<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جے ٹی سی اجلاس سے قبل پاکستان اور کمبوڈیا کا تجارتی اہداف کے حصول پر اتفاق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282643/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان آئندہ ہونے والے جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی (جے ٹی سی) کے اجلاس سے قبل اسلام آباد اور کمبوڈیا نے منگل کو تجارت اور سرمایہ کاری کے ٹھوس نتائج کے حصول کے عزم کا اظہار کیا۔ یہ پیشرفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور ان کی کمبوڈین ہم منصب چام نِمول  کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یہ ملاقات اسلام آباد میں 10 سے 11 فروری 2026 کو ہونے والے جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی  کے دوسرے سیشن سے قبل ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمبوڈین وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے جام کمال نے دوطرفہ اقتصادی روابط میں مثبت پیش رفت کو سراہا اور یاد دلایا کہ جے ٹی سی کا افتتاحی سیشن 21 جنوری 2025 کو نوم پنہ میں منعقد ہوا تھا۔ دونوں فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور وسیع تر اقتصادی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے جے ٹی سی ہی مرکزی اور بنیادی فورم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں وزراء نے ترجیحی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے مواقع کا جائزہ لیا جن میں فارماسیوٹیکل اور صحت کی دیکھ بھال کی مصنوعات، ٹیکسٹائل اور ویلیو ایڈڈ ملبوسات، زراعت اور زرعی پروسیسنگ اور چمڑے کی صنعت و لائٹ مینوفیکچرنگ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے چیمبرز آف کامرس اور متعلقہ شعبوں کی ایسوسی ایشنز کے ذریعے کاروباری اداروں کے درمیان روابط  کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا تاکہ پالیسی سطح پر ہونے والی بات چیت کو ٹھوس تجارتی نتائج میں بدلا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے تجارتی سہولتوں کو بڑھانے اور لاجسٹک روابط کو بہتر بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا تاکہ اخراجات میں کمی اور سپلائی چین کی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برآمد کنندگان کی مدد کے لیے مؤثر شپنگ سہولیات اور علاقائی روابط نہایت اہم ہیں، خاص طور پر اُن شعبوں میں جہاں وقت کی پابندی اور بڑی مقدار میں ترسیل اہم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے اختتام پر دونوں وزراء نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آئندہ جے ٹی سی  کے مذاکرات ترجیحی شعبوں اور عملی طور پر قابلِ عمل اہداف کی نشاندہی میں مددگار ثابت ہوں گے جس سے مسلسل تعاون کے ذریعے پاکستان اور کمبوڈیا کے معاشی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان آئندہ ہونے والے جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی (جے ٹی سی) کے اجلاس سے قبل اسلام آباد اور کمبوڈیا نے منگل کو تجارت اور سرمایہ کاری کے ٹھوس نتائج کے حصول کے عزم کا اظہار کیا۔ یہ پیشرفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور ان کی کمبوڈین ہم منصب چام نِمول  کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔</strong></p>
<p>منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یہ ملاقات اسلام آباد میں 10 سے 11 فروری 2026 کو ہونے والے جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی  کے دوسرے سیشن سے قبل ہوئی ہے۔</p>
<p>کمبوڈین وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے جام کمال نے دوطرفہ اقتصادی روابط میں مثبت پیش رفت کو سراہا اور یاد دلایا کہ جے ٹی سی کا افتتاحی سیشن 21 جنوری 2025 کو نوم پنہ میں منعقد ہوا تھا۔ دونوں فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور وسیع تر اقتصادی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے جے ٹی سی ہی مرکزی اور بنیادی فورم ہے۔</p>
<p>دونوں وزراء نے ترجیحی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے مواقع کا جائزہ لیا جن میں فارماسیوٹیکل اور صحت کی دیکھ بھال کی مصنوعات، ٹیکسٹائل اور ویلیو ایڈڈ ملبوسات، زراعت اور زرعی پروسیسنگ اور چمڑے کی صنعت و لائٹ مینوفیکچرنگ شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے چیمبرز آف کامرس اور متعلقہ شعبوں کی ایسوسی ایشنز کے ذریعے کاروباری اداروں کے درمیان روابط  کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا تاکہ پالیسی سطح پر ہونے والی بات چیت کو ٹھوس تجارتی نتائج میں بدلا جا سکے۔</p>
<p>دونوں فریقین نے تجارتی سہولتوں کو بڑھانے اور لاجسٹک روابط کو بہتر بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا تاکہ اخراجات میں کمی اور سپلائی چین کی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برآمد کنندگان کی مدد کے لیے مؤثر شپنگ سہولیات اور علاقائی روابط نہایت اہم ہیں، خاص طور پر اُن شعبوں میں جہاں وقت کی پابندی اور بڑی مقدار میں ترسیل اہم ہوتی ہے۔</p>
<p>ملاقات کے اختتام پر دونوں وزراء نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آئندہ جے ٹی سی  کے مذاکرات ترجیحی شعبوں اور عملی طور پر قابلِ عمل اہداف کی نشاندہی میں مددگار ثابت ہوں گے جس سے مسلسل تعاون کے ذریعے پاکستان اور کمبوڈیا کے معاشی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282643</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Feb 2026 11:28:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/101113245e6d0a3.webp" type="image/webp" medium="image" height="851" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/101113245e6d0a3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
