<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کی پیش گوئی سے بہتر معاشی بحالی کی توقع ہے، گورنر اسٹیٹ بینک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282697/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو توقع ہے کہ رواں مالی سال معیشت 4.75 فیصد تک ترقی کرے گی۔ انہوں نے آئی ایم ایف کی جانب سے حالیہ شرحِ نمو میں کمی کے تخمینے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی اس پیش گوئی پر زور دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر جمیل احمد نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے تحریری جوابات میں یہ دلیل دی کہ معاشی بحالی، برآمدات کے نمایاں (ہیڈ لائن) اعداد و شمار کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع اور پائیدار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے جنوری میں ہونے والے اپنے اجلاس میں مالی سال 2026 کے لیے شرحِ نمو کا تخمینہ بڑھا کر 3.75 سے 4.75 فیصد کردیا تھا جو کہ اس کے پچھلے تخمینے سے 0.5 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا جب سال کی پہلی ششماہی کے دوران برآمدات میں کمی اور تجارتی خسارے میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر نے کہا کہ تخمینوں میں فرق ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں اور یہ ٹائمنگ ایشوز کی عکاسی کرتے ہیں جس میں آئی ایم ایف کی جانب سے اپنی تازہ ترین رپورٹ (آؤٹ لک) میں سیلاب سے متعلق نقصانات کے جائزوں کو شامل کرنا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ تمام ذرائع اور اشاریے، بشمول مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی  کے اعدادوشمار معیشت کے تینوں شعبوں میں وسیع تر بحالی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی بینک کا ماننا ہے کہ سیلاب کے باوجود زرعی سرگرمیاں مستحکم رہیں اور یہ اپنے اہداف سے بھی بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ جون 2024 سے اب تک پالیسی ریٹ میں مجموعی طور پر 1,150 بیسس پوائنٹس کی کمی کے بعد مالی حالات میں نمایاں بہتری (نرمی) آئی اور اس کے مکمل اثرات مرتب ہونے کا عمل ابھی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ اقدام قیمتوں اور معاشی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے معاشی ترقی میں معاون ثابت ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک نے گزشتہ ماہ شرح سود میں کمی کی توقعات کے برعکس اسے 10.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے ساتھ یہ فکری اختلاف پاکستان کے لیے ایک نازک موڑ پر سامنے آیا جو اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت بیلنس آف پیمنٹ کے بحران سے نکل رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برآمدات میں سست روئی، ترسیلاتِ زر معیشت کے لیے ڈھال&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ماضی میں معاشی ترقی کی تیز لہریں اکثر کرنسی پر دباؤ اور زرمبادلہ ذخائر میں کمی کا سبب بنتی رہی ہیں جس کی وجہ سے موجودہ معاشی بحالی کا پائیدار ہونا سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم سوال بن گیا ہے۔ گورنر جمیل احمد نے کہا کہ ہائی فریکوئنسی انڈیکیٹرز اور جولائی سے نومبر کے دوران لارج اسکیل مینوفیچرنگ میں 6 فیصد اضافہ بڑھتی ہوئی طلب کی نشاندہی کرتے ہیں جبکہ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے سیلاب کے باوجود زراعت کا شعبہ مستحکم رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر جمیل احمد نے کہا کہ اگرچہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں برآمدات میں کمی آئی ہے لیکن یہ کمی عالمی قیمتوں میں مندی اور سرحدی رکاوٹوں کی عکاسی کرتی ہے نہ کہ معاشی سرگرمیوں میں سست روی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی  کے 0 سے 1 فیصد تک رہنا چاہیے، کیونکہ بیرون ملک سے آنے والی بھاری ترسیلاتِ زر  بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو برابر کر رہی ہیں اور ذخائر کو پروگرام کے اہداف سے اوپر لے جا رہی ہیں۔ مزید برآں عید کے تہوار سے متعلق رقوم کی آمد کی وجہ سے ان میں مزید اضافے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے قرض کے اجرا کے لیے کیپٹل مارکیٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ ہمارے موجودہ تخمینے کے لیے مزید مثبت ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیرونی مالی وسائل میں تنوع لانے اور اپنے سرمایہ کاروں کا دائرہ کار وسیع کرنے کی کوششوں کے حصے کے طور پر آئندہ چینی نئے سال کے آس پاس پانڈا بانڈز جاری کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ یہ یوان کرنسی پر مبنی قرض کے بانڈز ہیں جو چین کی مقامی مارکیٹ میں فروخت کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر نے کہا کہ مرکزی بینک زرمبادلہ ذخائر کو مضبوط بنانے کے لیے انٹر بینک مارکیٹ سے مستقل بنیادوں پر ڈالر خرید رہا ہے جس کے اعداد و شمار باقاعدگی سے شائع کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگرچہ اقتصادی استحکام میں بہتری آئی ہے، مضبوط ترقی کو قائم رکھنے اور پیداواریت بڑھانے کے لیے ساختی اصلاحات اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو توقع ہے کہ رواں مالی سال معیشت 4.75 فیصد تک ترقی کرے گی۔ انہوں نے آئی ایم ایف کی جانب سے حالیہ شرحِ نمو میں کمی کے تخمینے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی اس پیش گوئی پر زور دیا ہے۔</strong></p>
