<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:39:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:39:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور بھارت کا ہائی پروفائل میچ کھیلنے کا فیصلہ کرکٹ کیلئے بہتر قرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282662/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی جانب سے یوٹرن لیتے ہوئے 15 فروری کو ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف گروپ اے کا ہائی پروفائل میچ کھیلنے کے فیصلے کو منگل کے روز دانشمندی اور کرکٹ کے لیے بہتر قرار دیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی حکومت نے پیر کی رات دیر گئے ایک ہفتے سے جاری تعطل ختم کرتے ہوئے قومی ٹیم کو کولمبو میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لے لیا۔ یوں عالمی کرکٹ کے سب سے بڑے اور منافع بخش مقابلوں میں سے ایک دوبارہ بحال ہو گیا، جو ہفتے بھر کی ہنگامی سفارتی اور کرکٹ سطح کی بات چیت کے بعد ممکن ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیش رفت سے قبل ہفتے کے اختتام پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے سربراہان لاہور پہنچے، جہاں انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے حکام کے ساتھ مذاکرات کیے۔ پیر کے روز بنگلہ دیش اور سری لنکا کی حکومتوں نے بھی اسلام آباد کو باضابطہ خطوط لکھ کر میچ کھیلنے کی اجازت دینے کی اپیل کی، جس پر آخرکار مثبت جواب دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی حکومت نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ کثیرالجہتی مشاورت اور دوست ممالک کی درخواست پر حکومت پاکستان قومی ٹیم کو 15 فروری کو میدان میں اترنے کی ہدایت کرتی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ فیصلہ کرکٹ کی روح کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے سابق کرکٹر مدن لال نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان نے بار بار میچ نہ کھیلنے کے اعلان سے آئی سی سی کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ان کے بقول آخرکار آئی سی سی کو مسئلہ حل کرنے کے لیے پاکستان آنا پڑا، جو مجموعی طور پر کرکٹ کے لیے اچھا ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط ٹیموں کا کھیلنا ضروری ہے تاکہ ورلڈ کپ کی کشش برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کا میزبان سری لنکا، جہاں یہ مقابلہ اشتہارات، نشریاتی حقوق، اسپانسرشپ اور سیاحت کی مد میں کروڑوں ڈالر کی آمدن پیدا کرتا ہے، نے بھی فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ سری لنکن صدر انورا کمارا دِسانائیکے نے وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ’ہم سب کے پسندیدہ کھیل کا یہ بڑا مقابلہ طے شدہ منصوبے کے مطابق ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی سینئر صحافی پردیپ میگزین نے کہا کہ تمام فریقوں میں آخرکار عقل مندی غالب آ گئی۔ ان کے مطابق مالی پہلوؤں کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں تھا، کیونکہ بھارت اور پاکستان کا میچ صرف کرکٹ کی آمدن تک محدود نہیں بلکہ اس سے جڑی وسیع تر تجارتی سرگرمیاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب کو احساس ہو گیا تھا کہ اس میچ کی منسوخی تمام آئی سی سی رکن ممالک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت گزشتہ ایک دہائی سے دوطرفہ کرکٹ نہیں کھیل رہے اور دونوں ٹیمیں صرف عالمی یا علاقائی ایونٹس میں، وہ بھی غیر جانبدار مقامات پر، ایک دوسرے کے مدمقابل آتی ہیں۔ اس 20 ٹیموں کے ٹورنامنٹ سے قبل سیاسی کشیدگی کے باعث فضا کشیدہ رہی، حتیٰ کہ سیکیورٹی خدشات پر بنگلہ دیش نے بھارت میں کھیلنے سے انکار کیا اور اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اگر بھارت کے خلاف میچ سے دستبردار ہوتا تو اسے دو پوائنٹس گنوانا پڑتے، جس سے اگلے مرحلے تک رسائی کے امکانات متاثر ہو سکتے تھے۔ پاکستان نے ہفتے کے روز اپنے افتتاحی میچ میں نیدرلینڈز کو شکست دی تھی، جبکہ منگل کو کولمبو میں اس کا دوسرا گروپ میچ امریکا کے خلاف شیڈول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ ان کی ٹیم میچ ہو یا نہ ہو، کولمبو ضرور جائے گی، کیونکہ پروازیں بک ہو چکی ہیں اور بھارت نے کھیلنے سے انکار نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی جانب سے یوٹرن لیتے ہوئے 15 فروری کو ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف گروپ اے کا ہائی پروفائل میچ کھیلنے کے فیصلے کو منگل کے روز دانشمندی اور کرکٹ کے لیے بہتر قرار دیا گیا۔</strong></p>
