<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ییلڈز میں کمی، سونا اور چاندی مہنگے ہوگئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282677/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں بدھ کے روز سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی بڑی وجہ امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں کمی اور دسمبر کے ریٹیل سیلز کے اعداد و شمار میں غیر متوقع جمود تھا۔ معاشی اعداد و شمار نے اشارہ دیا ہے کہ امریکی معیشت سست روی کا شکار ہو سکتی ہے، جس سے فیڈرل ریزرو کو آئندہ شرح سود میں کمی کی گنجائش مل سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپاٹ گولڈ 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 5,038.73 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا، جبکہ اپریل ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.6 فیصد بڑھ کر 5,060.60 ڈالر فی اونس ہو گئے۔ اسپاٹ سلور میں 1 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 81.49 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہونے لگا، حالانکہ گزشتہ سیشن میں اس کی قیمت میں 3 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو جاری ہونے والے مختلف معاشی اعداد و شمار کے بعد امریکی بانڈ ییلڈز میں کمی آئی، جس سے یہ تاثر ملا کہ معیشت کی رفتار سست پڑ رہی ہے۔ بانڈ ییلڈز میں کمی دھاتوں کے لیے مثبت سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس سے بغیر منافع والی دھاتوں کو رکھنے کی لاگت کم ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق دسمبر میں امریکی ریٹیل سیلز میں کوئی اضافہ نہیں ہوا کیونکہ صارفین نے گاڑیوں اور دیگر مہنگی اشیا کی خریداری کم کر دی۔ اس پیش رفت سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نئے سال میں صارفین کے اخراجات اور مجموعی معاشی ترقی کی رفتار مزید کم ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کلیولینڈ فیڈرل ریزرو بینک کی صدر بیتھ ہیماک نے کہا ہے کہ موجودہ معاشی منظرنامے میں مرکزی بینک کو فوری طور پر شرح سود میں تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ سرمایہ کاروں کی اکثریت کو توقع ہے کہ 2026 کے دوران کم از کم دو مرتبہ 25 بیسس پوائنٹس کی کمی کی جا سکتی ہے، جس کا پہلا امکان جون میں ظاہر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار اب جنوری کے نان فارم پے رولز اور جمعہ کو جاری ہونے والے افراط زر کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں۔ ادھر بھارت میں جنوری کے دوران جغرافیائی خطرات کے باعث سونے کی قیمتوں میں اضافے نے سرمایہ کاروں کو گولڈ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز کی جانب راغب کیا۔ پلاٹینم کی قیمت 0.6 فیصد بڑھ کر 2,098.78 ڈالر جبکہ پیلیڈیم 0.2 فیصد اضافے سے 1,712.25 ڈالر فی اونس ہو گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں بدھ کے روز سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی بڑی وجہ امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں کمی اور دسمبر کے ریٹیل سیلز کے اعداد و شمار میں غیر متوقع جمود تھا۔ معاشی اعداد و شمار نے اشارہ دیا ہے کہ امریکی معیشت سست روی کا شکار ہو سکتی ہے، جس سے فیڈرل ریزرو کو آئندہ شرح سود میں کمی کی گنجائش مل سکتی ہے۔</strong></p>
<p>اسپاٹ گولڈ 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 5,038.73 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا، جبکہ اپریل ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.6 فیصد بڑھ کر 5,060.60 ڈالر فی اونس ہو گئے۔ اسپاٹ سلور میں 1 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 81.49 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہونے لگا، حالانکہ گزشتہ سیشن میں اس کی قیمت میں 3 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p>منگل کو جاری ہونے والے مختلف معاشی اعداد و شمار کے بعد امریکی بانڈ ییلڈز میں کمی آئی، جس سے یہ تاثر ملا کہ معیشت کی رفتار سست پڑ رہی ہے۔ بانڈ ییلڈز میں کمی دھاتوں کے لیے مثبت سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس سے بغیر منافع والی دھاتوں کو رکھنے کی لاگت کم ہو جاتی ہے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق دسمبر میں امریکی ریٹیل سیلز میں کوئی اضافہ نہیں ہوا کیونکہ صارفین نے گاڑیوں اور دیگر مہنگی اشیا کی خریداری کم کر دی۔ اس پیش رفت سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نئے سال میں صارفین کے اخراجات اور مجموعی معاشی ترقی کی رفتار مزید کم ہو سکتی ہے۔</p>
<p>تاہم کلیولینڈ فیڈرل ریزرو بینک کی صدر بیتھ ہیماک نے کہا ہے کہ موجودہ معاشی منظرنامے میں مرکزی بینک کو فوری طور پر شرح سود میں تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ سرمایہ کاروں کی اکثریت کو توقع ہے کہ 2026 کے دوران کم از کم دو مرتبہ 25 بیسس پوائنٹس کی کمی کی جا سکتی ہے، جس کا پہلا امکان جون میں ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>سرمایہ کار اب جنوری کے نان فارم پے رولز اور جمعہ کو جاری ہونے والے افراط زر کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں۔ ادھر بھارت میں جنوری کے دوران جغرافیائی خطرات کے باعث سونے کی قیمتوں میں اضافے نے سرمایہ کاروں کو گولڈ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز کی جانب راغب کیا۔ پلاٹینم کی قیمت 0.6 فیصد بڑھ کر 2,098.78 ڈالر جبکہ پیلیڈیم 0.2 فیصد اضافے سے 1,712.25 ڈالر فی اونس ہو گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282677</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Feb 2026 09:30:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/1109292618e058c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/1109292618e058c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
