<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 07:44:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 07:44:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی فوج نے بحر ہند میں آئل ٹینکر تحویل میں لے لیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282659/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پینٹاگون نے پیر کو کہا کہ امریکی افواج نے بحر ہند میں ایک آئل ٹینکر پر سوار ہو کر اسے قبضے میں لے لیا جس نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے کیریبین میں بحری جہازوں کی پابندی کی خلاف ورزی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینٹاگون کا کہنا ہے کہ یہ جہاز وینزویلا سے منسلک پابندیوں کے تحت ممنوعہ تیل بردار بحری جہازوں کی فہرست میں شامل تھا اور صدر ٹرمپ کی جانب سے قائم کردہ  بلاکڈ کو توڑتے ہوئے کیریبین سے نکل گیا تھا۔ امریکی افواج نے اس کا تعاقب کیا اور بالآخر بحر ہند میں اسے روک لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جہاز کیریبین سے فرار ہوا تو اسے مسلسل نگرانی میں رکھا گیا اور طویل تعاقب کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔ سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں امریکی فوجیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے جہاز پر اترتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جہاز دسمبر میں صدر ٹرمپ کے حکم کے بعد سے امریکہ کی جانب سے تحویل میں لیے جانے والا آٹھواں تیل بردار جہاز ہے۔ اس سے قبل بھی ایک روس سے منسلک جہاز کو شمالی بحر اوقیانوس میں پکڑا گیا تھا جو وینزویلا کے قریب سے فرار ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن نے حالیہ مہینوں میں کیریبین میں بحری موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جہاں منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق دنیا بھر میں ایسے سینکڑوں پابندیوں زدہ جہاز سرگرم ہیں، جن میں سے صرف چند کو ہی اب تک قبضے میں لیا جا سکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پینٹاگون نے پیر کو کہا کہ امریکی افواج نے بحر ہند میں ایک آئل ٹینکر پر سوار ہو کر اسے قبضے میں لے لیا جس نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے کیریبین میں بحری جہازوں کی پابندی کی خلاف ورزی تھی۔</strong></p>
<p>پینٹاگون کا کہنا ہے کہ یہ جہاز وینزویلا سے منسلک پابندیوں کے تحت ممنوعہ تیل بردار بحری جہازوں کی فہرست میں شامل تھا اور صدر ٹرمپ کی جانب سے قائم کردہ  بلاکڈ کو توڑتے ہوئے کیریبین سے نکل گیا تھا۔ امریکی افواج نے اس کا تعاقب کیا اور بالآخر بحر ہند میں اسے روک لیا۔</p>
<p>وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جہاز کیریبین سے فرار ہوا تو اسے مسلسل نگرانی میں رکھا گیا اور طویل تعاقب کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔ سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں امریکی فوجیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے جہاز پر اترتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>یہ جہاز دسمبر میں صدر ٹرمپ کے حکم کے بعد سے امریکہ کی جانب سے تحویل میں لیے جانے والا آٹھواں تیل بردار جہاز ہے۔ اس سے قبل بھی ایک روس سے منسلک جہاز کو شمالی بحر اوقیانوس میں پکڑا گیا تھا جو وینزویلا کے قریب سے فرار ہوا تھا۔</p>
<p>واشنگٹن نے حالیہ مہینوں میں کیریبین میں بحری موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جہاں منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق دنیا بھر میں ایسے سینکڑوں پابندیوں زدہ جہاز سرگرم ہیں، جن میں سے صرف چند کو ہی اب تک قبضے میں لیا جا سکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282659</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Feb 2026 14:12:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/10140927940bca7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/10140927940bca7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
