<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ٹیرف کا خطرہ: پاکستان کا ایران کے ساتھ تجارت میں محتاط رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282797/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بزنس ریکارڈر کو باوثوق ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق حکومت نے ایران کے ساتھ تجارت کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے ان ممالک پر 25 فیصد ٹیرف (درآمدی ڈیوٹی) عائد کرنے کے ممکنہ اعلان کے بعد کیا گیا ہے جو تہران کے ساتھ کاروبار کررہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں وزارتِ تجارت نے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی تیار کرنے کی خاطر 10 فروری 2026ء کو متعلقہ اسٹیک ہولڈرز (فریقین) کے ساتھ ایک بین الوزارتی اجلاس منعقد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنوں کے ساتھ اپنے رابطے میں  وزارتِ تجارت نے وزارتِ خارجہ کے 13 جنوری 2026ء کے ایک خط کا حوالہ دیا جو امریکی صدر کے 6 فروری 2026ء کے اس ایگزیکٹو آرڈر سے متعلق تھا جس میں کہا گیا تھا کہ:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حکم نامے کی نافذ العمل تاریخ سے شروع ہوتے ہوئے امریکہ میں درآمد کی جانے والی ان اشیاء پر اضافی ایڈ ویلورم  ڈیوٹی کی شرح مثلاً 25 فیصد عائد کی جاسکتی ہے جو کسی ایسے ملک کی مصنوعات ہوں جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر کسی بھی ایرانی مصنوعات کو خریدتا، درآمد کرتا یا بصورتِ دیگر حاصل کرتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے ساتھ پاکستان کی دوطرفہ تجارت محدود ہے، جس کی بڑی وجہ طویل عرصے سے برقرار امریکی پابندیاں ہیں۔ زیادہ تر تجارت ’بارٹر‘ (مال کے بدلے مال) کے انتظامات یا غیر رسمی ذرائع سے کی جاتی ہے، کیونکہ بینکنگ چینلز کی عدم موجودگی کے باعث رسمی تجارت نہ ہونے کے برابر ہے۔ تاہم، وسطی ایشیائی ریاستوں  کو ہونے والی برآمدات کے لیے ایرانی ٹرانسپورٹ سروسز استعمال کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے مطابق امریکہ اب بھی پاکستان کی برآمدات کے لیے سب سے بڑی واحد ملکی منزل ہے جس کا مالی سال 25-2024 کے دوران کل برآمدات میں حصہ 18 فیصد—یا تقریباً 5.8 ارب ڈالر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی مارکیٹ کو ہونے والی پاکستان کی برآمدات کا تقریباً 82 فیصد ٹیکسٹائل اور ملبوسات پر مشتمل ہے۔ یہ شدید انحصار امریکی تجارتی پالیسی میں ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے پاکستان کی نزاکت (کمزوری) کو ظاہر کرتا ہے اور امریکی مارکیٹ تک بلا تعطل رسائی برقرار رکھنے کی تزویراتی (اسٹریٹجک) اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اشیاء کے علاوہ امریکہ آئی ٹی اور آئی ٹی سے وابستہ خدمات کے لیے بھی پاکستان کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے جہاں مالی سال 25-2024 کے دوران برآمدات تقریباً 2.2 ارب ڈالر رہیں جو کہ پاکستان کی 3.8 ارب ڈالر کی کل آئی ٹی برآمدات کا 58 فیصد بنتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی برآمد کنندگان ایمازون اور دیگر آن لائن ای کامرس پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی سرگرمی سے فروخت کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ تجارت نے مزید نوٹ کیا کہ امریکی انتظامیہ نے 31 جولائی 2025ء کو پاکستان پر 19 فیصد جوابی ٹیرف عائد کیا تھا۔ اس اقدام کے باوجود امریکہ کو ہونے والی پاکستان کی برآمدات مستحکم رہی ہیں اور ان میں اضافے کا رجحان ظاہر ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حکام نے خبردار کیا کہ ٹیرف کا کوئی بھی اضافی بوجھ پاکستان کی برآمدی مسابقت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہ بھارت، کمبوڈیا، ویتنام، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا جیسے حریف ممالک کو فائدہ پہنچانے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;10 فروری کے اجلاس کے دوران اسٹیک ہولڈرز نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر مجوزہ 25 فیصد ٹیرف کے ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی تجارتی معاملات کو سنبھالنے کے ساتھ پاکستان کے برآمدی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک محتاط اور متوازن پالیسی ردِعمل کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ امریکہ کی مارکیٹ پر، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور آئی ٹی خدمات میں، پاکستان کے بھاری انحصار کے پیشِ نظر حکومت تہران کے ساتھ اپنے تعلقات میں محتاط انداز اختیار کرنے کی جانب مائل ہے تاکہ اپنی سب سے بڑی برآمدی منزل تک رسائی خطرے میں نہ پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے اشارہ دیا کہ امریکی مارکیٹ پر پاکستان کے شدید انحصار خاص طور پر ٹیکسٹائل اور آئی ٹی خدمات میں کے پیشِ نظر حکومت تہران کے ساتھ اپنے معاملات میں احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنے کی طرف مائل ہے تاکہ اپنی سب سے بڑی برآمدی منزل تک رسائی کو خطرے میں ڈالنے سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بزنس ریکارڈر کو باوثوق ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق حکومت نے ایران کے ساتھ تجارت کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے ان ممالک پر 25 فیصد ٹیرف (درآمدی ڈیوٹی) عائد کرنے کے ممکنہ اعلان کے بعد کیا گیا ہے جو تہران کے ساتھ کاروبار کررہے ہیں۔</strong></p>
