<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پہلی ششماہی، وفاقی حکومت کا قرضہ 641 ارب روپے بڑھ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282724/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بدھ کو بتایا کہ مالی سال 26 کی پہلی ششماہی میں وفاقی حکومت کے کل قرضے میں 641 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جو زیادہ تر اندرونی قرضہ جات میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق وفاقی حکومت کے مجموعی قرضے، بشمول اندرونی اور بیرونی، دسمبر 2025 کے آخر میں 78.529 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے، جو جون 2025 میں 77.888 ٹریلین روپے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اضافہ زیادہ تر مقامی قرضوں میں نمو کی وجہ سے ہوا، جو رواں مالی سال جولائی تا دسمبر  کے دوران 891 ارب روپے یا 1.6 فیصد بڑھ کر 55.363 ٹریلین روپے ہو گئے، جبکہ جون 2025 میں یہ رقم 54.472 ٹریلین روپے تھی۔ اس دوران بیرونی قرضہ میں کمی دیکھنے میں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرونی قرضہ 251 ارب روپے کم ہو کر جون 2025 میں 23.417 ٹریلین روپے سے دسمبر 2025 میں 23.166 ٹریلین روپے رہ گیا۔ بیرونی آمدنی کی سست رفتاری نے حکومت کو مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ تر ملکی وسائل پر انحصار کرنے پر مجبور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ بنیاد پر، وفاقی حکومت کے کل قرضے میں 2025 کے دوران 9.6 فیصد یا 6.882 ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا، جو دسمبر 2024 میں 71.641 ٹریلین روپے سے بڑھ کر دسمبر 2025 میں 78.529 ٹریلین روپے ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد کے مطابق  رواں مالی سال کے آغاز سے ملک نے بیرونی قرضے کی مد میں تقریباً 6 ارب ڈالر ادا کیے ہیں، جبکہ مالی سال 26 کے باقی مہینوں میں مزید 4.5 ارب ڈالر کی ادائیگی شیڈول ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی اقدامات کی حمایت سے پاکستان کا بیرونی قرضہ بڑھ نہیں رہا اور اب بھی 2022 کی سطح پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکی قرضے میں اضافہ مالی ضروریات کے لیے مقامی قرضوں پر بڑھتے انحصار کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت مالی خسارے کی تلافی کے لیے ملکی ذرائع پر انحصار جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ بیرونی ذمہ داریوں کو بھی  سنبھال رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اندازوں کے مطابق مالی سال 26 کے پہلے نصف میں مالی توازن میں بہتری دیکھی گئی، تاہم سالانہ پرائمری سرپلس کا ہدف حاصل کرنا چیلنجنگ نظر آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بدھ کو بتایا کہ مالی سال 26 کی پہلی ششماہی میں وفاقی حکومت کے کل قرضے میں 641 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جو زیادہ تر اندرونی قرضہ جات میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق وفاقی حکومت کے مجموعی قرضے، بشمول اندرونی اور بیرونی، دسمبر 2025 کے آخر میں 78.529 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے، جو جون 2025 میں 77.888 ٹریلین روپے تھے۔</p>
<p>اضافہ زیادہ تر مقامی قرضوں میں نمو کی وجہ سے ہوا، جو رواں مالی سال جولائی تا دسمبر  کے دوران 891 ارب روپے یا 1.6 فیصد بڑھ کر 55.363 ٹریلین روپے ہو گئے، جبکہ جون 2025 میں یہ رقم 54.472 ٹریلین روپے تھی۔ اس دوران بیرونی قرضہ میں کمی دیکھنے میں آئی۔</p>
<p>بیرونی قرضہ 251 ارب روپے کم ہو کر جون 2025 میں 23.417 ٹریلین روپے سے دسمبر 2025 میں 23.166 ٹریلین روپے رہ گیا۔ بیرونی آمدنی کی سست رفتاری نے حکومت کو مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ تر ملکی وسائل پر انحصار کرنے پر مجبور کیا۔</p>
<p>سالانہ بنیاد پر، وفاقی حکومت کے کل قرضے میں 2025 کے دوران 9.6 فیصد یا 6.882 ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا، جو دسمبر 2024 میں 71.641 ٹریلین روپے سے بڑھ کر دسمبر 2025 میں 78.529 ٹریلین روپے ہو گئے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد کے مطابق  رواں مالی سال کے آغاز سے ملک نے بیرونی قرضے کی مد میں تقریباً 6 ارب ڈالر ادا کیے ہیں، جبکہ مالی سال 26 کے باقی مہینوں میں مزید 4.5 ارب ڈالر کی ادائیگی شیڈول ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی اقدامات کی حمایت سے پاکستان کا بیرونی قرضہ بڑھ نہیں رہا اور اب بھی 2022 کی سطح پر ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکی قرضے میں اضافہ مالی ضروریات کے لیے مقامی قرضوں پر بڑھتے انحصار کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>حالیہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت مالی خسارے کی تلافی کے لیے ملکی ذرائع پر انحصار جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ بیرونی ذمہ داریوں کو بھی  سنبھال رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اندازوں کے مطابق مالی سال 26 کے پہلے نصف میں مالی توازن میں بہتری دیکھی گئی، تاہم سالانہ پرائمری سرپلس کا ہدف حاصل کرنا چیلنجنگ نظر آتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282724</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Feb 2026 11:05:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/12110520126b0a0.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/12110520126b0a0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
