<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 10:39:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 10:39:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایپسٹین کیس کے دباؤ کے بعد دبئی کی ڈی پی ورلڈ نے نئے چیئرمین اور سی ای او کے ناموں کا اعلان کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282786/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دبئی کے بندرگاہی شعبے کی عالمی شہرت یافتہ کمپنی ڈی پی ورلڈ  نے  عیسیٰ کاظم کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کا چیئرمین اور یووراج نارائن کو گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دبئی میڈیا آفس کے مطابق یہ تقرریاں موجودہ سربراہ سلطان بن سلیم پر بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ مبینہ تعلقات کے حوالے سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد عمل میں آئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی کانگریس کے ارکان کا کہنا ہے کہ ڈی پی ورلڈ کے طویل عرصے سے چیئرمین اور سی ای او رہنے والے سلطان احمد بن سلیم کا نام ان فائلوں میں سامنے آیا ہے، جس کے بعد جنسی جرائم کے مرتکب جیفری ایپسٹین کے ساتھ ان کے ماضی کے روابط کی ازسرِ نو جانچ پڑتال شروع ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ وہ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ ایپسٹین فائلوں میں موجود الزامات کا آزادانہ طور پر جائزہ نہیں لے سکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلطان بن سلیم جن کا شمار دبئی کے بااثر ترین کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے گزشتہ چار دہائیوں سے ڈی پی ورلڈ کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کے دور میں کمپنی نے اس حد تک وسعت اختیار کی کہ وہ لاجسٹکس کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک بن گئی، جو کمپنی کے بقول عالمی تجارت کے تقریباً 10 فیصد حصے کو سنبھالتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کی ترقیاتی مالیاتی ایجنسی برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ اور کینیڈا کے دوسرے بڑے پنشن فنڈ نے ایپسٹین کیس کے الزامات کے باعث ڈی پی ورلڈ کے ساتھ نئی سرمایہ کاری معطل کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دبئی کے بندرگاہی شعبے کی عالمی شہرت یافتہ کمپنی ڈی پی ورلڈ  نے  عیسیٰ کاظم کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کا چیئرمین اور یووراج نارائن کو گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دبئی میڈیا آفس کے مطابق یہ تقرریاں موجودہ سربراہ سلطان بن سلیم پر بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ مبینہ تعلقات کے حوالے سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد عمل میں آئی ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی کانگریس کے ارکان کا کہنا ہے کہ ڈی پی ورلڈ کے طویل عرصے سے چیئرمین اور سی ای او رہنے والے سلطان احمد بن سلیم کا نام ان فائلوں میں سامنے آیا ہے، جس کے بعد جنسی جرائم کے مرتکب جیفری ایپسٹین کے ساتھ ان کے ماضی کے روابط کی ازسرِ نو جانچ پڑتال شروع ہو گئی ہے۔</p>
<p>خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ وہ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ ایپسٹین فائلوں میں موجود الزامات کا آزادانہ طور پر جائزہ نہیں لے سکا ہے۔</p>
<p>سلطان بن سلیم جن کا شمار دبئی کے بااثر ترین کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے گزشتہ چار دہائیوں سے ڈی پی ورلڈ کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کے دور میں کمپنی نے اس حد تک وسعت اختیار کی کہ وہ لاجسٹکس کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک بن گئی، جو کمپنی کے بقول عالمی تجارت کے تقریباً 10 فیصد حصے کو سنبھالتی ہے۔</p>
<p>برطانیہ کی ترقیاتی مالیاتی ایجنسی برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ اور کینیڈا کے دوسرے بڑے پنشن فنڈ نے ایپسٹین کیس کے الزامات کے باعث ڈی پی ورلڈ کے ساتھ نئی سرمایہ کاری معطل کر دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282786</guid>
      <pubDate>Fri, 13 Feb 2026 18:32:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/13182747aed345e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/13182747aed345e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
