<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 22:08:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 22:08:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موڈیز کی جانب سے بینکنگ سیکٹر کے آؤٹ لک میں تبدیلی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282728/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;موڈیز نے پاکستان کے بینکنگ سیکٹر کے آؤٹ لک کو مثبت سے بدل کر مستحکم کردیا جس کے بعد اس بحث نے زور پکڑ لیا ہے کہ آیا یہ درجہ بندی میں بہتری ہے یا تنزلی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹنگ ایجنسی کے مطابق وہ آؤٹ لک جاری کرتی ہے جو کہ زمینی حقائق کے جائزے کے ساتھ ساتھ حالیہ پالیسی تبدیلیوں کے اثرات پر مبنی ایک پیشن گوئی ہوتی ہے۔ یہ پیشن گوئی درمیانی مدت میں کریڈٹ ریٹنگ کی ممکنہ سمت کا تعین کرتی ہے۔ یہ آؤٹ لک چار زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں مثبت ، منفی، مستحکم اور ترقی پذیر یا بدلتا ہوا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستحکم کا مطلب یہ ہے کہ درمیانی مدت میں ریٹنگ میں تبدیلی کا امکان بہت کم ہے جبکہ منفی، مثبت یا ترقی پذیراس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ درمیانی مدت میں ریٹنگ میں تبدیلی کا امکان نسبتاً زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وضاحت کی موجودگی میں یہ بات حیران کن نہیں کہ حکومت کے حامی آؤٹ لک میں اس تبدیلی کو ایک بہتری (اپ گریڈ) کے طور پر دیکھ رہے ہیں جبکہ متعدد تجزیہ کار اسے ایک تنزلی (ڈاؤن گریڈ) قرار دیتے ہیں کیونکہ اب ریٹنگ میں تبدیلی کا امکان بہت کم رہ گیا ہے، وہ تبدیلی جس کے بارے میں امید تو یہ تھی کہ وہ اوپر کی جانب (بہتری کی طرف) ہوگی لیکن اب وہ نیچے کی جانب بھی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز نے اپنی رپورٹ میں مقامی بینکوں کے سرکاری سیکیورٹیز (بانڈز وغیرہ) میں سرمائے کے ارتکاز کو بہت زیادہ قرار دیا ہے، جو کہ بینکنگ اثاثوں کا تقریباً نصف اور ان کی ایکویٹی کا تقریبًا 9.4 گنا ہے۔ یہ صورتحال بینکنگ سسٹم کو سرکاری کریڈٹ (قرضوں کی واپسی کی صلاحیت) کے حوالے سے انتہائی حساس بناتی ہے۔ یہاں یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 26 جنوری 2026 کے فیصلے میں پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا (جو کہ علاقائی حریفوں کے مقابلے میں دوگنا ہے)، حالانکہ دسمبر 2024 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (مہنگائی کی شرح) سالانہ بنیادوں پر 5.6 فیصد تھی۔ اس پالیسی ریٹ کو ایک سکڑتی ہوئی مانیٹری پالیسی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کے ملکی شرحِ نمو پر واضح منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بلا شبہ یہ فیصلہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ضروری مشاورت کے بعد لیا گیا جو کہ جاری 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت ایک لازمی شرط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لارج اسکیل مینوفیکچرنگ اور بالخصوص برآمد کنندگان کے اس پرزور مطالبے کے جواب میں جس میں کہا گیا تھا کہ سکڑتی ہوئی معاشی پالیسیاں فیکٹریاں بند ہونے کا سبب بن رہی ہیں اور زیادہ تر یونٹس اپنی استعداد سے بہت کم پر کام کررہے ہیں، مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اوسط کیش ریزرو ریکوائرمنٹ (سی آر آر) کو 6 سے کم کر کے 5 فیصد اور یومیہ کم از کم ضرورت کو 4 سے کم کرکے 3 فیصد کرنے کا اعلان کیا۔ یہ ایک توسیعی پالیسی ہے جس کے بارے میں امید ظاہر کی گئی کہ اس سے حکومتی قرضوں کے بجائے نجی شعبے کے قرضوں میں اضافہ ہوگا۔ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا سی آر آر میں ان تبدیلیوں سے صنعتی منظرنامے میں بہتری آئے گی یا نہیں، تاہم حکام اور ایل ایس ایم سیکٹر کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہے جس کے بعد حال ہی میں حکومت نے بجٹ سے ہٹ کر کئی مراعات دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی 2025 کے پہلے جائزے میں آئی ایم ایف کے دستاویزات میں کہا گیا کہ کم سرمایہ والے مالیاتی اداروں کے مسائل حل کرنے کے عمل کو مکمل کرنا ناگزیر ہے جس کیلئے اسٹیٹ بینک اپنے جدید ترین ریزولوشن فریم ورک کے تحت جہاں ضرورت ہو اپنے اختیارات کا استعمال کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیف گارڈز اسیسمنٹ کی بقیہ سفارشات بشمول قانون سازی میں نیم مالیاتی سرگرمیوں پر پابندی کی وضاحت اور اسٹیٹ بینک کے اعلیٰ انتظامی عہدوں پر تعیناتیاں بھی تیزی سے مکمل کی جانی چاہئیں جبکہ 2027 کے بعد کے ریگولیٹری اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں متوقع تبدیلیوں کے بارے میں وضاحت ایک ہموار منتقلی کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو گی۔ دسمبر 2025 کی دوسری جائزہ دستاویزات میں اسٹیٹ بینک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مانیٹری پالیسی فریم ورک کی بنیادوں، بشمول مانیٹری پالیسی کمیٹی کے ردِ عمل کے طریقہ کار اور اپنی ابلاغی و تجزیاتی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرے۔ نیز انتہائی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر طویل مدتی توقعات کو مستحکم کرنے کے لیے پالیسی موقف کا واضح ترین تخمینہ فراہم کرے۔ یہ مشاہدات بلاشبہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ آئی ایم ایف ڈسکاؤنٹ ریٹ کو مناسب حد تک بلند رکھنے کے حوالے سے کافی مطمئن ہے (کیونکہ یہ مثبت شرحِ سود کی نشاندہی کرتا ہے)، تاہم حکومت کا قرضوں پر انحصار بدستور شدید تشویش کا باعث ہے۔ اس تشویش میں بینکوں کے پاور سیکٹر کو دیے گئے حد سے زیادہ قرضوں نے یقینی طور پر مزید اضافہ کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں بینکوں کو مجبور کیا گیا تھا کہ وہ توانائی شعبے کے گردشی قرضے کا ایک بڑا حصہ ختم کرنے کے لیے 1.25 ٹریلین (1250 ارب) روپے بطور قرض جاری کریں جن کے سود کی ادائیگیوں کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جانا ہے جبکہ اس قرض کی اصل وجہ یعنی پاور سیکٹر کی انتہائی ناقص کارکردگی کو اب تک مؤثر طریقے سے حل نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں پیداواری اکائیاں (صنعتیں) اور عام عوام اپنی رائے قائم کرنے کی فطری صلاحیت رکھتے ہیں، خاص طور پر اس صورت میں جب ان کا اپنا اندازہ متعلقہ فریقین کے پیش کردہ اعدادوشمار یا دعووں سے یکسر مختلف ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا اعتماد کے فقدان کو کم سے کم کرنا ضروری ہے اور اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ مثبت عمومی تاثر پیدا کیا جائے جو جمود کا شکار معیشت کو دوبارہ حرکت میں لا سکے اور یہ تاثر حقیقت پسندی پر مضبوط بنیاد رکھتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>موڈیز نے پاکستان کے بینکنگ سیکٹر کے آؤٹ لک کو مثبت سے بدل کر مستحکم کردیا جس کے بعد اس بحث نے زور پکڑ لیا ہے کہ آیا یہ درجہ بندی میں بہتری ہے یا تنزلی۔</strong></p>
