<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہتھیاروں کی دوڑ، خدشات اور وہی پرانی روش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282804/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کی جانب سے 85 ارب ڈالر کے ریکارڈ دفاعی بجٹ کی رونمائی کئ سوالات کو جنم دیتی ہے، بالخصوص جب اسے پاکستان کے ساتھ گزشتہ سال کے مختصر مگر شدید تنازع کے تناظر میں دیکھا جائے، ایک ایسا واقعہ جس سے نئی دہلی اپنی برتری ثابت کرنے کے بجائے اپنی ساکھ کو پہنچنے والی ٹھیس کے ساتھ باہر نکلا تھا لہٰذا بجٹ میں اس اضافے کے پیمانے اور وقت کو اسلام آباد میں معمول کی جدید کاری کے بجائے ایک سیاسی سگنل کے طور پر پڑھا جا رہا ہے جو پہلے سے ہی کمزور علاقائی توازن کے لیے گہرے مضمرات رکھتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں یہ تاثر تقویت پکڑرہا ہے کہ بھارتی قیادت ابھی تک اس ٹکراؤ کے اثرات کو مکمل طور پر ہضم نہیں کرپائی ہے۔ ایک فیصلہ کن نتیجے کی توقعات کو بڑے شوروغل کے ساتھ پروان چڑھایا گیا تھا لیکن حقیقت اس کے برعکس کہیں زیادہ الجھی ہوئی ثابت ہوئی۔ بھارت نے اپنے طیارے، اپنی ساکھ اور سبقت  کھودی۔ اس کے بعد عالمی سطح پر اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور تب سے اب تک بھارت کی داخلی مقبولیت کی درجہ بندی میں دباؤ کے آثار نمایاں ہیں۔ ایسی صورتحال میں دفاعی اخراجات باآسانی ایک دوسرا رخ اختیار کر سکتے ہیں: یعنی گھر کی بے چینی کا ازالہ کرنے کے لیے باہر اپنی طاقت کا رعب ڈالنا۔ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی بحرانوں کی تاریخ رہی ہے کہ وہ بیرونی خطرات کے ساتھ  اندرونی سیاست سے بھی متاثر ہوتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ کے خدوخال اس تشویش کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ مجوزہ سرمایہ کاری لڑاکا طیاروں، ڈرونز، آبدوزوں، میزائلوں اور تیز رفتار فوجی انفرااسٹرکچر تک پھیلی ہوئی ہے جس کے ساتھ دفاعی اخراجات کو مقامی مینوفیکچرنگ اور تزویراتی خود مختاری کے ساتھ جوڑنے پر زور دیا جارہا ہے۔ بھارت کے نقطہ نظر سے یہ اقدام سیکیورٹی کو صنعتی عزائم کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے تاہم اس کے پڑوسیوں کیلئے یہ علاقائی مسابقت میں بڑھتی شدت کا اشارہ ہے۔ فوجی صلاحیت جب ایک بار تیار ہوجائے تو وہ سرکاری یقین دہانیوں سے قطع نظر طرزِ عمل کو تبدیل کردیتی ہے۔ ارادے بدل سکتے ہیں لیکن صلاحیتیں برقرار رہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے فوری تشویش صرف (بجٹ کے) اعدادوشمار نہیں ہیں، بلکہ وہ سیاق و سباق ہے جس میں یہ سامنے آئے ہیں۔ غیر حل شدہ تنازعات کے بعد دفاعی توسیع پسندی سفارتی گنجائش کو بڑھانے کے بجائے مزید تنگ کردیتی ہے۔ یہ چیز طاقت کے اظہار ، مرحلہ وار کشیدگی  اور خطرناک اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، بالخصوص جب اندرونی سیاسی مفادات تصادم کو فائدہ مند سمجھتے ہوں۔ جوہری ہتھیاروں سے لیس ماحول میں جہاں فیصلہ سازی کے لیے وقت بہت کم ہوتا ہے، یہ امتزاج فطرتی طور پر خطرناک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ علاقائی خدشات ایک کہیں زیادہ تشویشناک عالمی طرزِ عمل کا حصہ ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی اور ان کی جانب سے تجارت، اتحادوں اور سیکیورٹی کے ضوابط میں دوبارہ پیدا کی گئی خلل اندازی کے بعد سے، بین الاقوامی تحمل و بردباری میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے حصوں میں دفاعی اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی بنیاد اعتماد کے بجائے غیر یقینی صورتحال پر ہے۔ دفاعی بجٹ اب ایک ایسی دنیا کے خلاف ’انشورنس پالیسی‘ بن چکے ہیں جسے غیر متوقع اور مفاد پرستانہ  سمجھا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے دفاعی بجٹ میں یہ اضافہ اسی عالمی رجحان کے عین مطابق ہے۔ یہ عسکریت پسندی کی جانب اس عالمی جھکاؤ کی عکاسی کرتا ہے جہاں سفارت کاری، طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کے ساتھ قدم ملا کر چلنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ تاہم، تاریخ اس حوالے سے کوئی خاص تسلی نہیں دیتی کہ اسلحے کے اخراجات میں اضافے سے استحکام پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، یہ اکثر شکوک و شبہات کو پختہ کرتا ہے اور ہتھیاروں کی ایسی دوڑ کو تیز کرتا ہے جو خود اپنی بنیادوں پر پروان چڑھتی ہے۔ جنوبی ایشیا، جو پہلے ہی بحرانوں اور بے اعتمادی کی وراثت سے جڑا ہوا ہے، ان حالات سے خاص طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا پاکستان کے لیے چیلنج دہرا ہے۔ اول یہ کہ اسے بھارت کے دفاعی طرزِ عمل کا جائزہ محض بیان بازی کے بجائے حقیقت پسندی سے لینا ہوگا جس میں اس کے داخلی محرکات اور تزویراتی نتائج دونوں کا ادراک شامل ہو۔ دوم یہ کہ اسے ردِعمل میں ہونے والی اس شدت کا حصہ بننے سے بچنا ہوگا جو کسی دوسرے ملک کے قلیل مدتی سیاسی بیانیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔ حالیہ برسوں میں پاکستان کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ مستحکم دفاعی صلاحیت اور سفارتی روابط کے ساتھ کیا جانے والا ضبطِ  و تحمل اشتعال انگیزی کو اس کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرنے دیتا۔ یہ سبق آج بھی اتنا ہی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ضبطِ  کو غفلت یا اطمینانِ قلب نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ وہ خطہ جو تیزی سے فوجی تیاریوں اور اسلحے کے انبار کا مشاہدہ کر رہا ہو، وہاں صرف ’دانشمندانہ طرزِ عمل‘ کے مفروضوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ جب اسلحہ خانوں میں وسعت آتی ہے، تو بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار، رابطے کے ذرائع اور ’اعتماد سازی کے اقدامات‘ کی اہمیت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتی ہے۔ ان حفاظتی اقدامات  کی عدم موجودگی اس خطرے کو بڑھا دیتی ہے کہ مستقبل کے نتائج کا فیصلہ تزویراتی حکمتِ عملی کے بجائے کسی غلط فہمی یا غلط اندازے کی بنیاد پر ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں ایک وسیع تر سوال بھی موجود ہے جو صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں ہے۔ براعظموں کے پار بڑھتے ہوئے دفاعی بجٹ بین الاقوامی نظام میں موجود ایک گہری بیماری کی علامات ہیں۔ جیسے جیسے معاشی غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے اور کثیر الجہتی ڈھانچےکمزور ہو رہے ہیں، حکومتیں نظم و ضبط کے متبادل کے طور پر ہتھیاروں کا رخ کر رہی ہیں۔ یہ عمل شاید مقامی عوام کو عارضی طور پر مطمئن کر دے لیکن طویل مدت میں یہ معاشروں کو غریب، غیر محفوظ اور مزید تقسیم کردیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی دہلی میں بھارت کے دفاعی بجٹ کا دفاع اسے دانشمندانہ، ضروری اور مستقبل بین قرار دے کر کیا جائے گا۔ تاہم، پاکستان کے نقطہ نظر سے یہ (بجٹ) نیت، وقت اور نتائج کے حوالے سے خدشات کو مزید سنگین بناتا ہے، خاص طور پر ایک ایسے تنازع کے اتنے کم عرصے بعد جس نے پاکستان کی تزویراتی برتری  ثابت کر دی تھی۔ عسکریت پسندی کی جانب بڑھتے ہوئے عالمی رجحانات کے ساتھ مل کر، یہ اس احساس کو مزید پختہ کرتا ہے کہ دنیا مفاہمت کے بجائے تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“پاکستان کے لیے لائحہ عمل واضح ہے: ان اشاروں کو تحمل کے ساتھ سمجھا جائے، دکھاوے کے بغیر اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کیا جائے اور توجہ بحرانوں کا جواب دینے کے بجائے انہیں روکنے پر مرکوز رکھی جائے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں غلط فیصلے کی قیمت سب کو معلوم ہے، وہاں تدبر و احتیاط کمزوری نہیں، بلکہ درحقیقت طاقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائت بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کی جانب سے 85 ارب ڈالر کے ریکارڈ دفاعی بجٹ کی رونمائی کئ سوالات کو جنم دیتی ہے، بالخصوص جب اسے پاکستان کے ساتھ گزشتہ سال کے مختصر مگر شدید تنازع کے تناظر میں دیکھا جائے، ایک ایسا واقعہ جس سے نئی دہلی اپنی برتری ثابت کرنے کے بجائے اپنی ساکھ کو پہنچنے والی ٹھیس کے ساتھ باہر نکلا تھا لہٰذا بجٹ میں اس اضافے کے پیمانے اور وقت کو اسلام آباد میں معمول کی جدید کاری کے بجائے ایک سیاسی سگنل کے طور پر پڑھا جا رہا ہے جو پہلے سے ہی کمزور علاقائی توازن کے لیے گہرے مضمرات رکھتا ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان میں یہ تاثر تقویت پکڑرہا ہے کہ بھارتی قیادت ابھی تک اس ٹکراؤ کے اثرات کو مکمل طور پر ہضم نہیں کرپائی ہے۔ ایک فیصلہ کن نتیجے کی توقعات کو بڑے شوروغل کے ساتھ پروان چڑھایا گیا تھا لیکن حقیقت اس کے برعکس کہیں زیادہ الجھی ہوئی ثابت ہوئی۔ بھارت نے اپنے طیارے، اپنی ساکھ اور سبقت  کھودی۔ اس کے بعد عالمی سطح پر اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور تب سے اب تک بھارت کی داخلی مقبولیت کی درجہ بندی میں دباؤ کے آثار نمایاں ہیں۔ ایسی صورتحال میں دفاعی اخراجات باآسانی ایک دوسرا رخ اختیار کر سکتے ہیں: یعنی گھر کی بے چینی کا ازالہ کرنے کے لیے باہر اپنی طاقت کا رعب ڈالنا۔ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی بحرانوں کی تاریخ رہی ہے کہ وہ بیرونی خطرات کے ساتھ  اندرونی سیاست سے بھی متاثر ہوتے رہے ہیں۔</p>
<p>بجٹ کے خدوخال اس تشویش کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ مجوزہ سرمایہ کاری لڑاکا طیاروں، ڈرونز، آبدوزوں، میزائلوں اور تیز رفتار فوجی انفرااسٹرکچر تک پھیلی ہوئی ہے جس کے ساتھ دفاعی اخراجات کو مقامی مینوفیکچرنگ اور تزویراتی خود مختاری کے ساتھ جوڑنے پر زور دیا جارہا ہے۔ بھارت کے نقطہ نظر سے یہ اقدام سیکیورٹی کو صنعتی عزائم کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے تاہم اس کے پڑوسیوں کیلئے یہ علاقائی مسابقت میں بڑھتی شدت کا اشارہ ہے۔ فوجی صلاحیت جب ایک بار تیار ہوجائے تو وہ سرکاری یقین دہانیوں سے قطع نظر طرزِ عمل کو تبدیل کردیتی ہے۔ ارادے بدل سکتے ہیں لیکن صلاحیتیں برقرار رہتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے لیے فوری تشویش صرف (بجٹ کے) اعدادوشمار نہیں ہیں، بلکہ وہ سیاق و سباق ہے جس میں یہ سامنے آئے ہیں۔ غیر حل شدہ تنازعات کے بعد دفاعی توسیع پسندی سفارتی گنجائش کو بڑھانے کے بجائے مزید تنگ کردیتی ہے۔ یہ چیز طاقت کے اظہار ، مرحلہ وار کشیدگی  اور خطرناک اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، بالخصوص جب اندرونی سیاسی مفادات تصادم کو فائدہ مند سمجھتے ہوں۔ جوہری ہتھیاروں سے لیس ماحول میں جہاں فیصلہ سازی کے لیے وقت بہت کم ہوتا ہے، یہ امتزاج فطرتی طور پر خطرناک ہے۔</p>
<p>یہ علاقائی خدشات ایک کہیں زیادہ تشویشناک عالمی طرزِ عمل کا حصہ ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی اور ان کی جانب سے تجارت، اتحادوں اور سیکیورٹی کے ضوابط میں دوبارہ پیدا کی گئی خلل اندازی کے بعد سے، بین الاقوامی تحمل و بردباری میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے حصوں میں دفاعی اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی بنیاد اعتماد کے بجائے غیر یقینی صورتحال پر ہے۔ دفاعی بجٹ اب ایک ایسی دنیا کے خلاف ’انشورنس پالیسی‘ بن چکے ہیں جسے غیر متوقع اور مفاد پرستانہ  سمجھا جارہا ہے۔</p>
