<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رواں مالی سال جولائی تا جنوری، ترسیلات زر میں11 فیصد اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282644/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنوری 2026 کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کی مجموعی آمد 3.46 ارب ڈالر رہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال کے اسی مہینے میں ریکارڈ کیے گئے 3.0 ارب ڈالر کے مقابلے میں ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 15.4 فیصد اضافہ ہوا، تاہم ماہانہ بنیاد پر ترسیلاتِ زر میں 4 فیصد کی کمی دیکھی گئی جو کہ دسمبر میں 3.59 ارب ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران ترسیلاتِ زر کی آمد 23.2 ارب ڈالر رہی جو کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے 20.9 ارب ڈالر کے مقابلے میں 11.3 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/StateBank_Pak/status/2021109826756149559?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/2021109826756149559?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ترسیلاتِ زر میں اضافے کا تسلسل برقرار ہے جس کی بنیادی وجوہات گزشتہ برسوں میں افرادی قوت کی برآمدات میں اضافہ، بینکنگ چینلز اور اوپن مارکیٹ کے ریٹس میں فرق کا کم ہونا اور حکومت کے ترسیلاتِ زر کے لیے مراعاتی پیکج کا جاری رہنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مالی سال 2026 کے لیے ترسیلاتِ زر کا ہدف 41 ارب ڈالر ہے جو کہ مالی سال 2025 کی 38 ارب ڈالر کے مقابلے میں 7.5 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترسیلات زر ملک کے بیرونی اکاؤنٹ کی معاونت، پاکستان کی اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ترسیلات پر انحصار کرنے والے گھرانوں کی دستیاب آمدنی میں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا حکومت ترسیلاتِ زر میں مستقل اضافے کو برقرار رکھنے اور معاشی استحکام میں ان کے کردار کو یقینی بنانے کے لیے مراعات اور قانونی ذرائع (فارمل چینلز) کے استعمال کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ 2009 سے پاکستان ریمیٹنس انیشیٹو’ (پی آر آئی) قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ مالیاتی اداروں کے ساتھ فعال روابط کے نتیجے میں پی آر آئی نیٹ ورک سے منسلک اداروں کی تعداد 2009 میں تقریباً 25 سے بڑھ کر 2024 میں 50 سے زائد ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مالیاتی اداروں میں روایتی بینک، اسلامی بینک، مائیکرو فنانس بینک اور ایکسچینج کمپنیاں (ای سیز) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز (ای ایم آئیز) کو بھی بینکوں کے ذریعے ترسیلاتِ زر وصول کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ بین الاقوامی اداروں کی تعداد بھی 2009 میں تقریباً 45 سے بڑھ کر اب تقریباً 400 تک پہنچ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ترسیلاتِ زر کی تفصیلات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے جنوری 2026 میں سب سے زیادہ رقم بھیجی جو کہ 740 ملین ڈالر رہی۔ یہ رقم سالانہ بنیادوں پر 2 فیصد زیادہ ہے لیکن دسمبر میں تارکینِ وطن کی جانب سے بھیجے گئے 813 ملین ڈالر کے مقابلے میں اس میں 9 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے آنے والی ترسیلاتِ زر سالانہ بنیادوں پر 12 فیصد اضافے کے ساتھ جنوری 2026 میں 694 ملین ڈالر رہیں جو کہ گزشتہ برس اسی مہینے میں 622 ملین ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ سے بھیجی گئی ترسیلاتِ زر جنوری 2026 کے دوران 572 ملین ڈالر رہیں جو کہ دسمبر 2025 کے 560 ملین ڈالر کے مقابلے میں 2 فیصد زیادہ ہیں۔ برطانیہ سے ہونے والی آمدن میں سالانہ بنیادوں پر 29 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے جنوری 2026 میں 295 ملین ڈالر بھیجے جو کہ سالانہ بنیادوں پر 1 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 2 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر یورپی یونین کے ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر جنوری میں 480 ملین ڈالر رہیں جو کہ سالانہ بنیادوں پر 36 فیصد کا نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جنوری 2026 کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کی مجموعی آمد 3.46 ارب ڈالر رہی۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال کے اسی مہینے میں ریکارڈ کیے گئے 3.0 ارب ڈالر کے مقابلے میں ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 15.4 فیصد اضافہ ہوا، تاہم ماہانہ بنیاد پر ترسیلاتِ زر میں 4 فیصد کی کمی دیکھی گئی جو کہ دسمبر میں 3.59 ارب ڈالر تھیں۔</p>
