<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیرِاعظم شہباز شریف کی ترکیہ کو زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282744/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِاعظم شہباز شریف سے جمعرات کو اسلام آباد میں ترکیہ کے زرعی ٹیکنالوجیز کلسٹر ( ٹی یو ایم ای ) کے چار رکنی وفد نے ملاقات کی ہے، جس کی قیادت بورڈ کے چیئرمین عبدالقادر کاراگوز نے کی، تاکہ زراعت اور گلہ بانی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر بات چیت کی جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران وزیرِاعظم نے پاکستانی زرعی شعبے میں ترکیہ کی تکنیکی جدتیں اپنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم کے دفتر (پی ایم او) کے بیان کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ” پاکستان ترکیہ کے ساتھ مضبوط اقتصادی شراکت کے ذریعے اپنے مثالی بھائی چارے کے تعلقات کو مستحکم کرنے کا خواہاں ہے،“ اور مزید کہا کہ دونوں ممالک کے پاس عالمی غذائی ویلیو چین میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ قدرت نے پاکستان کو زراعت کے بے پناہ وسائل سے نوازا ہے، تاہم اس صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے انضمام کو لازمی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دوستانہ ممالک کے درمیان زراعت کے جدید طریقے اپنانے اور پیداوار بڑھانے کے لیے جامع حکمتِ عملی اور باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی یو ایم ای کے بورڈ چیئرمین عبدالقادر کاراگوز نے وزیرِاعظم کو ان جدید ٹیکنالوجیز کے بارے میں بریفنگ دی جو ان کی کمپنی زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ تعاون کو بڑھانے کی مضبوط خواہش ظاہر کی اور کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ان کے کاروباری حلقوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کے لیے ”راہنمائی کا مینار“ ثابت ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں ترکیہ کے سفیر ایران نیزیروغلو، نائب وزیراعظم و وزیرِخارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ اور دیگر سینئر اہلکار بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِاعظم شہباز شریف سے جمعرات کو اسلام آباد میں ترکیہ کے زرعی ٹیکنالوجیز کلسٹر ( ٹی یو ایم ای ) کے چار رکنی وفد نے ملاقات کی ہے، جس کی قیادت بورڈ کے چیئرمین عبدالقادر کاراگوز نے کی، تاکہ زراعت اور گلہ بانی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر بات چیت کی جا سکے۔</strong></p>
<p>ملاقات کے دوران وزیرِاعظم نے پاکستانی زرعی شعبے میں ترکیہ کی تکنیکی جدتیں اپنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>وزیرِاعظم کے دفتر (پی ایم او) کے بیان کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ” پاکستان ترکیہ کے ساتھ مضبوط اقتصادی شراکت کے ذریعے اپنے مثالی بھائی چارے کے تعلقات کو مستحکم کرنے کا خواہاں ہے،“ اور مزید کہا کہ دونوں ممالک کے پاس عالمی غذائی ویلیو چین میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔</p>
<p>وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ قدرت نے پاکستان کو زراعت کے بے پناہ وسائل سے نوازا ہے، تاہم اس صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے انضمام کو لازمی قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے دوستانہ ممالک کے درمیان زراعت کے جدید طریقے اپنانے اور پیداوار بڑھانے کے لیے جامع حکمتِ عملی اور باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>ٹی یو ایم ای کے بورڈ چیئرمین عبدالقادر کاراگوز نے وزیرِاعظم کو ان جدید ٹیکنالوجیز کے بارے میں بریفنگ دی جو ان کی کمپنی زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ تعاون کو بڑھانے کی مضبوط خواہش ظاہر کی اور کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ان کے کاروباری حلقوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کے لیے ”راہنمائی کا مینار“ ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p>ملاقات میں ترکیہ کے سفیر ایران نیزیروغلو، نائب وزیراعظم و وزیرِخارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ اور دیگر سینئر اہلکار بھی موجود تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282744</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Feb 2026 18:20:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/121812522978814.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/121812522978814.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
