<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ میں سرمایہ کاری کا خواہاں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282685/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب نے پاکستان میں منظم اور طویل مدتی انتظامات کے تحت بڑے پیمانے پر کارپوریٹ فارمنگ میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;یہ پیشرفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور سعودی عرب کے نائب وزیرِ سرمایہ کاری ابراہیم المبارک کے درمیان ہونے والی ایک اعلیٰ سطح ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ اس ملاقات کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی منڈیوں میں مشترکہ شمولیت کے حوالے سے دوطرفہ تعاون کا جائزہ لینا اور اسے مزید آگے بڑھانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران سعودی وفد نے پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ پاکستان پہلے ہی معیار کی ضروریات پوری کر رہا ہے اور کارپوریٹ سطح کی کاشتکاری، میکانائزیشن، ذخیرہ اندوزی اور لاجسٹکس میں سرمایہ کاری کے ذریعے منظم اور طویل المدتی انتظامات کے تحت پاکستان سے سعودی عرب کو چاول کی مستقل برآمدات ممکن بنائی جاسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر تناظر میں زراعت اور غذائی تحفظ (فوڈ سیکیورٹی) کے شعبوں میں ہونے والے مذاکرات میں چاول، چارہ ، گوشت اور مخصوص زرعی مصنوعات میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے اس امکان کا بھی جائزہ لیا کہ سعودی مالیاتی ادارے پاکستان میں برآمدات سے منسلک زرعی اور انفرااسٹرکچر منصوبوں کی معاونت میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں کارپوریٹ فارمنگ اور میکانائزیشن (مشینی زراعت) کو پیداواری صلاحیت کے چیلنجز کے طویل مدتی حل کے طور پر بھی پرکھا گیا، بشمول کپاس جیسی فصلوں کے، جہاں فی ایکڑ پیداوار میں کمی اور ہاتھ سے کام کرنے کی زیادہ لاگت نے بین الاقوامی سطح پر اس کی مسابقت کو متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال نے اس بات کی نشاندہی کی کہ برآمدات پر مبنی سرمایہ کاری کے ماڈلز زرعی پیداوار کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ اس کے ساتھ ہی ٹیکسٹائل اور یارن جیسی متعلقہ صنعتوں کو بھی تقویت ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں معاشی تعاون کے لیے سرمایہ کاری پر مبنی اور شراکت داری پر منحصر نقطہ نظر اپنانے پر دونوں اطراف کے خیالات میں گہری ہم آہنگی بھی دیکھی گئی۔ دونوں فریقین نے پاکستان کی برآمدی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور علاقائی سطح پر بڑھتی طلب کو پائیدار طریقے سے پورا کرنے کے لیے مسابقت کو بہتر بنانے، پیداوار میں اضافے اور ویلیو چینز کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;br&gt;مذاکرات کا ایک اہم مرکز علاقائی منڈیوں، بالخصوص وسطی ایشیا، افریقہ اور آسیان ممالک میں مشترکہ طور پر مواقع تلاش کرنا تھا، جن کی نشاندہی تیز رفتار ترقی والے خطوں کے طور پر کی گئی ہے جو باہمی تعاون کے لیے وسیع مواقع پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں اطراف نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب اپنی اپنی انفرادی خوبیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک دوسرے کے معاون شراکت دار بن سکتے ہیں جس میں پاکستان کی پیداواری صلاحیتوں کو سعودی عرب کی سرمایہ کاری کی طاقت، منڈیوں تک رسائی اور علاقائی روابط  کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی وسائل کی ترقی تعاون کے ایک اور اہم شعبے کے طور پر سامنے آئی۔ دونوں اطراف نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صحت، ہاسپیٹلٹی اور سروسز کے شعبوں میں سب سے زیادہ شدید کمی نرسوں، نگہداشت کرنے والوں (کیئر گیورز)، ٹیکنیشنز اور درمیانی درجے کے ہاسپیٹلٹی اسٹاف کی ہے، نہ کہ سینئر پیشہ ور افراد کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابراہیم المبارک نے پیشہ ورانہ تربیت اور مہارتوں کی ترقی کے حوالے سے سعودی عرب کے تجربات سے آگاہ کیا اور پاکستان میں ٹرین ٹو ڈپلائے (پہلے تربیت پھر تعیناتی) کے ماڈلز کو دہرانے کے لیے آمادگی ظاہر کی تاکہ تربیتی پروگراموں کو براہِ راست بیرونِ ملک روزگار کے مواقع سے منسلک کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں اطراف نے ادویات سازی (فارماسیوٹیکلز)، کھیلوں کے سامان، جوتوں کی صنعت اور ہلکی مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی صنعتی بنیاد اور مشترکہ منصوبوں (جوائنٹ وینچرز)، کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ اور سپلٹ پروڈکشن ماڈلز کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا جن کا مقصد علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کا اختتام اس مفاہمت پر ہوا کہ شعبہ جاتی ورکشاپس اور بزنس ٹو بزنس روابط کے ذریعے اس سلسلے کو آگے بڑھایا جائے گا، جس کا مقصد پالیسیوں میں ہم آہنگی کو ٹھوس تجارتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری کے منصوبوں اور روزگار کی فراہمی میں تبدیل کرنا ہے، تاکہ پاک-سعودی معاشی تعلقات کو مزید استحکام مل سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی عرب نے پاکستان میں منظم اور طویل مدتی انتظامات کے تحت بڑے پیمانے پر کارپوریٹ فارمنگ میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔</strong><br>یہ پیشرفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور سعودی عرب کے نائب وزیرِ سرمایہ کاری ابراہیم المبارک کے درمیان ہونے والی ایک اعلیٰ سطح ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ اس ملاقات کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی منڈیوں میں مشترکہ شمولیت کے حوالے سے دوطرفہ تعاون کا جائزہ لینا اور اسے مزید آگے بڑھانا تھا۔</p>
