<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیٹ میٹرنگ قواعد برقرار رکھ کر550 ارب روپے کا بوجھ صارفین پر نہیں ڈال سکتے، وزیر توانائی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282678/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ایوان بالا کو آگاہ کیا کہ نیٹ میٹرنگ ضوابط میں ترمیم نہ کرنے کی صورت میں حکومت 34.5 ملین سے زائد بجلی صارفین پر سالانہ 550 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ 466,000 سے زائد نیٹ میٹرنگ صارفین نئے ضوابط سے متاثر نہیں ہوں گے کیونکہ یہ قوانین صرف نئے صارفین پر لاگو ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ اجلاس میں نیٹ میٹرنگ سے متعلق قرارداد پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیرِ توانائی نے بتایا کہ ملک کے 34,500,000 سے زائد بجلی صارفین میں سے 466,506 صارفین تقریباً 7,000 میگاواٹ بجلی پر نیٹ میٹرنگ استعمال کر رہے ہیں، جن میں چند صنعتکار بھی شامل ہیں جو 3,500 میگاواٹ تک بجلی نیٹ میٹرنگ کے تحت استعمال کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر نیپرا موجودہ 26 یا 27 روپے فی یونٹ کی شرح برقرار رکھنے کی اجازت دیتا ہے تو مجموعی بجلی صارفین پر سالانہ بوجھ 200 ارب روپے سے بڑھ کر 550 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔ ان کے مطابق نیپرا کی ذمہ داری صارفین کے مفادات کا تحفظ اور بجلی کے نرخوں میں غیر ضروری اضافے سے بچاؤ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اویس لغاری نے انکشاف کیا کہ ان کی رہائش گاہ پر 11 کلوواٹ کا سولر سسٹم نصب ہے اور وہ خود نیٹ میٹرنگ صارف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ 5.50 یا 6 روپے فی یونٹ لاگت سے بجلی پیدا کر کے اسے 26 یا 27 روپے میں گرڈ کو فروخت کریں تو کیا یہ باقی 34,500,000 صارفین کے ساتھ انصاف ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ یہ نیپرا کے ضوابط ہیں، کوئی پالیسی نہیں، اور آئین و قانون کے تحت ریگولیٹر کو ضوابط میں تبدیلی کا اختیار حاصل ہے۔ گزشتہ 10 سے 12 ماہ کے دوران تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی اور گزشتہ سال جون میں بعض معاملات طے پائے۔ ان کے مطابق سولر ایسوسی ایشن آف پاکستان نے بھی نیپرا کے فیصلے کی حمایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ نئے ضوابط کا اطلاق ماضی پر نہیں ہوگا اور سات سالہ معاہدوں یا لائسنس کی کسی شق کو تبدیل نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما علی ظفر نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے حکومت پر موجودہ نیٹ میٹرنگ لائسنس میں سابقہ اثر سے تبدیلی کی اجازت دینے کا الزام عائد کیا۔ اجلاس براہِ راست نشر نہ ہونے پر بھی ارکان نے تشویش ظاہر کی۔ سینیٹ کا اجلاس جمعرات تک ملتوی کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ایوان بالا کو آگاہ کیا کہ نیٹ میٹرنگ ضوابط میں ترمیم نہ کرنے کی صورت میں حکومت 34.5 ملین سے زائد بجلی صارفین پر سالانہ 550 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ 466,000 سے زائد نیٹ میٹرنگ صارفین نئے ضوابط سے متاثر نہیں ہوں گے کیونکہ یہ قوانین صرف نئے صارفین پر لاگو ہوں گے۔</strong></p>
<p>سینیٹ اجلاس میں نیٹ میٹرنگ سے متعلق قرارداد پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیرِ توانائی نے بتایا کہ ملک کے 34,500,000 سے زائد بجلی صارفین میں سے 466,506 صارفین تقریباً 7,000 میگاواٹ بجلی پر نیٹ میٹرنگ استعمال کر رہے ہیں، جن میں چند صنعتکار بھی شامل ہیں جو 3,500 میگاواٹ تک بجلی نیٹ میٹرنگ کے تحت استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر نیپرا موجودہ 26 یا 27 روپے فی یونٹ کی شرح برقرار رکھنے کی اجازت دیتا ہے تو مجموعی بجلی صارفین پر سالانہ بوجھ 200 ارب روپے سے بڑھ کر 550 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔ ان کے مطابق نیپرا کی ذمہ داری صارفین کے مفادات کا تحفظ اور بجلی کے نرخوں میں غیر ضروری اضافے سے بچاؤ ہے۔</p>
<p>اویس لغاری نے انکشاف کیا کہ ان کی رہائش گاہ پر 11 کلوواٹ کا سولر سسٹم نصب ہے اور وہ خود نیٹ میٹرنگ صارف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ 5.50 یا 6 روپے فی یونٹ لاگت سے بجلی پیدا کر کے اسے 26 یا 27 روپے میں گرڈ کو فروخت کریں تو کیا یہ باقی 34,500,000 صارفین کے ساتھ انصاف ہے؟</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ یہ نیپرا کے ضوابط ہیں، کوئی پالیسی نہیں، اور آئین و قانون کے تحت ریگولیٹر کو ضوابط میں تبدیلی کا اختیار حاصل ہے۔ گزشتہ 10 سے 12 ماہ کے دوران تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی اور گزشتہ سال جون میں بعض معاملات طے پائے۔ ان کے مطابق سولر ایسوسی ایشن آف پاکستان نے بھی نیپرا کے فیصلے کی حمایت کی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ نئے ضوابط کا اطلاق ماضی پر نہیں ہوگا اور سات سالہ معاہدوں یا لائسنس کی کسی شق کو تبدیل نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما علی ظفر نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے حکومت پر موجودہ نیٹ میٹرنگ لائسنس میں سابقہ اثر سے تبدیلی کی اجازت دینے کا الزام عائد کیا۔ اجلاس براہِ راست نشر نہ ہونے پر بھی ارکان نے تشویش ظاہر کی۔ سینیٹ کا اجلاس جمعرات تک ملتوی کر دیا گیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282678</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Feb 2026 13:02:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سردار سکندر شاہین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/11093605e29d403.webp" type="image/webp" medium="image" height="677" width="945">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/11093605e29d403.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
