<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ اور ایران نیوکلیئر معاہدے پر لچک دکھا رہے ہیں، ترک وزیر خارجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282736/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ترکیہ کے وزیر خارجہ ہ ہاکان فیدان نے جمعرات کو فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ واشنگٹن ایران کے محدود نیوکلیئر افزودگی پر ”برداشت کرنے کے لیے تیار“ دکھائی دے رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہاکان فیدان نے کہا کہ مثبت بات یہ ہے کہ امریکی واضح حد بندیوں کے اندر ایرانی یورینیم افزودگی کو برداشت کرنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی اب سمجھ گئے ہیں کہ انہیں امریکیوں کے ساتھ معاہدہ کرنا ضروری ہے اور امریکی سمجھتے ہیں کہ ایران کے کچھ حدود ہیں، اس لیے انہیں زبردستی مجبور کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن اب تک ایران سے مطالبہ کر رہا تھا کہ وہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ترک کرے، جو ہتھیار بنانے کے لیے ضروری 90 فیصد سے کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران مالی پابندیوں کے خاتمے اور اپنے نیوکلیئر حقوق بشمول افزودگی پر زور جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہاکان فیدان نے کہا کہ تہران واقعی حقیقی معاہدہ چاہتا ہے اور افزودگی کی سطح پر پابندی اور سخت نگرانی قبول کرے گا، جیسا کہ 2015 کے معاہدے میں کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اور ایرانی سفارتکار گزشتہ ہفتے عمان میں عمانی ثالثوں کے ذریعے بات چیت کر رہے تھے تاکہ سفارتی تعلقات بحال کیے جا سکیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں نیول فلوٹیلا بھیج کر ممکنہ عسکری کارروائی کے خدشات بڑھائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ ایران اور امریکہ کی بات چیت کو بیلسٹک میزائل پر وسعت دینا صرف ایک اور جنگ کو جنم دے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ترکیہ کے وزیر خارجہ ہ ہاکان فیدان نے جمعرات کو فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ واشنگٹن ایران کے محدود نیوکلیئر افزودگی پر ”برداشت کرنے کے لیے تیار“ دکھائی دے رہا ہے۔</strong></p>
<p>ہاکان فیدان نے کہا کہ مثبت بات یہ ہے کہ امریکی واضح حد بندیوں کے اندر ایرانی یورینیم افزودگی کو برداشت کرنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی اب سمجھ گئے ہیں کہ انہیں امریکیوں کے ساتھ معاہدہ کرنا ضروری ہے اور امریکی سمجھتے ہیں کہ ایران کے کچھ حدود ہیں، اس لیے انہیں زبردستی مجبور کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔</p>
<p>واشنگٹن اب تک ایران سے مطالبہ کر رہا تھا کہ وہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ترک کرے، جو ہتھیار بنانے کے لیے ضروری 90 فیصد سے کم ہے۔</p>
<p>ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران مالی پابندیوں کے خاتمے اور اپنے نیوکلیئر حقوق بشمول افزودگی پر زور جاری رکھے گا۔</p>
<p>ہاکان فیدان نے کہا کہ تہران واقعی حقیقی معاہدہ چاہتا ہے اور افزودگی کی سطح پر پابندی اور سخت نگرانی قبول کرے گا، جیسا کہ 2015 کے معاہدے میں کیا گیا تھا۔</p>
<p>امریکی اور ایرانی سفارتکار گزشتہ ہفتے عمان میں عمانی ثالثوں کے ذریعے بات چیت کر رہے تھے تاکہ سفارتی تعلقات بحال کیے جا سکیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں نیول فلوٹیلا بھیج کر ممکنہ عسکری کارروائی کے خدشات بڑھائے۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ ایران اور امریکہ کی بات چیت کو بیلسٹک میزائل پر وسعت دینا صرف ایک اور جنگ کو جنم دے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282736</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Feb 2026 13:36:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/121334077bde4f7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/121334077bde4f7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