<p>ملاقات کے دوران سعودی وفد نے پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ پاکستان پہلے ہی معیار کی ضروریات پوری کر رہا ہے اور کارپوریٹ سطح کی کاشتکاری، میکانائزیشن، ذخیرہ اندوزی اور لاجسٹکس میں سرمایہ کاری کے ذریعے منظم اور طویل المدتی انتظامات کے تحت پاکستان سے سعودی عرب کو چاول کی مستقل برآمدات ممکن بنائی جاسکتی ہیں۔</p>
<p>وسیع تر تناظر میں زراعت اور غذائی تحفظ (فوڈ سیکیورٹی) کے شعبوں میں ہونے والے مذاکرات میں چاول، چارہ ، گوشت اور مخصوص زرعی مصنوعات میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>دونوں فریقین نے اس امکان کا بھی جائزہ لیا کہ سعودی مالیاتی ادارے پاکستان میں برآمدات سے منسلک زرعی اور انفرااسٹرکچر منصوبوں کی معاونت میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ملاقات میں کارپوریٹ فارمنگ اور میکانائزیشن (مشینی زراعت) کو پیداواری صلاحیت کے چیلنجز کے طویل مدتی حل کے طور پر بھی پرکھا گیا، بشمول کپاس جیسی فصلوں کے، جہاں فی ایکڑ پیداوار میں کمی اور ہاتھ سے کام کرنے کی زیادہ لاگت نے بین الاقوامی سطح پر اس کی مسابقت کو متاثر کیا ہے۔</p>
<p>جام کمال نے اس بات کی نشاندہی کی کہ برآمدات پر مبنی سرمایہ کاری کے ماڈلز زرعی پیداوار کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ اس کے ساتھ ہی ٹیکسٹائل اور یارن جیسی متعلقہ صنعتوں کو بھی تقویت ملے گی۔</p>
<p>ملاقات میں معاشی تعاون کے لیے سرمایہ کاری پر مبنی اور شراکت داری پر منحصر نقطہ نظر اپنانے پر دونوں اطراف کے خیالات میں گہری ہم آہنگی بھی دیکھی گئی۔ دونوں فریقین نے پاکستان کی برآمدی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور علاقائی سطح پر بڑھتی طلب کو پائیدار طریقے سے پورا کرنے کے لیے مسابقت کو بہتر بنانے، پیداوار میں اضافے اور ویلیو چینز کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔<br>مذاکرات کا ایک اہم مرکز علاقائی منڈیوں، بالخصوص وسطی ایشیا، افریقہ اور آسیان ممالک میں مشترکہ طور پر مواقع تلاش کرنا تھا، جن کی نشاندہی تیز رفتار ترقی والے خطوں کے طور پر کی گئی ہے جو باہمی تعاون کے لیے وسیع مواقع پیش کرتے ہیں۔</p>
<p>دونوں اطراف نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب اپنی اپنی انفرادی خوبیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک دوسرے کے معاون شراکت دار بن سکتے ہیں جس میں پاکستان کی پیداواری صلاحیتوں کو سعودی عرب کی سرمایہ کاری کی طاقت، منڈیوں تک رسائی اور علاقائی روابط  کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔</p>
<p>انسانی وسائل کی ترقی تعاون کے ایک اور اہم شعبے کے طور پر سامنے آئی۔ دونوں اطراف نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صحت، ہاسپیٹلٹی اور سروسز کے شعبوں میں سب سے زیادہ شدید کمی نرسوں، نگہداشت کرنے والوں (کیئر گیورز)، ٹیکنیشنز اور درمیانی درجے کے ہاسپیٹلٹی اسٹاف کی ہے، نہ کہ سینئر پیشہ ور افراد کی۔</p>
<p>ابراہیم المبارک نے پیشہ ورانہ تربیت اور مہارتوں کی ترقی کے حوالے سے سعودی عرب کے تجربات سے آگاہ کیا اور پاکستان میں ٹرین ٹو ڈپلائے (پہلے تربیت پھر تعیناتی) کے ماڈلز کو دہرانے کے لیے آمادگی ظاہر کی تاکہ تربیتی پروگراموں کو براہِ راست بیرونِ ملک روزگار کے مواقع سے منسلک کیا جا سکے۔</p>
<p>دونوں اطراف نے ادویات سازی (فارماسیوٹیکلز)، کھیلوں کے سامان، جوتوں کی صنعت اور ہلکی مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی صنعتی بنیاد اور مشترکہ منصوبوں (جوائنٹ وینچرز)، کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ اور سپلٹ پروڈکشن ماڈلز کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا جن کا مقصد علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنا ہے۔</p>
<p>ملاقات کا اختتام اس مفاہمت پر ہوا کہ شعبہ جاتی ورکشاپس اور بزنس ٹو بزنس روابط کے ذریعے اس سلسلے کو آگے بڑھایا جائے گا، جس کا مقصد پالیسیوں میں ہم آہنگی کو ٹھوس تجارتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری کے منصوبوں اور روزگار کی فراہمی میں تبدیل کرنا ہے، تاکہ پاک-سعودی معاشی تعلقات کو مزید استحکام مل سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282685</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Feb 2026 11:28:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/11111354c302c03.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/11111354c302c03.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