<p>ریٹنگ ایجنسی کے مطابق وہ آؤٹ لک جاری کرتی ہے جو کہ زمینی حقائق کے جائزے کے ساتھ ساتھ حالیہ پالیسی تبدیلیوں کے اثرات پر مبنی ایک پیشن گوئی ہوتی ہے۔ یہ پیشن گوئی درمیانی مدت میں کریڈٹ ریٹنگ کی ممکنہ سمت کا تعین کرتی ہے۔ یہ آؤٹ لک چار زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں مثبت ، منفی، مستحکم اور ترقی پذیر یا بدلتا ہوا شامل ہیں۔</p>
<p>مستحکم کا مطلب یہ ہے کہ درمیانی مدت میں ریٹنگ میں تبدیلی کا امکان بہت کم ہے جبکہ منفی، مثبت یا ترقی پذیراس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ درمیانی مدت میں ریٹنگ میں تبدیلی کا امکان نسبتاً زیادہ ہے۔</p>
<p>اس وضاحت کی موجودگی میں یہ بات حیران کن نہیں کہ حکومت کے حامی آؤٹ لک میں اس تبدیلی کو ایک بہتری (اپ گریڈ) کے طور پر دیکھ رہے ہیں جبکہ متعدد تجزیہ کار اسے ایک تنزلی (ڈاؤن گریڈ) قرار دیتے ہیں کیونکہ اب ریٹنگ میں تبدیلی کا امکان بہت کم رہ گیا ہے، وہ تبدیلی جس کے بارے میں امید تو یہ تھی کہ وہ اوپر کی جانب (بہتری کی طرف) ہوگی لیکن اب وہ نیچے کی جانب بھی جاسکتی ہے۔</p>
<p>موڈیز نے اپنی رپورٹ میں مقامی بینکوں کے سرکاری سیکیورٹیز (بانڈز وغیرہ) میں سرمائے کے ارتکاز کو بہت زیادہ قرار دیا ہے، جو کہ بینکنگ اثاثوں کا تقریباً نصف اور ان کی ایکویٹی کا تقریبًا 9.4 گنا ہے۔ یہ صورتحال بینکنگ سسٹم کو سرکاری کریڈٹ (قرضوں کی واپسی کی صلاحیت) کے حوالے سے انتہائی حساس بناتی ہے۔ یہاں یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 26 جنوری 2026 کے فیصلے میں پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا (جو کہ علاقائی حریفوں کے مقابلے میں دوگنا ہے)، حالانکہ دسمبر 2024 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (مہنگائی کی شرح) سالانہ بنیادوں پر 5.6 فیصد تھی۔ اس پالیسی ریٹ کو ایک سکڑتی ہوئی مانیٹری پالیسی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کے ملکی شرحِ نمو پر واضح منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بلا شبہ یہ فیصلہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ضروری مشاورت کے بعد لیا گیا جو کہ جاری 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت ایک لازمی شرط ہے۔</p>
<p>لارج اسکیل مینوفیکچرنگ اور بالخصوص برآمد کنندگان کے اس پرزور مطالبے کے جواب میں جس میں کہا گیا تھا کہ سکڑتی ہوئی معاشی پالیسیاں فیکٹریاں بند ہونے کا سبب بن رہی ہیں اور زیادہ تر یونٹس اپنی استعداد سے بہت کم پر کام کررہے ہیں، مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اوسط کیش ریزرو ریکوائرمنٹ (سی آر آر) کو 6 سے کم کر کے 5 فیصد اور یومیہ کم از کم ضرورت کو 4 سے کم کرکے 3 فیصد کرنے کا اعلان کیا۔ یہ ایک توسیعی پالیسی ہے جس کے بارے میں امید ظاہر کی گئی کہ اس سے حکومتی قرضوں کے بجائے نجی شعبے کے قرضوں میں اضافہ ہوگا۔ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا سی آر آر میں ان تبدیلیوں سے صنعتی منظرنامے میں بہتری آئے گی یا نہیں، تاہم حکام اور ایل ایس ایم سیکٹر کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہے جس کے بعد حال ہی میں حکومت نے بجٹ سے ہٹ کر کئی مراعات دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔</p>
