<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 26 کے ابتدائی 7 ماہ میں پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر 43 فیصد اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282673/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (  پی اے ایم اے ) کے مطابق مالی سال 2025-26 کے ابتدائی سات ماہ کے دوران ملک میں گاڑیوں کی فروخت سالانہ بنیاد پر 43 فیصد اضافے کے ساتھ 111,377 یونٹس تک پہنچ گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے مقابلے میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت ( مالی سال 2025 کے 7 ماہ ) میں کاروں، ایل سی ویز، وینز اور جیپس سمیت مجموعی فروخت 77,686 یونٹس رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں کاروں کی فروخت جنوری 2026 میں 23,055 یونٹس تک پہنچ گئی، جو گزشتہ 43 ماہ کی بلند ترین سطح ہے، اور اس میں سالانہ بنیاد پر 36 فیصد جبکہ ماہانہ بنیاد پر 74 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;آٹو تجزیہ کار مشہود خان نے کہا کہ گاڑیوں کی مجموعی فروخت میں اضافے کی دو بنیادی وجوہات ہیں: اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی) کی جانب سے پالیسی ریٹ میں کمی، اور آٹو سیلز میں بہتری کے نتیجے میں لائٹ اور اسمال اسکیل انڈسٹری کی کارکردگی میں اضافہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر سود کی شرح میں مزید کمی سمیت بہتر فنانسنگ پالیسی اپنائی گئی تو آئندہ سال آٹو انڈسٹری کی فروخت 2 لاکھ 50 ہزار یونٹس تک پہنچ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشہود خان کے مطابق پاکستان میں رواں مالی سال کے دوران کاروں کی فروخت 1 لاکھ 70 ہزار سے 1 لاکھ 80 ہزار یونٹس کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد صابر شیخ نے کہا کہ 2021-22 میں کاروں کی فروخت تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار یونٹس تک پہنچی، جبکہ 2017-18 میں بھی 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد یونٹس فروخت ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ فروخت اب بھی سابقہ اعداد و شمار سے کم ہے، لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں فروخت میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی اے ایم اے کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو، تین اور چار پہیوں والی گاڑیوں کی مجموعی فروخت میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرکوں اور بسوں کی فروخت 91 فیصد بڑھ کر 4,633 یونٹس تک پہنچ گئی، جبکہ موٹرسائیکلوں اور رکشوں کی فروخت میں 32 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 1,103,356 یونٹس تک پہنچ گئی۔ تاہم، فارم ٹریکٹرز کی فروخت 23 فیصد کم ہو کر 15,434 یونٹس رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد صابر شیخ نے کہا کہ کوووڈ 19 کی وبا کے بعد پانچ سال کا عرصہ تھا جب لوگ خراب معاشی حالات کی وجہ سے نئی گاڑیاں خریدنے یا پرانی کاریں تبدیل کرنے سے گریز کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اب بہتر معاشی حالات کے ساتھ لوگ نئی گاڑیاں خرید رہے ہیں اور پرانی گاڑیاں بدل رہے ہیں، جس سے ملک میں چند ماہ کے لیے فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ نے مزید کہا کہ دو، تین اور چار پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ جاری ہے، لیکن پی اے ایم اے کے ڈیٹا میں صرف چند برانڈز شامل ہیں جو اس کے ممبر ہیں۔ مقامی مارکیٹ کے دیگر برانڈز کا تقریباً 30-40 فیصد ڈیٹا موجود نہیں، جو پی اے ایم اے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی ) کی مدد سے اکٹھا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ای وی (الیکٹرک وہیکلز) موٹر بائیکس اور رکشوں کی فروخت توقع کے مطابق نہیں بڑھی، کیونکہ ای وی بائیک کے ماڈلز کو ابھی حتمی شکل یا سیٹ نہیں کیا گیا۔ تاہم، پنجاب کے شہروں میں حکومت کی حمایت کی وجہ سے ای وی بائیک کا رجحان بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ماہر شفیق احمد شیخ نے کہا کہ آٹو موٹیو سیکٹر مالی سال 2026 کی تیسری سہ ماہی میں بحالی کے بڑے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جنوری کے اعداد و شمار تقریباً تمام طبقات میں فروخت میں جارحانہ توسیع ظاہر کرتے ہیں، جس کی بڑی وجہ مرکزی بینک کی پالیسی ریٹ میں 10.5 فیصد (2024 میں 22 فیصد سے کم) کی تیزی سے کمی ہے۔ اس کا اثر ٹرکوں کی پیداوار اور فروخت میں دوگنا اضافہ کے طور پر دیکھا گیا، جو صنعتی گاڑیوں کی لاجسٹکس کی بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے سرمایہ کاری میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ کاروبار سستی فنانسنگ کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری 2026 میں پاکستان میں کاروں کی فروخت 23,055 یونٹس تک پہنچ گئی، جو 43 ماہ کی بلند ترین سطح ہے اور 36 فیصد سالانہ اور 74 فیصد ماہانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شفیق احمد شیخ نے کہا کہ کم شرح سود اور بلاسود قسطوں کی اسکیموں کے ساتھ مسافر کاروں اور دو/تین پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا، جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ آٹو فنانسنگ کی بحالی کے بعد انٹری لیول اور پریمیم دونوں کیٹگریز میں نمایاں طلب جاری رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارم ٹریکٹروں کی فروخت میں کمی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ زرعی معیشت میں مشکلات ہیں، خاص طور پر بعض اجناس کی قیمتوں میں کمی، کھاد اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی لاگت اور دیہی علاقوں میں ڈسپوزایبل آمدنی میں کمی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شفیق نے کہا کہ ”میرے خیال میں زرعی شعبے کو کچھ مراعات دی جانی چاہئیں، بصورت دیگر طویل مدت تک ٹریکٹر کی کمی کا اثر وسیع تر دیہی ترقی اور معیشت پر پڑ سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (  پی اے ایم اے ) کے مطابق مالی سال 2025-26 کے ابتدائی سات ماہ کے دوران ملک میں گاڑیوں کی فروخت سالانہ بنیاد پر 43 فیصد اضافے کے ساتھ 111,377 یونٹس تک پہنچ گئی۔</strong></p>
<p>اس کے مقابلے میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت ( مالی سال 2025 کے 7 ماہ ) میں کاروں، ایل سی ویز، وینز اور جیپس سمیت مجموعی فروخت 77,686 یونٹس رہی تھی۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>پاکستان میں کاروں کی فروخت جنوری 2026 میں 23,055 یونٹس تک پہنچ گئی، جو گزشتہ 43 ماہ کی بلند ترین سطح ہے، اور اس میں سالانہ بنیاد پر 36 فیصد جبکہ ماہانہ بنیاد پر 74 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
</blockquote>
<p>آٹو تجزیہ کار مشہود خان نے کہا کہ گاڑیوں کی مجموعی فروخت میں اضافے کی دو بنیادی وجوہات ہیں: اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی) کی جانب سے پالیسی ریٹ میں کمی، اور آٹو سیلز میں بہتری کے نتیجے میں لائٹ اور اسمال اسکیل انڈسٹری کی کارکردگی میں اضافہ۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر سود کی شرح میں مزید کمی سمیت بہتر فنانسنگ پالیسی اپنائی گئی تو آئندہ سال آٹو انڈسٹری کی فروخت 2 لاکھ 50 ہزار یونٹس تک پہنچ سکتی ہے۔</p>
<p>مشہود خان کے مطابق پاکستان میں رواں مالی سال کے دوران کاروں کی فروخت 1 لاکھ 70 ہزار سے 1 لاکھ 80 ہزار یونٹس کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>محمد صابر شیخ نے کہا کہ 2021-22 میں کاروں کی فروخت تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار یونٹس تک پہنچی، جبکہ 2017-18 میں بھی 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد یونٹس فروخت ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ فروخت اب بھی سابقہ اعداد و شمار سے کم ہے، لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں فروخت میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔</p>
