<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی قرض بحران: تاریخی پس منظر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282742/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی قوم پرستی پر بھرپور زور، امریکی مفادات کو اولین ترجیح دینا اور مقامی صنعتوں اور روزگار کے تحفظ کے لیے تحفظ پسند تجارتی پالیسیوں کی حمایت کو ”ٹرمپ ازم“ سے تعبیر کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی معیشت میں ٹیرف عائد ہوئے اور تجارتی جنگ چھڑ گئی۔ ان پالیسیوں میں کاروباری مواقع کے فروغ کے لیے امریکی صنعتوں میں ڈی ریگولیشن اور مقامی لیبر کے تحفظ کے لیے سخت امیگریشن قوانین کا نفاذ بھی شامل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ ازم نے عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کیا ہے۔ ان پالیسیوں کے بین الاقوامی تجارت، سرحد پار سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، جبکہ سرمایہ داری اور آزاد منڈی کی معیشت کے اصولوں اور روایات کے حوالے سے بھی خدشات کو جنم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پالیسیاں امریکی معیشت کو درپیش بحران کے حل اور اس کی تاریخی حیثیت کی بحالی کے نام پر اختیار کی گئی ہیں۔ موجودہ امریکی معاشی بحران کو سمجھنے کے لیے عالمی معیشت پر امریکی پالیسیوں کی تاریخ اور ان کے اثرات کا جائزہ ناگزیر ہے۔ متعدد تاریخی واقعات نے امریکی معیشت میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور بیرونی قرض کے رجحانات کو متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/02/12062757e79e6e8.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/02/12062757e79e6e8.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان تاریخی واقعات میں 1944 میں بریٹن ووڈز نظام کا قیام، 1974 میں پیٹرو ڈالر معاہدہ، 1976 میں امریکا کی جانب سے گولڈ اسٹینڈرڈ کا خاتمہ، 2000 میں آزاد تجارتی نظام کا آغاز اور بین الاقوامی منڈی میں متعدد کرنسیوں کی قبولیت شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1944 کی بریٹن ووڈز کانفرنس کے بعد برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے اپنی کرنسیوں کو سونے سے منسلک رکھنے کا سلسلہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم غیر ملکی حکومتوں کے لیے امریکی ڈالر کو سونے میں تبدیل کرنے کی شرح 35 ڈالر فی اونس (خالص سونے کے 0.89 گرام) مقرر کی گئی۔ 1941 سے 1971 تک امریکی ڈالر کی قدر اسی مقدارِ سونا سے منسلک رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بریٹن ووڈز کانفرنس کے نتیجے میں مالیاتی نظم و نسق کا جو ’بریٹن ووڈز نظام‘ قائم ہوا، اس کے تحت ممالک پر لازم تھا کہ وہ اپنی کرنسیوں کو امریکی ڈالر میں قابلِ تبدیل ہونے کی ضمانت دیں۔ اس نظام کے تحت انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) قائم کیا گیا، جس کا کام شرح مبادلہ کی نگرانی اور رکن ممالک کو ان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے انتظام کے لیے ریزرو کرنسی میں قرض فراہم کرنا تھا۔ اسی نظام کے ذریعے عالمی معیشت میں ’آئی ایم ایف قرضہ جات‘ کا تصور متعارف ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قرضہ جاتی نظام کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ رکن ممالک کو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی صورت میں ڈیفالٹ سے بچایا جا سکے۔ بعد ازاں یہی طریقہ کار کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کے لیے بیرونی مالی معاونت کا ایک اہم ذریعہ بن گیا۔ تاہم 1971 میں امریکا میں بلند افراطِ زر، ڈالر کی مضبوطی پر اعتماد میں کمی اور سونے کے ذخائر میں شدید کمی نوٹ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ اُس وقت کی امریکی حکومت نے ڈالر کی مقررہ شرح پر سونے میں تبدیلی کا نظام ختم کرتے ہوئے اسے فیاٹ کرنسی قرار دے دیا۔ یوں عملاً بریٹن ووڈز نظام کا خاتمہ ہو گیا، جس کی باضابطہ توثیق 1976 میں کی گئی۔ بین الاقوامی کرنسیوں کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے باعث بیرونی مالیات کے عالمی ڈھانچے متاثر ہوئے اور بعض ممالک نے بارٹر تجارت بھی دوبارہ شروع کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر کو فری فلوٹ کرنے کے بعد اس کی قدر میں کمی نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی حقیقی آمدن کو متاثر کیا کیونکہ ان کا تیل ڈالر میں قیمت کیا جاتا تھا۔ اس کے نتیجے میں ان ممالک نے تیل کی قیمت سونے کی ایک مقررہ مقدار کے ساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں 1974 میں امریکا اور سعودی عرب (اور پھر متحدہ عرب امارات اور دیگر تیل برآمد کرنے والے ممالک) کے درمیان ایک معاہدے کے تحت طے پایا کہ سعودی عرب اپنی تیل برآمدات کی قیمت اور ادائیگی ڈالر میں وصول کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1974 میں امریکا اور بڑے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے درمیان ہونے والے انتظامات کا مطلب یہ تھا کہ امریکا کو تجارتی خسارہ برقرار رکھنا ہوگا، کیونکہ دیگر ممالک کو تیل درآمد کرنے اور امریکا سے اشیا و خدمات خریدنے کے لیے ڈالر درکار تھے۔ اس سے امریکا کو دیگر ممالک سے مسابقتی قیمتوں پر اشیا و خدمات کی مسلسل فراہمی یقینی بنی، جبکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کو اپنے اضافی ڈالر امریکا میں سرمایہ کاری کی صورت میں استعمال کرنا پڑے۔ یہ عمل ’پیٹرو ڈالر ری سائیکلنگ‘ کہلاتا ہے، اور اس کے اثرات تیل پیدا کرنے والے ممالک کی معیشتوں پر نمایاں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل پیدا کرنے والے امیر ممالک نے نرم شرائط پر قرضوں اور ادھار تیل کی فراہمی کے ذریعے کئی ترقی پذیر ممالک کی معاونت کی۔ اس طرح بیرونی قرضوں کے مقابلے میں کم یا بلا سود متبادل میسر آیا۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک میں روزگار کے مواقع نے ترقی پذیر ممالک کے لیے ترسیلاتِ زر کا ذریعہ فراہم کیا، جس سے ان ممالک کو زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں مدد ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ طریقہ کار امریکا کے تجارتی خسارے کو مالیاتی اکاؤنٹ کے سرپلس میں تبدیل کرتا ہے۔ تیل برآمد کرنے والے ممالک اپنے پیٹرو ڈالرز امریکا سے اشیا و خدمات کی درآمد، مادی اثاثوں کی تعمیر، امریکی بینکوں میں رقوم رکھنے اور بانڈز، ایکویٹیز اور دیگر مالیاتی اثاثوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ امریکی منڈیوں میں ان مالیاتی آلات میں سرمایہ کاری کے ذریعے خود مختار ویلتھ فنڈز بھی قائم رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزاد تجارتی نظام کے تحت بین الاقوامی تجارت میں کوٹے اور ٹیرف کے خاتمے یا کمی نے عالمی مالیاتی بہاؤ میں ایک اہم موڑ پیدا کیا۔ ڈیوٹیز میں کمی سے مسابقت میں اضافہ ہوا اور کم ترین پیداواری لاگت پر اشیا تیار کرنا بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقتی قیمت پیش کرنے کی بنیادی شرط بن گیا۔ پیداواری لاگت میں لیبر لاگت کلیدی عنصر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی بڑی کارپوریشنز نے اپنی پیداواری یونٹس ان ممالک منتقل کر دیں جہاں پیداواری لاگت نمایاں طور پر کم تھی۔ بڑے مقامی بازار کی بدولت اسکیل کی معیشت نے ترقی یافتہ سے ترقی پذیر ممالک کی جانب پیداواری عمل کی منتقلی کو مزید تقویت دی۔ ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ای ایس جی ) ضوابط کے سخت نفاذ کے باعث صنعتی ممالک میں آزاد تجارتی نظام کے تحت پیداوار کم منافع بخش ہو گئی۔ اس نظام کا فطری نتیجہ ترقی یافتہ ممالک سے سرمایہ کے اخراج اور ترقی پذیر ممالک میں اس کے بہاؤ کی صورت میں سامنے آیا۔ 2024 کے اختتام تک امریکی کمپنیوں کی بیرونِ ملک سرمایہ کاری 9.7 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1990 سے 2000 کے دوران امریکی معیشت میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا بہاؤ اس کے اخراج سے زیادہ تھا، تاہم 2001 سے 2024 تک یہ رجحان الٹ گیا اور سرمایہ کاری کا اخراج اس کے بہاؤ سے بڑھ گیا۔ اسی دوران تیل برآمد کرنے والے ممالک نے اپنے تیل کی خریداری یورو، یوآن اور دیگر قابلِ تبدیل کرنسیوں میں بھی قبول کرنا شروع کر دی۔ ترقی پذیر معیشتوں کی جانب سرمایہ کا رخ نمایاں ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقی پذیر ممالک (چین کے سوا) میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم 12 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے، جبکہ ان ممالک نے اپنی معیشتوں سے باہر 6.7 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ یہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ آزاد تجارتی نظام میں ترقی پذیر ممالک میں کاروبار زیادہ منافع بخش ہے۔ صنعتی ممالک میں جی ڈی پی کی کم شرح نمو، بے روزگاری اور افراطِ زر میں اضافہ اسی سرمائے کی منتقلی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی خسارے کے تسلسل اور کیپیٹل اکاؤنٹ کے سرپلس نے امریکی معیشت کی موجودہ ساخت کو جنم دیا، جو غیر ملکی سرمائے اور بیرونی قرضوں پر اس کے انحصار کی عکاسی کرتی ہے۔ 2024 میں امریکا کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.2 ٹریلین ڈالر رہا، جو اس کی جی ڈی پی کا 4.1 فیصد بنتا ہے، جبکہ تجارتی خسارہ جی ڈی پی کا 3.2 فیصد تھا۔ عام تاثر کے برعکس، عالمی تجارت کے تناظر میں امریکا نسبتاً کم منسلک معیشت ہے۔ یعنی اس کی نسبتاً کم منسلک معیشت ایک طرف اسے بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھتی ہے، جبکہ دوسری جانب عالمی منڈیوں سے اس کے فائدے اور تجارتی مواقع محدود ہونے کا نتیجہ بھی پیدا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی مجموعی تجارت اس کی جی ڈی پی کا محض 25 فیصد ہے، جبکہ دیگر مغربی ممالک میں یہ شرح 60 فیصد سے زیادہ ہے۔ اشیا و خدمات کی اس کی برآمدات جی ڈی پی کا 11 فیصد ہیں، جو دنیا کے تقریباً تمام ممالک سے کم ہیں، سوائے تیمور لیستے، بنگلہ دیش، پاکستان، کوموروس، دی گیمبیا، نیپال، ایتھوپیا، ہیٹی اور سوڈان کے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی سرمایہ کاروں نے امریکی ایکوئٹیز میں 15.6 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، جو امریکی معیشت میں ڈالرائزیشن اور بیرونی سرمائے کے بہاؤ کی عکاسی کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ امر بھی واضح ہوتا ہے کہ امریکی معیشت غیر ملکی سرمایہ پر کس حد تک انحصار کر رہی ہے۔ امریکی حکومت کا قرض جی ڈی پی کے 118 فیصد کے برابر ہے، جو سنگاپور اور برطانیہ کے بعد دنیا میں بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتا ہے۔ بلند مالیاتی خسارہ امریکا میں بڑھتے ہوئے عوامی قرض کا بنیادی سبب ہے۔ حکومت کو اپنی مجموعی آمدنی کا 20 فیصد سے زائد قرضوں پر سود کی ادائیگی میں صرف کرنا پڑتا ہے، جبکہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح محض 11 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے مالیاتی خسارے کی تکمیل کے لیے امریکا کو ٹریژری بانڈز اور سیکیورٹیز ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنا پڑتی ہیں۔ نومبر 2025 کے اختتام تک غیر ملکی ملکیت میں موجود امریکی ٹریژری سیکیورٹیز کا حجم 9.4 ٹریلین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ جاپان 1.2 ٹریلین ڈالر کے ساتھ امریکی ٹریژریز کا سب سے بڑا غیر ملکی حامل ہے، جبکہ 40 فیصد سے زائد حصہ مغربی ممالک کے پاس ہے، جن میں برطانیہ کے پاس 888 ارب ڈالر، کینیڈا کے پاس 472 ارب ڈالر اور فرانس کے پاس 376 ارب ڈالر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ امریکی قیادت کا جارحانہ طرزِ عمل دراصل معاشی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ وہ اپنی معیشت کو ممکنہ بحران سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ وینزویلا کے خلاف اقدامات اور اس کے تیل کے شعبے پر امریکی کارپوریشنز کے کنٹرول کی منصوبہ بندی، یوکرین کی زرخیز زمینوں اور زرعی فارموں پر امریکی اثر و رسوخ کا مطالبہ، گرین لینڈ کے حصول کی کوششیں، اور غزہ میں تعمیر نو، سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے منصوبے معاشی نوعیت کے اقدامات دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح بلند ٹیرف کا نفاذ اور سیاحوں و تارکین وطن پر پابندیاں بھی معاشی تحفظ کی حکمت عملی کا حصہ محسوس ہوتی ہیں۔ یہ کسی مذہبی یا نسلی جنگ کا منظرنامہ نہیں لگتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی قوم پرستی پر بھرپور زور، امریکی مفادات کو اولین ترجیح دینا اور مقامی صنعتوں اور روزگار کے تحفظ کے لیے تحفظ پسند تجارتی پالیسیوں کی حمایت کو ”ٹرمپ ازم“ سے تعبیر کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی معیشت میں ٹیرف عائد ہوئے اور تجارتی جنگ چھڑ گئی۔ ان پالیسیوں میں کاروباری مواقع کے فروغ کے لیے امریکی صنعتوں میں ڈی ریگولیشن اور مقامی لیبر کے تحفظ کے لیے سخت امیگریشن قوانین کا نفاذ بھی شامل ہے۔</strong></p>
<p>ٹرمپ ازم نے عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کیا ہے۔ ان پالیسیوں کے بین الاقوامی تجارت، سرحد پار سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، جبکہ سرمایہ داری اور آزاد منڈی کی معیشت کے اصولوں اور روایات کے حوالے سے بھی خدشات کو جنم دیا ہے۔</p>
<p>یہ پالیسیاں امریکی معیشت کو درپیش بحران کے حل اور اس کی تاریخی حیثیت کی بحالی کے نام پر اختیار کی گئی ہیں۔ موجودہ امریکی معاشی بحران کو سمجھنے کے لیے عالمی معیشت پر امریکی پالیسیوں کی تاریخ اور ان کے اثرات کا جائزہ ناگزیر ہے۔ متعدد تاریخی واقعات نے امریکی معیشت میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور بیرونی قرض کے رجحانات کو متاثر کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/02/12062757e79e6e8.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/02/12062757e79e6e8.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ان تاریخی واقعات میں 1944 میں بریٹن ووڈز نظام کا قیام، 1974 میں پیٹرو ڈالر معاہدہ، 1976 میں امریکا کی جانب سے گولڈ اسٹینڈرڈ کا خاتمہ، 2000 میں آزاد تجارتی نظام کا آغاز اور بین الاقوامی منڈی میں متعدد کرنسیوں کی قبولیت شامل ہیں۔</p>