<p>اس سلسلے میں وزارتِ تجارت نے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی تیار کرنے کی خاطر 10 فروری 2026ء کو متعلقہ اسٹیک ہولڈرز (فریقین) کے ساتھ ایک بین الوزارتی اجلاس منعقد کیا۔</p>
<p>متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنوں کے ساتھ اپنے رابطے میں  وزارتِ تجارت نے وزارتِ خارجہ کے 13 جنوری 2026ء کے ایک خط کا حوالہ دیا جو امریکی صدر کے 6 فروری 2026ء کے اس ایگزیکٹو آرڈر سے متعلق تھا جس میں کہا گیا تھا کہ:</p>
<p>اس حکم نامے کی نافذ العمل تاریخ سے شروع ہوتے ہوئے امریکہ میں درآمد کی جانے والی ان اشیاء پر اضافی ایڈ ویلورم  ڈیوٹی کی شرح مثلاً 25 فیصد عائد کی جاسکتی ہے جو کسی ایسے ملک کی مصنوعات ہوں جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر کسی بھی ایرانی مصنوعات کو خریدتا، درآمد کرتا یا بصورتِ دیگر حاصل کرتا ہو۔</p>
<p>ایران کے ساتھ پاکستان کی دوطرفہ تجارت محدود ہے، جس کی بڑی وجہ طویل عرصے سے برقرار امریکی پابندیاں ہیں۔ زیادہ تر تجارت ’بارٹر‘ (مال کے بدلے مال) کے انتظامات یا غیر رسمی ذرائع سے کی جاتی ہے، کیونکہ بینکنگ چینلز کی عدم موجودگی کے باعث رسمی تجارت نہ ہونے کے برابر ہے۔ تاہم، وسطی ایشیائی ریاستوں  کو ہونے والی برآمدات کے لیے ایرانی ٹرانسپورٹ سروسز استعمال کی جاتی ہیں۔</p>
<p>ایف بی آر کے مطابق امریکہ اب بھی پاکستان کی برآمدات کے لیے سب سے بڑی واحد ملکی منزل ہے جس کا مالی سال 25-2024 کے دوران کل برآمدات میں حصہ 18 فیصد—یا تقریباً 5.8 ارب ڈالر رہا۔</p>
<p>امریکی مارکیٹ کو ہونے والی پاکستان کی برآمدات کا تقریباً 82 فیصد ٹیکسٹائل اور ملبوسات پر مشتمل ہے۔ یہ شدید انحصار امریکی تجارتی پالیسی میں ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے پاکستان کی نزاکت (کمزوری) کو ظاہر کرتا ہے اور امریکی مارکیٹ تک بلا تعطل رسائی برقرار رکھنے کی تزویراتی (اسٹریٹجک) اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔</p>
<p>اشیاء کے علاوہ امریکہ آئی ٹی اور آئی ٹی سے وابستہ خدمات کے لیے بھی پاکستان کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے جہاں مالی سال 25-2024 کے دوران برآمدات تقریباً 2.2 ارب ڈالر رہیں جو کہ پاکستان کی 3.8 ارب ڈالر کی کل آئی ٹی برآمدات کا 58 فیصد بنتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی برآمد کنندگان ایمازون اور دیگر آن لائن ای کامرس پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی سرگرمی سے فروخت کررہے ہیں۔</p>
<p>وزارتِ تجارت نے مزید نوٹ کیا کہ امریکی انتظامیہ نے 31 جولائی 2025ء کو پاکستان پر 19 فیصد جوابی ٹیرف عائد کیا تھا۔ اس اقدام کے باوجود امریکہ کو ہونے والی پاکستان کی برآمدات مستحکم رہی ہیں اور ان میں اضافے کا رجحان ظاہر ہو رہا ہے۔</p>
<p>تاہم حکام نے خبردار کیا کہ ٹیرف کا کوئی بھی اضافی بوجھ پاکستان کی برآمدی مسابقت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہ بھارت، کمبوڈیا، ویتنام، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا جیسے حریف ممالک کو فائدہ پہنچانے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔</p>
<p>10 فروری کے اجلاس کے دوران اسٹیک ہولڈرز نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر مجوزہ 25 فیصد ٹیرف کے ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی تجارتی معاملات کو سنبھالنے کے ساتھ پاکستان کے برآمدی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک محتاط اور متوازن پالیسی ردِعمل کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ امریکہ کی مارکیٹ پر، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور آئی ٹی خدمات میں، پاکستان کے بھاری انحصار کے پیشِ نظر حکومت تہران کے ساتھ اپنے تعلقات میں محتاط انداز اختیار کرنے کی جانب مائل ہے تاکہ اپنی سب سے بڑی برآمدی منزل تک رسائی خطرے میں نہ پڑے۔</p>
<p>ذرائع نے اشارہ دیا کہ امریکی مارکیٹ پر پاکستان کے شدید انحصار خاص طور پر ٹیکسٹائل اور آئی ٹی خدمات میں کے پیشِ نظر حکومت تہران کے ساتھ اپنے معاملات میں احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنے کی طرف مائل ہے تاکہ اپنی سب سے بڑی برآمدی منزل تک رسائی کو خطرے میں ڈالنے سے بچا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282797</guid>
      <pubDate>Sat, 14 Feb 2026 12:30:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/14121427aec8240.webp" type="image/webp" medium="image" height="850" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/14121427aec8240.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