<p>گورنر جمیل احمد نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے تحریری جوابات میں یہ دلیل دی کہ معاشی بحالی، برآمدات کے نمایاں (ہیڈ لائن) اعداد و شمار کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع اور پائیدار ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے جنوری میں ہونے والے اپنے اجلاس میں مالی سال 2026 کے لیے شرحِ نمو کا تخمینہ بڑھا کر 3.75 سے 4.75 فیصد کردیا تھا جو کہ اس کے پچھلے تخمینے سے 0.5 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا جب سال کی پہلی ششماہی کے دوران برآمدات میں کمی اور تجارتی خسارے میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔</p>
<p>گورنر نے کہا کہ تخمینوں میں فرق ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں اور یہ ٹائمنگ ایشوز کی عکاسی کرتے ہیں جس میں آئی ایم ایف کی جانب سے اپنی تازہ ترین رپورٹ (آؤٹ لک) میں سیلاب سے متعلق نقصانات کے جائزوں کو شامل کرنا بھی شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ تمام ذرائع اور اشاریے، بشمول مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی  کے اعدادوشمار معیشت کے تینوں شعبوں میں وسیع تر بحالی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی بینک کا ماننا ہے کہ سیلاب کے باوجود زرعی سرگرمیاں مستحکم رہیں اور یہ اپنے اہداف سے بھی بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ جون 2024 سے اب تک پالیسی ریٹ میں مجموعی طور پر 1,150 بیسس پوائنٹس کی کمی کے بعد مالی حالات میں نمایاں بہتری (نرمی) آئی اور اس کے مکمل اثرات مرتب ہونے کا عمل ابھی جاری ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ اقدام قیمتوں اور معاشی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے معاشی ترقی میں معاون ثابت ہورہا ہے۔</p>
<p>مرکزی بینک نے گزشتہ ماہ شرح سود میں کمی کی توقعات کے برعکس اسے 10.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے ساتھ یہ فکری اختلاف پاکستان کے لیے ایک نازک موڑ پر سامنے آیا جو اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت بیلنس آف پیمنٹ کے بحران سے نکل رہا ہے۔</p>
<p><strong>برآمدات میں سست روئی، ترسیلاتِ زر معیشت کے لیے ڈھال</strong></p>
<p>پاکستان میں ماضی میں معاشی ترقی کی تیز لہریں اکثر کرنسی پر دباؤ اور زرمبادلہ ذخائر میں کمی کا سبب بنتی رہی ہیں جس کی وجہ سے موجودہ معاشی بحالی کا پائیدار ہونا سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم سوال بن گیا ہے۔ گورنر جمیل احمد نے کہا کہ ہائی فریکوئنسی انڈیکیٹرز اور جولائی سے نومبر کے دوران لارج اسکیل مینوفیچرنگ میں 6 فیصد اضافہ بڑھتی ہوئی طلب کی نشاندہی کرتے ہیں جبکہ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے سیلاب کے باوجود زراعت کا شعبہ مستحکم رہا ہے۔</p>
<p>گورنر جمیل احمد نے کہا کہ اگرچہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں برآمدات میں کمی آئی ہے لیکن یہ کمی عالمی قیمتوں میں مندی اور سرحدی رکاوٹوں کی عکاسی کرتی ہے نہ کہ معاشی سرگرمیوں میں سست روی کی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی  کے 0 سے 1 فیصد تک رہنا چاہیے، کیونکہ بیرون ملک سے آنے والی بھاری ترسیلاتِ زر  بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو برابر کر رہی ہیں اور ذخائر کو پروگرام کے اہداف سے اوپر لے جا رہی ہیں۔ مزید برآں عید کے تہوار سے متعلق رقوم کی آمد کی وجہ سے ان میں مزید اضافے کی توقع ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے قرض کے اجرا کے لیے کیپٹل مارکیٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ ہمارے موجودہ تخمینے کے لیے مزید مثبت ثابت ہوگا۔</p>
<p>پاکستان بیرونی مالی وسائل میں تنوع لانے اور اپنے سرمایہ کاروں کا دائرہ کار وسیع کرنے کی کوششوں کے حصے کے طور پر آئندہ چینی نئے سال کے آس پاس پانڈا بانڈز جاری کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ یہ یوان کرنسی پر مبنی قرض کے بانڈز ہیں جو چین کی مقامی مارکیٹ میں فروخت کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>گورنر نے کہا کہ مرکزی بینک زرمبادلہ ذخائر کو مضبوط بنانے کے لیے انٹر بینک مارکیٹ سے مستقل بنیادوں پر ڈالر خرید رہا ہے جس کے اعداد و شمار باقاعدگی سے شائع کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگرچہ اقتصادی استحکام میں بہتری آئی ہے، مضبوط ترقی کو قائم رکھنے اور پیداواریت بڑھانے کے لیے ساختی اصلاحات اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282697</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Feb 2026 14:18:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/111339547fd4c95.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/111339547fd4c95.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