<p>1944 کی بریٹن ووڈز کانفرنس کے بعد برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے اپنی کرنسیوں کو سونے سے منسلک رکھنے کا سلسلہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم غیر ملکی حکومتوں کے لیے امریکی ڈالر کو سونے میں تبدیل کرنے کی شرح 35 ڈالر فی اونس (خالص سونے کے 0.89 گرام) مقرر کی گئی۔ 1941 سے 1971 تک امریکی ڈالر کی قدر اسی مقدارِ سونا سے منسلک رہی۔</p>
<p>بریٹن ووڈز کانفرنس کے نتیجے میں مالیاتی نظم و نسق کا جو ’بریٹن ووڈز نظام‘ قائم ہوا، اس کے تحت ممالک پر لازم تھا کہ وہ اپنی کرنسیوں کو امریکی ڈالر میں قابلِ تبدیل ہونے کی ضمانت دیں۔ اس نظام کے تحت انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) قائم کیا گیا، جس کا کام شرح مبادلہ کی نگرانی اور رکن ممالک کو ان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے انتظام کے لیے ریزرو کرنسی میں قرض فراہم کرنا تھا۔ اسی نظام کے ذریعے عالمی معیشت میں ’آئی ایم ایف قرضہ جات‘ کا تصور متعارف ہوا۔</p>
<p>اس قرضہ جاتی نظام کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ رکن ممالک کو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی صورت میں ڈیفالٹ سے بچایا جا سکے۔ بعد ازاں یہی طریقہ کار کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کے لیے بیرونی مالی معاونت کا ایک اہم ذریعہ بن گیا۔ تاہم 1971 میں امریکا میں بلند افراطِ زر، ڈالر کی مضبوطی پر اعتماد میں کمی اور سونے کے ذخائر میں شدید کمی نوٹ کی گئی۔</p>
<p>چنانچہ اُس وقت کی امریکی حکومت نے ڈالر کی مقررہ شرح پر سونے میں تبدیلی کا نظام ختم کرتے ہوئے اسے فیاٹ کرنسی قرار دے دیا۔ یوں عملاً بریٹن ووڈز نظام کا خاتمہ ہو گیا، جس کی باضابطہ توثیق 1976 میں کی گئی۔ بین الاقوامی کرنسیوں کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے باعث بیرونی مالیات کے عالمی ڈھانچے متاثر ہوئے اور بعض ممالک نے بارٹر تجارت بھی دوبارہ شروع کر دی۔</p>
<p>ڈالر کو فری فلوٹ کرنے کے بعد اس کی قدر میں کمی نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی حقیقی آمدن کو متاثر کیا کیونکہ ان کا تیل ڈالر میں قیمت کیا جاتا تھا۔ اس کے نتیجے میں ان ممالک نے تیل کی قیمت سونے کی ایک مقررہ مقدار کے ساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں 1974 میں امریکا اور سعودی عرب (اور پھر متحدہ عرب امارات اور دیگر تیل برآمد کرنے والے ممالک) کے درمیان ایک معاہدے کے تحت طے پایا کہ سعودی عرب اپنی تیل برآمدات کی قیمت اور ادائیگی ڈالر میں وصول کرے گا۔</p>
<p>1974 میں امریکا اور بڑے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے درمیان ہونے والے انتظامات کا مطلب یہ تھا کہ امریکا کو تجارتی خسارہ برقرار رکھنا ہوگا، کیونکہ دیگر ممالک کو تیل درآمد کرنے اور امریکا سے اشیا و خدمات خریدنے کے لیے ڈالر درکار تھے۔ اس سے امریکا کو دیگر ممالک سے مسابقتی قیمتوں پر اشیا و خدمات کی مسلسل فراہمی یقینی بنی، جبکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کو اپنے اضافی ڈالر امریکا میں سرمایہ کاری کی صورت میں استعمال کرنا پڑے۔ یہ عمل ’پیٹرو ڈالر ری سائیکلنگ‘ کہلاتا ہے، اور اس کے اثرات تیل پیدا کرنے والے ممالک کی معیشتوں پر نمایاں رہے۔</p>