<p>بھارت کے دفاعی بجٹ میں یہ اضافہ اسی عالمی رجحان کے عین مطابق ہے۔ یہ عسکریت پسندی کی جانب اس عالمی جھکاؤ کی عکاسی کرتا ہے جہاں سفارت کاری، طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کے ساتھ قدم ملا کر چلنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ تاہم، تاریخ اس حوالے سے کوئی خاص تسلی نہیں دیتی کہ اسلحے کے اخراجات میں اضافے سے استحکام پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، یہ اکثر شکوک و شبہات کو پختہ کرتا ہے اور ہتھیاروں کی ایسی دوڑ کو تیز کرتا ہے جو خود اپنی بنیادوں پر پروان چڑھتی ہے۔ جنوبی ایشیا، جو پہلے ہی بحرانوں اور بے اعتمادی کی وراثت سے جڑا ہوا ہے، ان حالات سے خاص طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا پاکستان کے لیے چیلنج دہرا ہے۔ اول یہ کہ اسے بھارت کے دفاعی طرزِ عمل کا جائزہ محض بیان بازی کے بجائے حقیقت پسندی سے لینا ہوگا جس میں اس کے داخلی محرکات اور تزویراتی نتائج دونوں کا ادراک شامل ہو۔ دوم یہ کہ اسے ردِعمل میں ہونے والی اس شدت کا حصہ بننے سے بچنا ہوگا جو کسی دوسرے ملک کے قلیل مدتی سیاسی بیانیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔ حالیہ برسوں میں پاکستان کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ مستحکم دفاعی صلاحیت اور سفارتی روابط کے ساتھ کیا جانے والا ضبطِ  و تحمل اشتعال انگیزی کو اس کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرنے دیتا۔ یہ سبق آج بھی اتنا ہی اہم ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ضبطِ  کو غفلت یا اطمینانِ قلب نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ وہ خطہ جو تیزی سے فوجی تیاریوں اور اسلحے کے انبار کا مشاہدہ کر رہا ہو، وہاں صرف ’دانشمندانہ طرزِ عمل‘ کے مفروضوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ جب اسلحہ خانوں میں وسعت آتی ہے، تو بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار، رابطے کے ذرائع اور ’اعتماد سازی کے اقدامات‘ کی اہمیت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتی ہے۔ ان حفاظتی اقدامات  کی عدم موجودگی اس خطرے کو بڑھا دیتی ہے کہ مستقبل کے نتائج کا فیصلہ تزویراتی حکمتِ عملی کے بجائے کسی غلط فہمی یا غلط اندازے کی بنیاد پر ہو۔</p>
<p>اس میں ایک وسیع تر سوال بھی موجود ہے جو صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں ہے۔ براعظموں کے پار بڑھتے ہوئے دفاعی بجٹ بین الاقوامی نظام میں موجود ایک گہری بیماری کی علامات ہیں۔ جیسے جیسے معاشی غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے اور کثیر الجہتی ڈھانچےکمزور ہو رہے ہیں، حکومتیں نظم و ضبط کے متبادل کے طور پر ہتھیاروں کا رخ کر رہی ہیں۔ یہ عمل شاید مقامی عوام کو عارضی طور پر مطمئن کر دے لیکن طویل مدت میں یہ معاشروں کو غریب، غیر محفوظ اور مزید تقسیم کردیتا ہے۔</p>
<p>نئی دہلی میں بھارت کے دفاعی بجٹ کا دفاع اسے دانشمندانہ، ضروری اور مستقبل بین قرار دے کر کیا جائے گا۔ تاہم، پاکستان کے نقطہ نظر سے یہ (بجٹ) نیت، وقت اور نتائج کے حوالے سے خدشات کو مزید سنگین بناتا ہے، خاص طور پر ایک ایسے تنازع کے اتنے کم عرصے بعد جس نے پاکستان کی تزویراتی برتری  ثابت کر دی تھی۔ عسکریت پسندی کی جانب بڑھتے ہوئے عالمی رجحانات کے ساتھ مل کر، یہ اس احساس کو مزید پختہ کرتا ہے کہ دنیا مفاہمت کے بجائے تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔“</p>
<p>“پاکستان کے لیے لائحہ عمل واضح ہے: ان اشاروں کو تحمل کے ساتھ سمجھا جائے، دکھاوے کے بغیر اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کیا جائے اور توجہ بحرانوں کا جواب دینے کے بجائے انہیں روکنے پر مرکوز رکھی جائے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں غلط فیصلے کی قیمت سب کو معلوم ہے، وہاں تدبر و احتیاط کمزوری نہیں، بلکہ درحقیقت طاقت ہے۔</p>
<p>کاپی رائت بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282804</guid>
      <pubDate>Sat, 14 Feb 2026 15:01:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/14145711aaa37d4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/14145711aaa37d4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
