<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایکسپورٹ ری فنانس ریٹ میں 3 فیصد کمی کا خیرمقدم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282776/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے بینکنگ سیکٹر کی جانب سے ایکسپورٹ ری فنانس فیسیلٹی (ای آر ایف) کی شرح میں 3 فیصد رضاکارانہ کمی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جس سے برآمد کنندگان کے لیے لاگت کم ہو کر 4.50 فیصد رہ گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اسے ملکی برآمدی صنعتوں کے لیے ایک بروقت  لائف لائن  قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کاروباری لاگت کو کم کرنے کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف اکرام شیخ کے مطابق 300 بیسس پوائنٹس کی یہ کمی محض ایک مالیاتی تبدیلی نہیں بلکہ پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں مسابقتی بنانے کا ذریعہ ہے۔ اب پاکستانی برآمد کنندگان بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے علاقائی حریفوں کا بہتر مقابلہ کر سکیں گے، جنہیں تاریخی طور پر سستی مالیاتی سہولیات میسر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی کے سربراہ نے مزید کہا کہ اس شرح سود میں کمی سے صنعتی قرضوں کے حصول میں تیزی آئے گی۔ گزشتہ مالی سال کے دوران چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری (ایس ایم ای) قرضہ لینے والوں کی تعداد میں 57 فیصد اضافہ ہوا ہے اور 4.5 فیصد کی یہ شرح اس تسلسل کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اگر حکومت اور اسٹیٹ بینک کا تعاون جاری رہا تو اس اقدام سے سالانہ برآمدی ترقی میں مثبت اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے بینکنگ سیکٹر کی جانب سے ایکسپورٹ ری فنانس فیسیلٹی (ای آر ایف) کی شرح میں 3 فیصد رضاکارانہ کمی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جس سے برآمد کنندگان کے لیے لاگت کم ہو کر 4.50 فیصد رہ گئی ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے اسے ملکی برآمدی صنعتوں کے لیے ایک بروقت  لائف لائن  قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کاروباری لاگت کو کم کرنے کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوا ہے۔</p>
<p>عاطف اکرام شیخ کے مطابق 300 بیسس پوائنٹس کی یہ کمی محض ایک مالیاتی تبدیلی نہیں بلکہ پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں مسابقتی بنانے کا ذریعہ ہے۔ اب پاکستانی برآمد کنندگان بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے علاقائی حریفوں کا بہتر مقابلہ کر سکیں گے، جنہیں تاریخی طور پر سستی مالیاتی سہولیات میسر رہی ہیں۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی کے سربراہ نے مزید کہا کہ اس شرح سود میں کمی سے صنعتی قرضوں کے حصول میں تیزی آئے گی۔ گزشتہ مالی سال کے دوران چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری (ایس ایم ای) قرضہ لینے والوں کی تعداد میں 57 فیصد اضافہ ہوا ہے اور 4.5 فیصد کی یہ شرح اس تسلسل کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اگر حکومت اور اسٹیٹ بینک کا تعاون جاری رہا تو اس اقدام سے سالانہ برآمدی ترقی میں مثبت اضافہ ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282776</guid>
      <pubDate>Fri, 13 Feb 2026 14:35:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/13142826720d5de.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/13142826720d5de.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
