<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش میں انتخابات کیلئے پولنگ کا آغاز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282722/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش میں جمعرات کو ووٹنگ کا آغاز ہو گیا، جس کے لیے شہری  پولنگ اسٹیشنوں کے باہر قطاریں بنائے ہوئے تھے۔ یہ انتخاب اہم تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ 2024 میں طویل عرصے تک ملک کی وزیر اعظم رہنے والی شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ نوجوان نسل کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے بعد ہوا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق 1.75 کروڑ کی آبادی والے ملک میں مستحکم حکومت کے لیے اس انتخاب کا فیصلہ کن ہونا ضروری ہے۔ حسینہ واجد مخالف احتجاج نے کئی ماہ تک ملک میں ہنگامہ برپا کیا اور اہم شعبے، بشمول گارمنٹس سیکٹر، کو متاثر کیا، بنگلادیش گارمنٹس میں دنیا کا دوسرا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ یہ پہلا انتخاب ہے جو 30 سال سے کم عمر نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے انقلاب کے بعد ہو رہا ہے، اور اگلے ماہ نیپال میں بھی ایسا انتخاب متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مقابلے میں دو اتحاد شامل ہیں، جو پہلے اتحادی رہ چکے ہیں: بنگلہ دیش نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی۔ رائے شماری میں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کو برتری حاصل نظر آ رہی ہے۔ دارالحکومت ڈھاکہ میں لوگ صبح 7:30 بجے سے قبل پولنگ اسٹیشنوں پر قطار میں کھڑے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ حسینہ کی عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے اور وہ خود ساختہ جلاوطنی میں بھارت میں ہیں، جس سے چین کے لیے بنگلہ دیش میں اثر و رسوخ بڑھانے کے مواقع پیدا ہوئے ہیں کیونکہ ڈھاکہ کے تعلقات نئی دہلی کے ساتھ خراب ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بار 2,000 سے زائد امیدوار، بشمول کئی آزاد امیدوار، قومی اسمبلی کے 300 نشستوں کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔ انتخابات کے دوران ایک حلقے میں امیدوار کی موت کے باعث ووٹنگ ملتوی کر دی گئی۔ کل 50 جماعتیں حصہ لے رہی ہیں، جو قومی ریکارڈ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتخابات کے دن فوج کے 1 لاکھ سے زائد اہلکار اور 2 لاکھ پولیس افسران امن و امان قائم رکھنے میں مدد کریں گے۔ ووٹنگ صبح 7:30 بجے شروع ہو کر شام 4:30 بجے ختم ہوگی، اور نتائج جمعہ کی صبح تک واضح ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتخابی مہم کے دوران مجموعی طور پر ماحول پرامن رہا، تاہم چند واقعات سامنے آئے۔ ووٹرز میں بدعنوانی اور مہنگائی سب سے اہم مسائل قرار دیے گئے ہیں۔ کئی شہری مختلف وجوہات کی بنا پر ووٹ دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں، تاہم کچھ افراد اپنے حق رائے دہی کے لیے پرعزم ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش میں جمعرات کو ووٹنگ کا آغاز ہو گیا، جس کے لیے شہری  پولنگ اسٹیشنوں کے باہر قطاریں بنائے ہوئے تھے۔ یہ انتخاب اہم تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ 2024 میں طویل عرصے تک ملک کی وزیر اعظم رہنے والی شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ نوجوان نسل کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے بعد ہوا تھا۔</strong></p>
<p>ماہرین کے مطابق 1.75 کروڑ کی آبادی والے ملک میں مستحکم حکومت کے لیے اس انتخاب کا فیصلہ کن ہونا ضروری ہے۔ حسینہ واجد مخالف احتجاج نے کئی ماہ تک ملک میں ہنگامہ برپا کیا اور اہم شعبے، بشمول گارمنٹس سیکٹر، کو متاثر کیا، بنگلادیش گارمنٹس میں دنیا کا دوسرا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ یہ پہلا انتخاب ہے جو 30 سال سے کم عمر نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے انقلاب کے بعد ہو رہا ہے، اور اگلے ماہ نیپال میں بھی ایسا انتخاب متوقع ہے۔</p>
<p>اس مقابلے میں دو اتحاد شامل ہیں، جو پہلے اتحادی رہ چکے ہیں: بنگلہ دیش نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی۔ رائے شماری میں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کو برتری حاصل نظر آ رہی ہے۔ دارالحکومت ڈھاکہ میں لوگ صبح 7:30 بجے سے قبل پولنگ اسٹیشنوں پر قطار میں کھڑے تھے۔</p>
<p>شیخ حسینہ کی عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے اور وہ خود ساختہ جلاوطنی میں بھارت میں ہیں، جس سے چین کے لیے بنگلہ دیش میں اثر و رسوخ بڑھانے کے مواقع پیدا ہوئے ہیں کیونکہ ڈھاکہ کے تعلقات نئی دہلی کے ساتھ خراب ہوئے ہیں۔</p>
<p>اس بار 2,000 سے زائد امیدوار، بشمول کئی آزاد امیدوار، قومی اسمبلی کے 300 نشستوں کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔ انتخابات کے دوران ایک حلقے میں امیدوار کی موت کے باعث ووٹنگ ملتوی کر دی گئی۔ کل 50 جماعتیں حصہ لے رہی ہیں، جو قومی ریکارڈ ہے۔</p>
<p>انتخابات کے دن فوج کے 1 لاکھ سے زائد اہلکار اور 2 لاکھ پولیس افسران امن و امان قائم رکھنے میں مدد کریں گے۔ ووٹنگ صبح 7:30 بجے شروع ہو کر شام 4:30 بجے ختم ہوگی، اور نتائج جمعہ کی صبح تک واضح ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>انتخابی مہم کے دوران مجموعی طور پر ماحول پرامن رہا، تاہم چند واقعات سامنے آئے۔ ووٹرز میں بدعنوانی اور مہنگائی سب سے اہم مسائل قرار دیے گئے ہیں۔ کئی شہری مختلف وجوہات کی بنا پر ووٹ دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں، تاہم کچھ افراد اپنے حق رائے دہی کے لیے پرعزم ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282722</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Feb 2026 10:42:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/121041270f368bf.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/121041270f368bf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
