<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 23:56:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 23:56:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایکسپورٹ بوسٹ چیلنج: غیر روایتی اور جدید حکمتِ عملی کا وقت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282666/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت برآمدات کی معاونت کے لیے روایتی سوچ سے ہٹ کر اقدامات  کا مظاہرہ کررہی ہے۔ ماضی میں بڑے برآمد کنندگان خاص طور پر ٹیکسٹائل  شعبے میں کو وسیع پیمانے پر سبسڈیز دی جاتی تھیں جن میں کم قیمت توانائی (کیپٹیو اور گرڈ) اور ورکنگ کیپٹل اور طویل مدتی سرمایہ کاری دونوں کے لیے رعایتی مالیات  شامل تھی جبکہ ٹیکس بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پچھلے چند سالوں کے دوران یہ سبسڈیز ایک ایک کرکے واپس لے لی گئیں اور اب اشیاء کی برآمدات پر عام انکم ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی ایسے وقت میں آئی جب پاکستان میں توانائی کی قیمتیں عالمی نرخوں میں اضافے اور مقامی نظام کی مسلسل نااہلیوں کے باعث غیر معمولی حد تک بڑھ گئیں، اس کے  ساتھ سپر ٹیکس سمیت مختلف ٹیکسوں کی شرح میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرح سود بھی آسمان سے باتیں کرنے لگیں اور اس پر کوئی سبسیڈی سپورٹ بھی میسر نہ رہی، یہی وجہ ہے کہ ان عوامل نے جب درآمدی ممالک میں ٹیکسٹائل کی گرتی ہوئی طلب کے ساتھ جنم لیا تو پاکستان کی برآمدات کے جمود کا شکار ہونے کی اصل وجہ سامنے آگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی اب ایک واضع اور اعلانیہ پالیسی برآمدات پر مبنی ترقی ہے۔ تاہم حال ہی میں اس کی حمایت کے لیے کوئی معنی خیز اقدامات نہیں کیے گئے اور نتائج نے زمینی حقائق کی عکاسی کی ہے۔ اس دوران ٹیکسٹائل کے بڑے برآمد کنندگان ان مراعات کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے لابنگ جاری رکھے ہوئے ہیں جو وہ کھوچکے ہیں لیکن حکومت کو مالیاتی رکاوٹوں کا سامنا ہے اور اسے آئی ایم ایف  کی شرائط کی تعمیل بھی کرنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے سبسڈائزڈ فنانسنگ (رعایتی قرضے) فراہم کی جاتی تھی جس کا عملی مطلب نئی کرنسی کی تخلیق تھا اور اس سے اسٹیٹ بینک کی بیلنس شیٹ پر خطرات بڑھ جاتے تھے۔ اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترامیم کے بعد یہ سہولت ختم کردی گئی، بعد ازاں حکومت نے برآمد کنندگان کے لیے ورکنگ کیپٹل فنانسنگ میں 3 فیصد رعایت کی پیشکش کی جس کے لیے فنڈز مالیاتی سبسیڈی کے ذریعے فراہم کیے گئے تاہم برآمد کنندگان نے اس سے کہیں زیادہ کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اسٹیٹ بینک نے کسی سبسڈی کے بغیر فنانسنگ کی شرح میں مزید 3 فیصد کمی لانے کا ایک انوکھا اور غیر روایتی خیال پیش کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسٹیٹ بینک، بینکوں، برآمد کنندگان اور سرکاری حکام کے درمیان ایک خفیہ یا خاموش مفاہمت ہوچکی ہے کہ سبسیڈی دیے بغیر یا آئی ایم ایف کو ناراض کیے بغیر رعایتی فنانسنگ کو کیسے بڑھایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طریقہ کار کی تفصیل کچھ یوں ہے: سب سے پہلے اپنی مانیٹری پالیسی کے فیصلے میں اسٹیٹ بینک نے کیش ریزرو ریکوائرمنٹ (سی آر آر) میں 100 بیسس پوائنٹس (1 فیصد) کی کمی کی۔ یہ شرط 2021 میں مارکیٹ سے اضافی رقم (لیکوڈٹی) نکالنے کے لیے بڑھائی گئی تھی، اب چونکہ اسٹیٹ بینک خود مسلسل نظام میں رقم فراہم کر رہا ہے، اس لیے سی آر آر کو بلند سطح پر رکھنے کا کوئی خاص جواز باقی نہیں رہا۔ اس کمی سے تقریباً 300 ارب روپے کی لیکویڈیٹی آزاد ہونے کی توقع ہے جس سے بینکوں کو 30 سے 35 ارب روپے کا اضافی منافع کمانے کا موقع ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے چند دن بعد، حکومت نے ایکسپورٹ فنانس اسکیم (ای ایف ایس) کی شرح میں 3 فیصد کمی کا اعلان کردیا (یعنی شرح کو پالیسی ریٹ منفی 3 فیصد سے کم کر کے پالیسی ریٹ منفی 6 فیصد کر دیا گیا) اور اس اضافی لاگت کا بوجھ بینک خود برداشت کریں گے۔ تقریباً 10 کھرب (1 ٹریلین) روپے کے موجودہ فنانسنگ اسٹاک پر اس کا اثر تقریباً 30 ارب روپے بنتا ہے جو کہ تقریباً اسی فائدے کے برابر ہے جو بینکوں کو سی آر آر میں کٹوتی سے حاصل ہونا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں حکومت نے صنعتی ٹیرف اور وہیلنگ چارجزمیں شامل کراس سبسڈیز کے خاتمے کا اعلان کیا ہے جس سے حاصل ہونے والے فائدے کا تخمینہ تقریباً 4 روپے فی یونٹ لگایا گیا ہے، تاہم حکومت نے ابھی تک واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ وہ اس کمی کو کیسے پورا کرے گی (یعنی اس کے مالیاتی فنڈز کہاں سے آئیں گے)، اگرچہ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام ’فسکلی نیوٹرل ہو گا یعنی اس سے قومی خزانے پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی ٹیرف کی وسیع تر بحث میں پڑے بغیر ایکسپورٹ فنانس اسکیم (ای ایف ایس) میں کمی بظاہر مالی طور پر غیر جانبدار نظر آتی ہے، تاہم یہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتی ہے کیونکہ یہ قرضوں کی تقسیم اور بینکوں کے قرض دینے کے رویوں کو متاثر کرتی ہے۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں اس طرح کی اسکیموں کا غلط استعمال کیا گیا۔اب بنیادی سوال جس کا ایک معقول جواب درکار ہے، وہ یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک یہ کیسے یقینی بنائے گا کہ اس اسکیم میں خورد برد یا غلط استعمال  نہ ہو؟ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب ایف بی آر کی جانب سے برآمد کنندگان کے لیے دی گئی ایک اور سہولتی اسکیم کا غلط استعمال کیا گیا تھا، جس کے بعد حکومت اسے بند کرنے پر مجبور ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ حکومت عملی طور پر برآمد کنندگان کو سستا ورکنگ کیپٹل فراہم کر رہی ہے جس کا بنیادی فائدہ ان کے منافع میں اضافے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے بجائے ایک زیادہ مؤثر طریقہ کار یہ ہوسکتا تھا کہ طویل مدتی رعایتی فنانسنگ فراہم کی جاتی تاکہ صنعتوں کی پیداواری صلاحیت میں توسیع ہوسکتی۔ بہر حال یہ اشیاء برآمد کرنے والے شعبے کی حمایت میں ایک قدم ضرور ہے جو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کررہا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ تجربہ کتنا کامیاب رہتا ہے اور کیا یہ برآمدات میں کسی معنی خیز اضافے کا باعث بنتا ہے یا نہیں، خاص طور پر اس لیے کہ سبسڈیز کے حوالے سے ماضی کے تجربات زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت برآمدات کی معاونت کے لیے روایتی سوچ سے ہٹ کر اقدامات  کا مظاہرہ کررہی ہے۔ ماضی میں بڑے برآمد کنندگان خاص طور پر ٹیکسٹائل  شعبے میں کو وسیع پیمانے پر سبسڈیز دی جاتی تھیں جن میں کم قیمت توانائی (کیپٹیو اور گرڈ) اور ورکنگ کیپٹل اور طویل مدتی سرمایہ کاری دونوں کے لیے رعایتی مالیات  شامل تھی جبکہ ٹیکس بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔</strong></p>
<p>پچھلے چند سالوں کے دوران یہ سبسڈیز ایک ایک کرکے واپس لے لی گئیں اور اب اشیاء کی برآمدات پر عام انکم ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔</p>
<p>یہ تبدیلی ایسے وقت میں آئی جب پاکستان میں توانائی کی قیمتیں عالمی نرخوں میں اضافے اور مقامی نظام کی مسلسل نااہلیوں کے باعث غیر معمولی حد تک بڑھ گئیں، اس کے  ساتھ سپر ٹیکس سمیت مختلف ٹیکسوں کی شرح میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔</p>
<p>شرح سود بھی آسمان سے باتیں کرنے لگیں اور اس پر کوئی سبسیڈی سپورٹ بھی میسر نہ رہی، یہی وجہ ہے کہ ان عوامل نے جب درآمدی ممالک میں ٹیکسٹائل کی گرتی ہوئی طلب کے ساتھ جنم لیا تو پاکستان کی برآمدات کے جمود کا شکار ہونے کی اصل وجہ سامنے آگئی۔</p>
<p>حکومت کی اب ایک واضع اور اعلانیہ پالیسی برآمدات پر مبنی ترقی ہے۔ تاہم حال ہی میں اس کی حمایت کے لیے کوئی معنی خیز اقدامات نہیں کیے گئے اور نتائج نے زمینی حقائق کی عکاسی کی ہے۔ اس دوران ٹیکسٹائل کے بڑے برآمد کنندگان ان مراعات کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے لابنگ جاری رکھے ہوئے ہیں جو وہ کھوچکے ہیں لیکن حکومت کو مالیاتی رکاوٹوں کا سامنا ہے اور اسے آئی ایم ایف  کی شرائط کی تعمیل بھی کرنی ہے۔</p>
<p>ماضی میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے سبسڈائزڈ فنانسنگ (رعایتی قرضے) فراہم کی جاتی تھی جس کا عملی مطلب نئی کرنسی کی تخلیق تھا اور اس سے اسٹیٹ بینک کی بیلنس شیٹ پر خطرات بڑھ جاتے تھے۔ اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترامیم کے بعد یہ سہولت ختم کردی گئی، بعد ازاں حکومت نے برآمد کنندگان کے لیے ورکنگ کیپٹل فنانسنگ میں 3 فیصد رعایت کی پیشکش کی جس کے لیے فنڈز مالیاتی سبسیڈی کے ذریعے فراہم کیے گئے تاہم برآمد کنندگان نے اس سے کہیں زیادہ کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>اب اسٹیٹ بینک نے کسی سبسڈی کے بغیر فنانسنگ کی شرح میں مزید 3 فیصد کمی لانے کا ایک انوکھا اور غیر روایتی خیال پیش کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسٹیٹ بینک، بینکوں، برآمد کنندگان اور سرکاری حکام کے درمیان ایک خفیہ یا خاموش مفاہمت ہوچکی ہے کہ سبسیڈی دیے بغیر یا آئی ایم ایف کو ناراض کیے بغیر رعایتی فنانسنگ کو کیسے بڑھایا جائے۔</p>
<p>اس طریقہ کار کی تفصیل کچھ یوں ہے: سب سے پہلے اپنی مانیٹری پالیسی کے فیصلے میں اسٹیٹ بینک نے کیش ریزرو ریکوائرمنٹ (سی آر آر) میں 100 بیسس پوائنٹس (1 فیصد) کی کمی کی۔ یہ شرط 2021 میں مارکیٹ سے اضافی رقم (لیکوڈٹی) نکالنے کے لیے بڑھائی گئی تھی، اب چونکہ اسٹیٹ بینک خود مسلسل نظام میں رقم فراہم کر رہا ہے، اس لیے سی آر آر کو بلند سطح پر رکھنے کا کوئی خاص جواز باقی نہیں رہا۔ اس کمی سے تقریباً 300 ارب روپے کی لیکویڈیٹی آزاد ہونے کی توقع ہے جس سے بینکوں کو 30 سے 35 ارب روپے کا اضافی منافع کمانے کا موقع ملے گا۔</p>