<p>تیل پیدا کرنے والے امیر ممالک نے نرم شرائط پر قرضوں اور ادھار تیل کی فراہمی کے ذریعے کئی ترقی پذیر ممالک کی معاونت کی۔ اس طرح بیرونی قرضوں کے مقابلے میں کم یا بلا سود متبادل میسر آیا۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک میں روزگار کے مواقع نے ترقی پذیر ممالک کے لیے ترسیلاتِ زر کا ذریعہ فراہم کیا، جس سے ان ممالک کو زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں مدد ملی۔</p>
<p>یہ طریقہ کار امریکا کے تجارتی خسارے کو مالیاتی اکاؤنٹ کے سرپلس میں تبدیل کرتا ہے۔ تیل برآمد کرنے والے ممالک اپنے پیٹرو ڈالرز امریکا سے اشیا و خدمات کی درآمد، مادی اثاثوں کی تعمیر، امریکی بینکوں میں رقوم رکھنے اور بانڈز، ایکویٹیز اور دیگر مالیاتی اثاثوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ امریکی منڈیوں میں ان مالیاتی آلات میں سرمایہ کاری کے ذریعے خود مختار ویلتھ فنڈز بھی قائم رکھتے ہیں۔</p>
<p>آزاد تجارتی نظام کے تحت بین الاقوامی تجارت میں کوٹے اور ٹیرف کے خاتمے یا کمی نے عالمی مالیاتی بہاؤ میں ایک اہم موڑ پیدا کیا۔ ڈیوٹیز میں کمی سے مسابقت میں اضافہ ہوا اور کم ترین پیداواری لاگت پر اشیا تیار کرنا بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقتی قیمت پیش کرنے کی بنیادی شرط بن گیا۔ پیداواری لاگت میں لیبر لاگت کلیدی عنصر ہے۔</p>
<p>کئی بڑی کارپوریشنز نے اپنی پیداواری یونٹس ان ممالک منتقل کر دیں جہاں پیداواری لاگت نمایاں طور پر کم تھی۔ بڑے مقامی بازار کی بدولت اسکیل کی معیشت نے ترقی یافتہ سے ترقی پذیر ممالک کی جانب پیداواری عمل کی منتقلی کو مزید تقویت دی۔ ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ای ایس جی ) ضوابط کے سخت نفاذ کے باعث صنعتی ممالک میں آزاد تجارتی نظام کے تحت پیداوار کم منافع بخش ہو گئی۔ اس نظام کا فطری نتیجہ ترقی یافتہ ممالک سے سرمایہ کے اخراج اور ترقی پذیر ممالک میں اس کے بہاؤ کی صورت میں سامنے آیا۔ 2024 کے اختتام تک امریکی کمپنیوں کی بیرونِ ملک سرمایہ کاری 9.7 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکی تھی۔</p>
<p>1990 سے 2000 کے دوران امریکی معیشت میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا بہاؤ اس کے اخراج سے زیادہ تھا، تاہم 2001 سے 2024 تک یہ رجحان الٹ گیا اور سرمایہ کاری کا اخراج اس کے بہاؤ سے بڑھ گیا۔ اسی دوران تیل برآمد کرنے والے ممالک نے اپنے تیل کی خریداری یورو، یوآن اور دیگر قابلِ تبدیل کرنسیوں میں بھی قبول کرنا شروع کر دی۔ ترقی پذیر معیشتوں کی جانب سرمایہ کا رخ نمایاں ہو گیا۔</p>
<p>ترقی پذیر ممالک (چین کے سوا) میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم 12 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے، جبکہ ان ممالک نے اپنی معیشتوں سے باہر 6.7 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ یہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ آزاد تجارتی نظام میں ترقی پذیر ممالک میں کاروبار زیادہ منافع بخش ہے۔ صنعتی ممالک میں جی ڈی پی کی کم شرح نمو، بے روزگاری اور افراطِ زر میں اضافہ اسی سرمائے کی منتقلی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>تجارتی خسارے کے تسلسل اور کیپیٹل اکاؤنٹ کے سرپلس نے امریکی معیشت کی موجودہ ساخت کو جنم دیا، جو غیر ملکی سرمائے اور بیرونی قرضوں پر اس کے انحصار کی عکاسی کرتی ہے۔ 2024 میں امریکا کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.2 ٹریلین ڈالر رہا، جو اس کی جی ڈی پی کا 4.1 فیصد بنتا ہے، جبکہ تجارتی خسارہ جی ڈی پی کا 3.2 فیصد تھا۔ عام تاثر کے برعکس، عالمی تجارت کے تناظر میں امریکا نسبتاً کم منسلک معیشت ہے۔ یعنی اس کی نسبتاً کم منسلک معیشت ایک طرف اسے بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھتی ہے، جبکہ دوسری جانب عالمی منڈیوں سے اس کے فائدے اور تجارتی مواقع محدود ہونے کا نتیجہ بھی پیدا کرتی ہے۔</p>
