<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیتن یاہو کا دورہ امریکا، ایران نے سفارت کاری پر تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282661/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے منگل کے روز سفارتی عمل پر تباہ کن اثرات سے خبردار کیا ہے، یہ انتباہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے واشنگٹن کے متوقع دورے سے قبل سامنے آیا ہے، جہاں امریکا اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات زیرِ بحث آنے کی توقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ ایران کا مذاکراتی فریق امریکا ہے اور یہ امریکا پر منحصر ہے کہ وہ خطے کے لیے نقصان دہ دباؤ اور تخریبی اثرات سے آزاد ہو کر فیصلے کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ صہیونی حکومت بارہا ایک تخریب کار کے طور پر یہ ثابت کر چکی ہے کہ وہ خطے میں امن کی جانب لے جانے والے کسی بھی سفارتی عمل کی مخالف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران اور واشنگٹن کے درمیان عمان کے دارالحکومت مسقط میں جمعے کے روز دوبارہ مذاکرات شروع ہوئے، جو گزشتہ سال جون میں ایران پر اسرائیل کی غیر معمولی بمباری کے بعد تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ اس بمباری کے نتیجے میں 12 روزہ جنگ چھڑ گئی تھی، جس کے دوران اسرائیل نے ایرانی فوجی قیادت، جوہری سائنس دانوں، جوہری تنصیبات اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں امریکا بھی اس کارروائی میں شامل ہوا اور ایران کی اہم جوہری تنصیبات پر حملے کیے۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل حملے کیے اور قطر میں واقع امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسماعیل بقائی نے کہا کہ جون کے واقعات ایک نہایت تلخ تجربہ تھے اور انہی تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران سفارت کاری کے ذریعے اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی توجہ صرف جوہری معاملے تک محدود رہے گی اور اس کے بدلے پابندیوں میں نرمی چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اس سے قبل بھی یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ جوہری مسئلے سے ہٹ کر کسی اور موضوع پر مذاکرات کو مسترد کرتا ہے۔ دوسری جانب نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کی حمایت پر پابندیاں شامل ہونی چاہئیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے منگل کے روز سفارتی عمل پر تباہ کن اثرات سے خبردار کیا ہے، یہ انتباہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے واشنگٹن کے متوقع دورے سے قبل سامنے آیا ہے، جہاں امریکا اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات زیرِ بحث آنے کی توقع ہے۔</strong></p>
<p>ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ ایران کا مذاکراتی فریق امریکا ہے اور یہ امریکا پر منحصر ہے کہ وہ خطے کے لیے نقصان دہ دباؤ اور تخریبی اثرات سے آزاد ہو کر فیصلے کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ صہیونی حکومت بارہا ایک تخریب کار کے طور پر یہ ثابت کر چکی ہے کہ وہ خطے میں امن کی جانب لے جانے والے کسی بھی سفارتی عمل کی مخالف ہے۔</p>
<p>تہران اور واشنگٹن کے درمیان عمان کے دارالحکومت مسقط میں جمعے کے روز دوبارہ مذاکرات شروع ہوئے، جو گزشتہ سال جون میں ایران پر اسرائیل کی غیر معمولی بمباری کے بعد تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ اس بمباری کے نتیجے میں 12 روزہ جنگ چھڑ گئی تھی، جس کے دوران اسرائیل نے ایرانی فوجی قیادت، جوہری سائنس دانوں، جوہری تنصیبات اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔</p>
<p>بعد ازاں امریکا بھی اس کارروائی میں شامل ہوا اور ایران کی اہم جوہری تنصیبات پر حملے کیے۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل حملے کیے اور قطر میں واقع امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔</p>
<p>اسماعیل بقائی نے کہا کہ جون کے واقعات ایک نہایت تلخ تجربہ تھے اور انہی تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران سفارت کاری کے ذریعے اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی توجہ صرف جوہری معاملے تک محدود رہے گی اور اس کے بدلے پابندیوں میں نرمی چاہتا ہے۔</p>
<p>ایران اس سے قبل بھی یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ جوہری مسئلے سے ہٹ کر کسی اور موضوع پر مذاکرات کو مسترد کرتا ہے۔ دوسری جانب نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کی حمایت پر پابندیاں شامل ہونی چاہئیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282661</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Feb 2026 15:38:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/101535561ccd2dc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/101535561ccd2dc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