<p>اس کے چند دن بعد، حکومت نے ایکسپورٹ فنانس اسکیم (ای ایف ایس) کی شرح میں 3 فیصد کمی کا اعلان کردیا (یعنی شرح کو پالیسی ریٹ منفی 3 فیصد سے کم کر کے پالیسی ریٹ منفی 6 فیصد کر دیا گیا) اور اس اضافی لاگت کا بوجھ بینک خود برداشت کریں گے۔ تقریباً 10 کھرب (1 ٹریلین) روپے کے موجودہ فنانسنگ اسٹاک پر اس کا اثر تقریباً 30 ارب روپے بنتا ہے جو کہ تقریباً اسی فائدے کے برابر ہے جو بینکوں کو سی آر آر میں کٹوتی سے حاصل ہونا تھا۔</p>
<p>مزید برآں حکومت نے صنعتی ٹیرف اور وہیلنگ چارجزمیں شامل کراس سبسڈیز کے خاتمے کا اعلان کیا ہے جس سے حاصل ہونے والے فائدے کا تخمینہ تقریباً 4 روپے فی یونٹ لگایا گیا ہے، تاہم حکومت نے ابھی تک واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ وہ اس کمی کو کیسے پورا کرے گی (یعنی اس کے مالیاتی فنڈز کہاں سے آئیں گے)، اگرچہ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام ’فسکلی نیوٹرل ہو گا یعنی اس سے قومی خزانے پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔</p>
<p>بجلی ٹیرف کی وسیع تر بحث میں پڑے بغیر ایکسپورٹ فنانس اسکیم (ای ایف ایس) میں کمی بظاہر مالی طور پر غیر جانبدار نظر آتی ہے، تاہم یہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتی ہے کیونکہ یہ قرضوں کی تقسیم اور بینکوں کے قرض دینے کے رویوں کو متاثر کرتی ہے۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں اس طرح کی اسکیموں کا غلط استعمال کیا گیا۔اب بنیادی سوال جس کا ایک معقول جواب درکار ہے، وہ یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک یہ کیسے یقینی بنائے گا کہ اس اسکیم میں خورد برد یا غلط استعمال  نہ ہو؟ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب ایف بی آر کی جانب سے برآمد کنندگان کے لیے دی گئی ایک اور سہولتی اسکیم کا غلط استعمال کیا گیا تھا، جس کے بعد حکومت اسے بند کرنے پر مجبور ہوگئی تھی۔</p>
<p>مزید یہ کہ حکومت عملی طور پر برآمد کنندگان کو سستا ورکنگ کیپٹل فراہم کر رہی ہے جس کا بنیادی فائدہ ان کے منافع میں اضافے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے بجائے ایک زیادہ مؤثر طریقہ کار یہ ہوسکتا تھا کہ طویل مدتی رعایتی فنانسنگ فراہم کی جاتی تاکہ صنعتوں کی پیداواری صلاحیت میں توسیع ہوسکتی۔ بہر حال یہ اشیاء برآمد کرنے والے شعبے کی حمایت میں ایک قدم ضرور ہے جو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کررہا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ تجربہ کتنا کامیاب رہتا ہے اور کیا یہ برآمدات میں کسی معنی خیز اضافے کا باعث بنتا ہے یا نہیں، خاص طور پر اس لیے کہ سبسڈیز کے حوالے سے ماضی کے تجربات زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282666</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Feb 2026 16:29:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/1016262902193c7.webp" type="image/webp" medium="image" height="677" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/1016262902193c7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