<p>مئی 2025 کے پہلے جائزے میں آئی ایم ایف کے دستاویزات میں کہا گیا کہ کم سرمایہ والے مالیاتی اداروں کے مسائل حل کرنے کے عمل کو مکمل کرنا ناگزیر ہے جس کیلئے اسٹیٹ بینک اپنے جدید ترین ریزولوشن فریم ورک کے تحت جہاں ضرورت ہو اپنے اختیارات کا استعمال کرے۔</p>
<p>سیف گارڈز اسیسمنٹ کی بقیہ سفارشات بشمول قانون سازی میں نیم مالیاتی سرگرمیوں پر پابندی کی وضاحت اور اسٹیٹ بینک کے اعلیٰ انتظامی عہدوں پر تعیناتیاں بھی تیزی سے مکمل کی جانی چاہئیں جبکہ 2027 کے بعد کے ریگولیٹری اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں متوقع تبدیلیوں کے بارے میں وضاحت ایک ہموار منتقلی کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو گی۔ دسمبر 2025 کی دوسری جائزہ دستاویزات میں اسٹیٹ بینک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مانیٹری پالیسی فریم ورک کی بنیادوں، بشمول مانیٹری پالیسی کمیٹی کے ردِ عمل کے طریقہ کار اور اپنی ابلاغی و تجزیاتی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرے۔ نیز انتہائی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر طویل مدتی توقعات کو مستحکم کرنے کے لیے پالیسی موقف کا واضح ترین تخمینہ فراہم کرے۔ یہ مشاہدات بلاشبہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ آئی ایم ایف ڈسکاؤنٹ ریٹ کو مناسب حد تک بلند رکھنے کے حوالے سے کافی مطمئن ہے (کیونکہ یہ مثبت شرحِ سود کی نشاندہی کرتا ہے)، تاہم حکومت کا قرضوں پر انحصار بدستور شدید تشویش کا باعث ہے۔ اس تشویش میں بینکوں کے پاور سیکٹر کو دیے گئے حد سے زیادہ قرضوں نے یقینی طور پر مزید اضافہ کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں بینکوں کو مجبور کیا گیا تھا کہ وہ توانائی شعبے کے گردشی قرضے کا ایک بڑا حصہ ختم کرنے کے لیے 1.25 ٹریلین (1250 ارب) روپے بطور قرض جاری کریں جن کے سود کی ادائیگیوں کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جانا ہے جبکہ اس قرض کی اصل وجہ یعنی پاور سیکٹر کی انتہائی ناقص کارکردگی کو اب تک مؤثر طریقے سے حل نہیں کیا گیا۔</p>
<p>آخر میں پیداواری اکائیاں (صنعتیں) اور عام عوام اپنی رائے قائم کرنے کی فطری صلاحیت رکھتے ہیں، خاص طور پر اس صورت میں جب ان کا اپنا اندازہ متعلقہ فریقین کے پیش کردہ اعدادوشمار یا دعووں سے یکسر مختلف ہو۔</p>
<p>لہٰذا اعتماد کے فقدان کو کم سے کم کرنا ضروری ہے اور اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ مثبت عمومی تاثر پیدا کیا جائے جو جمود کا شکار معیشت کو دوبارہ حرکت میں لا سکے اور یہ تاثر حقیقت پسندی پر مضبوط بنیاد رکھتا ہو۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282728</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Feb 2026 14:16:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/1211480933abf1e.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/1211480933abf1e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
