قبل یا بعد میں اپنے حریف کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانےسے انکار کردیا تھا۔</p>
<p>جب آغا سلمان سے پوچھا گیا کہ کیا اس بار مصافحہ ہوگا تو انہوں نے کہا کہ  ہمیں کل پتہ چل جائے گا۔</p>
<p>پاکستان کی جانب سے بائیکاٹ کی دھمکی نے کرکٹ کے اس مہنگے ترین اور منافع بخش  مقابلے کو خطرے میں ڈال دیا تھا جس کی وجہ سے براڈکاسٹرز کو یہ خوف لاحق ہو گیا تھا کہ اشتہارات کی مد میں انہیں کروڑوں ڈالر کا نقصان ہو جائے گا۔</p>
<p>آئی سی سی نے مذاکرات کے کئی دور منعقد کیے جس کے بعد ایک درمیانی راستہ نکالا گیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ میچ طے شدہ منصوبے کے مطابق منعقد ہو۔</p>
<p>آغا سلمان نے مزید کہا کہ پاک بھارت ٹاکرا ہمیشہ ہی ایک بڑے معرکے کی حیثیت رکھتا ہے اور کل کا میچ بھی اس سے مختلف نہیں ہوگا۔ ٹورنامنٹ میں آنے سے پہلے ہی ہم ہر طرح کی صورتحال کے لیے تیار تھے،خواہ میچ منعقد ہو یا نہ ہو۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ کپتانوں پر دباؤ  زیادہ ہوتا ہے۔ جب آپ اپنی ٹیم کے کپتان ہوں اور اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے ہوں، تو یہ ایک اضافی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ آپ اس ذمہ داری سے راہِ فرار اختیار نہیں کرسکتے۔ جب آپ ملک کی نمائندگی اور کپتانی کر رہے ہوں تو دباؤ تو ہوگا ہی، بس آپ کو اس سے نمٹنے کا راستہ نکالنا ہوتا ہے۔</p>
<p>اتوار کو بارش کے قوی امکانات کے پیشِ نظر آغا سلمان نے کہا کہ پاکستان حالات کے مطابق ڈھلنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بارش ہمارے اختیار میں نہیں ہے، لیکن اگر میچ (اوورز میں) چھوٹا ہوتا ہے تو ہم ضروری تبدیلیاں کرنے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ دونوں ٹیمیں ٹورنامنٹ میں اپنے ابتدائی دو دو میچ جیت چکی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282812</guid>
      <pubDate>Sat, 14 Feb 2026 16:57:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/14164038f1369fc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/14164038f1369fc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