<p>امریکا کی مجموعی تجارت اس کی جی ڈی پی کا محض 25 فیصد ہے، جبکہ دیگر مغربی ممالک میں یہ شرح 60 فیصد سے زیادہ ہے۔ اشیا و خدمات کی اس کی برآمدات جی ڈی پی کا 11 فیصد ہیں، جو دنیا کے تقریباً تمام ممالک سے کم ہیں، سوائے تیمور لیستے، بنگلہ دیش، پاکستان، کوموروس، دی گیمبیا، نیپال، ایتھوپیا، ہیٹی اور سوڈان کے۔</p>
<p>غیر ملکی سرمایہ کاروں نے امریکی ایکوئٹیز میں 15.6 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، جو امریکی معیشت میں ڈالرائزیشن اور بیرونی سرمائے کے بہاؤ کی عکاسی کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ امر بھی واضح ہوتا ہے کہ امریکی معیشت غیر ملکی سرمایہ پر کس حد تک انحصار کر رہی ہے۔ امریکی حکومت کا قرض جی ڈی پی کے 118 فیصد کے برابر ہے، جو سنگاپور اور برطانیہ کے بعد دنیا میں بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتا ہے۔ بلند مالیاتی خسارہ امریکا میں بڑھتے ہوئے عوامی قرض کا بنیادی سبب ہے۔ حکومت کو اپنی مجموعی آمدنی کا 20 فیصد سے زائد قرضوں پر سود کی ادائیگی میں صرف کرنا پڑتا ہے، جبکہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح محض 11 فیصد ہے۔</p>
<p>اپنے مالیاتی خسارے کی تکمیل کے لیے امریکا کو ٹریژری بانڈز اور سیکیورٹیز ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنا پڑتی ہیں۔ نومبر 2025 کے اختتام تک غیر ملکی ملکیت میں موجود امریکی ٹریژری سیکیورٹیز کا حجم 9.4 ٹریلین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ جاپان 1.2 ٹریلین ڈالر کے ساتھ امریکی ٹریژریز کا سب سے بڑا غیر ملکی حامل ہے، جبکہ 40 فیصد سے زائد حصہ مغربی ممالک کے پاس ہے، جن میں برطانیہ کے پاس 888 ارب ڈالر، کینیڈا کے پاس 472 ارب ڈالر اور فرانس کے پاس 376 ارب ڈالر شامل ہیں۔</p>
<p>یہ تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ امریکی قیادت کا جارحانہ طرزِ عمل دراصل معاشی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ وہ اپنی معیشت کو ممکنہ بحران سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ وینزویلا کے خلاف اقدامات اور اس کے تیل کے شعبے پر امریکی کارپوریشنز کے کنٹرول کی منصوبہ بندی، یوکرین کی زرخیز زمینوں اور زرعی فارموں پر امریکی اثر و رسوخ کا مطالبہ، گرین لینڈ کے حصول کی کوششیں، اور غزہ میں تعمیر نو، سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے منصوبے معاشی نوعیت کے اقدامات دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح بلند ٹیرف کا نفاذ اور سیاحوں و تارکین وطن پر پابندیاں بھی معاشی تحفظ کی حکمت عملی کا حصہ محسوس ہوتی ہیں۔ یہ کسی مذہبی یا نسلی جنگ کا منظرنامہ نہیں لگتا۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282742</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Feb 2026 16:50:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر ایوب مہر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/1215542342d0c0d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/1215542342d0c0d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