<p>رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران ترسیلاتِ زر کی آمد 23.2 ارب ڈالر رہی جو کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے 20.9 ارب ڈالر کے مقابلے میں 11.3 فیصد زیادہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/StateBank_Pak/status/2021109826756149559?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/2021109826756149559?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ترسیلاتِ زر میں اضافے کا تسلسل برقرار ہے جس کی بنیادی وجوہات گزشتہ برسوں میں افرادی قوت کی برآمدات میں اضافہ، بینکنگ چینلز اور اوپن مارکیٹ کے ریٹس میں فرق کا کم ہونا اور حکومت کے ترسیلاتِ زر کے لیے مراعاتی پیکج کا جاری رہنا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مالی سال 2026 کے لیے ترسیلاتِ زر کا ہدف 41 ارب ڈالر ہے جو کہ مالی سال 2025 کی 38 ارب ڈالر کے مقابلے میں 7.5 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>ترسیلات زر ملک کے بیرونی اکاؤنٹ کی معاونت، پاکستان کی اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ترسیلات پر انحصار کرنے والے گھرانوں کی دستیاب آمدنی میں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔</p>
<p>دریں اثنا حکومت ترسیلاتِ زر میں مستقل اضافے کو برقرار رکھنے اور معاشی استحکام میں ان کے کردار کو یقینی بنانے کے لیے مراعات اور قانونی ذرائع (فارمل چینلز) کے استعمال کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔</p>
<p>گزشتہ سال اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ 2009 سے پاکستان ریمیٹنس انیشیٹو’ (پی آر آئی) قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ مالیاتی اداروں کے ساتھ فعال روابط کے نتیجے میں پی آر آئی نیٹ ورک سے منسلک اداروں کی تعداد 2009 میں تقریباً 25 سے بڑھ کر 2024 میں 50 سے زائد ہوچکی ہے۔</p>
<p>ان مالیاتی اداروں میں روایتی بینک، اسلامی بینک، مائیکرو فنانس بینک اور ایکسچینج کمپنیاں (ای سیز) شامل ہیں۔</p>
<p>مزید برآں الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز (ای ایم آئیز) کو بھی بینکوں کے ذریعے ترسیلاتِ زر وصول کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ بین الاقوامی اداروں کی تعداد بھی 2009 میں تقریباً 45 سے بڑھ کر اب تقریباً 400 تک پہنچ چکی ہے۔</p>
<p><strong>ترسیلاتِ زر کی تفصیلات</strong></p>
<p>سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے جنوری 2026 میں سب سے زیادہ رقم بھیجی جو کہ 740 ملین ڈالر رہی۔ یہ رقم سالانہ بنیادوں پر 2 فیصد زیادہ ہے لیکن دسمبر میں تارکینِ وطن کی جانب سے بھیجے گئے 813 ملین ڈالر کے مقابلے میں اس میں 9 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے آنے والی ترسیلاتِ زر سالانہ بنیادوں پر 12 فیصد اضافے کے ساتھ جنوری 2026 میں 694 ملین ڈالر رہیں جو کہ گزشتہ برس اسی مہینے میں 622 ملین ڈالر تھیں۔</p>
<p>برطانیہ سے بھیجی گئی ترسیلاتِ زر جنوری 2026 کے دوران 572 ملین ڈالر رہیں جو کہ دسمبر 2025 کے 560 ملین ڈالر کے مقابلے میں 2 فیصد زیادہ ہیں۔ برطانیہ سے ہونے والی آمدن میں سالانہ بنیادوں پر 29 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔</p>
<p>امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے جنوری 2026 میں 295 ملین ڈالر بھیجے جو کہ سالانہ بنیادوں پر 1 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 2 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>ادھر یورپی یونین کے ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر جنوری میں 480 ملین ڈالر رہیں جو کہ سالانہ بنیادوں پر 36 فیصد کا نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282644</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Feb 2026 08:39:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/11083940553ed2a.webp" type="image/webp" medium="image" height="737" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/11083940553ed2a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
