<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:35:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:35:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رواں مالی سال کی پہلی ششماہی، زرعی قرضے 1.4 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282752/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالی سال 26 کی پہلی ششماہی میں بینکاری شعبے کی جانب سے زرعی قرضوں کی فراہمی 1,412 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ قرض لینے والوں کی تعداد معمولی اضافے کے ساتھ 2.97 ملین ہو گئی، جو ملک بھر میں کاشتکاروں تک رسائی میں وسعت کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ بات اسٹیٹ بینک کی جانب سے بدھ کو کراچی میں منعقدہ ایگریکلچرل کریڈٹ ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں زرعی قرضہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور جامع و پائیدار زرعی مالیات کو فروغ دینے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ مالی سال 26 کے لیے اپنے زرعی کریڈٹ توسیعی منصوبوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نے زمینوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن کے لیے صوبائی حکومتوں سے تعاون اور فن ٹیک، ایگری ٹیک کمپنیوں اور مائیکرو فنانس اداروں کے ساتھ شراکت داری بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کی معیشت نے میکرو اکنامک استحکام دوبارہ حاصل کر لیا ہے اور پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہے۔ پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جبکہ پورے سال کے لیے شرح نمو 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان متوقع ہے۔ جنوری 2026 تک ہیڈ لائن افراط زر کم ہو کر 5.8 فیصد پر آ گئی ہے، جس سے قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے ترقی کی حمایت ممکن ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ مالی سال 25 میں اسٹیٹ بینک اور بینکاری شعبے کی مشترکہ کاوشوں سے زرعی قرضوں کی فراہمی 2,577 ارب روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچی، جو سالانہ بنیاد پر 16 فیصد اضافہ تھا۔ اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے مالی سال 26 کے پہلے نصف میں 1,412 ارب روپے کے قرض جاری کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں اسٹیٹ بینک کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم زرخیزے کے تحت پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جو کسانوں کی ڈیجیٹل رجسٹریشن، معیاری کریڈٹ اسیسمنٹ اور زمین و فصل کے ڈیٹا سے انضمام کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ مزید برآں، اے ڈی بی کے تعاون سے فصل قرضہ انشورنس فریم ورک سی ایل آئی ایس پلس کی تیاری اور الیکٹرانک ویئرہاؤس رسید فنانسنگ کے فروغ پر بھی غور کیا گیا تاکہ زرعی شعبے کو موسمی خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے اور بعد از برداشت لیکویڈیٹی بہتر ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مالی سال 26 کی پہلی ششماہی میں بینکاری شعبے کی جانب سے زرعی قرضوں کی فراہمی 1,412 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ قرض لینے والوں کی تعداد معمولی اضافے کے ساتھ 2.97 ملین ہو گئی، جو ملک بھر میں کاشتکاروں تک رسائی میں وسعت کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ بات اسٹیٹ بینک کی جانب سے بدھ کو کراچی میں منعقدہ ایگریکلچرل کریڈٹ ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آئی۔</strong></p>
<p>اجلاس میں زرعی قرضہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور جامع و پائیدار زرعی مالیات کو فروغ دینے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ مالی سال 26 کے لیے اپنے زرعی کریڈٹ توسیعی منصوبوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نے زمینوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن کے لیے صوبائی حکومتوں سے تعاون اور فن ٹیک، ایگری ٹیک کمپنیوں اور مائیکرو فنانس اداروں کے ساتھ شراکت داری بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔</p>
<p>گورنر جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کی معیشت نے میکرو اکنامک استحکام دوبارہ حاصل کر لیا ہے اور پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہے۔ پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جبکہ پورے سال کے لیے شرح نمو 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان متوقع ہے۔ جنوری 2026 تک ہیڈ لائن افراط زر کم ہو کر 5.8 فیصد پر آ گئی ہے، جس سے قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے ترقی کی حمایت ممکن ہوئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ مالی سال 25 میں اسٹیٹ بینک اور بینکاری شعبے کی مشترکہ کاوشوں سے زرعی قرضوں کی فراہمی 2,577 ارب روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچی، جو سالانہ بنیاد پر 16 فیصد اضافہ تھا۔ اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے مالی سال 26 کے پہلے نصف میں 1,412 ارب روپے کے قرض جاری کیے گئے۔</p>
<p>اجلاس میں اسٹیٹ بینک کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم زرخیزے کے تحت پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جو کسانوں کی ڈیجیٹل رجسٹریشن، معیاری کریڈٹ اسیسمنٹ اور زمین و فصل کے ڈیٹا سے انضمام کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ مزید برآں، اے ڈی بی کے تعاون سے فصل قرضہ انشورنس فریم ورک سی ایل آئی ایس پلس کی تیاری اور الیکٹرانک ویئرہاؤس رسید فنانسنگ کے فروغ پر بھی غور کیا گیا تاکہ زرعی شعبے کو موسمی خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے اور بعد از برداشت لیکویڈیٹی بہتر ہو۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282752</guid>
      <pubDate>Fri, 13 Feb 2026 09:42:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/130940345b8f962.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/130940345b8f962.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