<p>پی اے ایم اے کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو، تین اور چار پہیوں والی گاڑیوں کی مجموعی فروخت میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>ٹرکوں اور بسوں کی فروخت 91 فیصد بڑھ کر 4,633 یونٹس تک پہنچ گئی، جبکہ موٹرسائیکلوں اور رکشوں کی فروخت میں 32 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 1,103,356 یونٹس تک پہنچ گئی۔ تاہم، فارم ٹریکٹرز کی فروخت 23 فیصد کم ہو کر 15,434 یونٹس رہ گئی۔</p>
<p>محمد صابر شیخ نے کہا کہ کوووڈ 19 کی وبا کے بعد پانچ سال کا عرصہ تھا جب لوگ خراب معاشی حالات کی وجہ سے نئی گاڑیاں خریدنے یا پرانی کاریں تبدیل کرنے سے گریز کرتے رہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اب بہتر معاشی حالات کے ساتھ لوگ نئی گاڑیاں خرید رہے ہیں اور پرانی گاڑیاں بدل رہے ہیں، جس سے ملک میں چند ماہ کے لیے فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p>شیخ نے مزید کہا کہ دو، تین اور چار پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ جاری ہے، لیکن پی اے ایم اے کے ڈیٹا میں صرف چند برانڈز شامل ہیں جو اس کے ممبر ہیں۔ مقامی مارکیٹ کے دیگر برانڈز کا تقریباً 30-40 فیصد ڈیٹا موجود نہیں، جو پی اے ایم اے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی ) کی مدد سے اکٹھا کر سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ای وی (الیکٹرک وہیکلز) موٹر بائیکس اور رکشوں کی فروخت توقع کے مطابق نہیں بڑھی، کیونکہ ای وی بائیک کے ماڈلز کو ابھی حتمی شکل یا سیٹ نہیں کیا گیا۔ تاہم، پنجاب کے شہروں میں حکومت کی حمایت کی وجہ سے ای وی بائیک کا رجحان بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>ایک اور ماہر شفیق احمد شیخ نے کہا کہ آٹو موٹیو سیکٹر مالی سال 2026 کی تیسری سہ ماہی میں بحالی کے بڑے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جنوری کے اعداد و شمار تقریباً تمام طبقات میں فروخت میں جارحانہ توسیع ظاہر کرتے ہیں، جس کی بڑی وجہ مرکزی بینک کی پالیسی ریٹ میں 10.5 فیصد (2024 میں 22 فیصد سے کم) کی تیزی سے کمی ہے۔ اس کا اثر ٹرکوں کی پیداوار اور فروخت میں دوگنا اضافہ کے طور پر دیکھا گیا، جو صنعتی گاڑیوں کی لاجسٹکس کی بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے سرمایہ کاری میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ کاروبار سستی فنانسنگ کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔</p>
<p>جنوری 2026 میں پاکستان میں کاروں کی فروخت 23,055 یونٹس تک پہنچ گئی، جو 43 ماہ کی بلند ترین سطح ہے اور 36 فیصد سالانہ اور 74 فیصد ماہانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>شفیق احمد شیخ نے کہا کہ کم شرح سود اور بلاسود قسطوں کی اسکیموں کے ساتھ مسافر کاروں اور دو/تین پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا، جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ آٹو فنانسنگ کی بحالی کے بعد انٹری لیول اور پریمیم دونوں کیٹگریز میں نمایاں طلب جاری رہی۔</p>
<p>فارم ٹریکٹروں کی فروخت میں کمی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ زرعی معیشت میں مشکلات ہیں، خاص طور پر بعض اجناس کی قیمتوں میں کمی، کھاد اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی لاگت اور دیہی علاقوں میں ڈسپوزایبل آمدنی میں کمی۔</p>
<p>شفیق نے کہا کہ ”میرے خیال میں زرعی شعبے کو کچھ مراعات دی جانی چاہئیں، بصورت دیگر طویل مدت تک ٹریکٹر کی کمی کا اثر وسیع تر دیہی ترقی اور معیشت پر پڑ سکتا ہے۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282673</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Feb 2026 21:53:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/1021510303206bb.webp" type="image/webp" medium="image" height="666" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/1021510303206bb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