<p>پاکستان کی حکومت نے پیر کی رات دیر گئے ایک ہفتے سے جاری تعطل ختم کرتے ہوئے قومی ٹیم کو کولمبو میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لے لیا۔ یوں عالمی کرکٹ کے سب سے بڑے اور منافع بخش مقابلوں میں سے ایک دوبارہ بحال ہو گیا، جو ہفتے بھر کی ہنگامی سفارتی اور کرکٹ سطح کی بات چیت کے بعد ممکن ہوا۔</p>
<p>اس پیش رفت سے قبل ہفتے کے اختتام پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے سربراہان لاہور پہنچے، جہاں انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے حکام کے ساتھ مذاکرات کیے۔ پیر کے روز بنگلہ دیش اور سری لنکا کی حکومتوں نے بھی اسلام آباد کو باضابطہ خطوط لکھ کر میچ کھیلنے کی اجازت دینے کی اپیل کی، جس پر آخرکار مثبت جواب دیا گیا۔</p>
<p>پاکستانی حکومت نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ کثیرالجہتی مشاورت اور دوست ممالک کی درخواست پر حکومت پاکستان قومی ٹیم کو 15 فروری کو میدان میں اترنے کی ہدایت کرتی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ فیصلہ کرکٹ کی روح کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔</p>
<p>بھارت کے سابق کرکٹر مدن لال نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان نے بار بار میچ نہ کھیلنے کے اعلان سے آئی سی سی کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ان کے بقول آخرکار آئی سی سی کو مسئلہ حل کرنے کے لیے پاکستان آنا پڑا، جو مجموعی طور پر کرکٹ کے لیے اچھا ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط ٹیموں کا کھیلنا ضروری ہے تاکہ ورلڈ کپ کی کشش برقرار رہے۔</p>
<p>میچ کا میزبان سری لنکا، جہاں یہ مقابلہ اشتہارات، نشریاتی حقوق، اسپانسرشپ اور سیاحت کی مد میں کروڑوں ڈالر کی آمدن پیدا کرتا ہے، نے بھی فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ سری لنکن صدر انورا کمارا دِسانائیکے نے وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ’ہم سب کے پسندیدہ کھیل کا یہ بڑا مقابلہ طے شدہ منصوبے کے مطابق ہو گا۔</p>
<p>بھارتی سینئر صحافی پردیپ میگزین نے کہا کہ تمام فریقوں میں آخرکار عقل مندی غالب آ گئی۔ ان کے مطابق مالی پہلوؤں کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں تھا، کیونکہ بھارت اور پاکستان کا میچ صرف کرکٹ کی آمدن تک محدود نہیں بلکہ اس سے جڑی وسیع تر تجارتی سرگرمیاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب کو احساس ہو گیا تھا کہ اس میچ کی منسوخی تمام آئی سی سی رکن ممالک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی۔</p>
<p>واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت گزشتہ ایک دہائی سے دوطرفہ کرکٹ نہیں کھیل رہے اور دونوں ٹیمیں صرف عالمی یا علاقائی ایونٹس میں، وہ بھی غیر جانبدار مقامات پر، ایک دوسرے کے مدمقابل آتی ہیں۔ اس 20 ٹیموں کے ٹورنامنٹ سے قبل سیاسی کشیدگی کے باعث فضا کشیدہ رہی، حتیٰ کہ سیکیورٹی خدشات پر بنگلہ دیش نے بھارت میں کھیلنے سے انکار کیا اور اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا۔</p>
<p>پاکستان اگر بھارت کے خلاف میچ سے دستبردار ہوتا تو اسے دو پوائنٹس گنوانا پڑتے، جس سے اگلے مرحلے تک رسائی کے امکانات متاثر ہو سکتے تھے۔ پاکستان نے ہفتے کے روز اپنے افتتاحی میچ میں نیدرلینڈز کو شکست دی تھی، جبکہ منگل کو کولمبو میں اس کا دوسرا گروپ میچ امریکا کے خلاف شیڈول ہے۔</p>
<p>ادھر بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ ان کی ٹیم میچ ہو یا نہ ہو، کولمبو ضرور جائے گی، کیونکہ پروازیں بک ہو چکی ہیں اور بھارت نے کھیلنے سے انکار نہیں کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282662</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Feb 2026 15:53:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/10154749f60f3c6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/10154749f60f3c6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
