<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:09:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:09:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنے ہوئے کاٹن فیبرک کو ای ایف ایس کے دائرہ کار سے خارج کیا جائے، اپٹما</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282635/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن(اپٹما) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کسٹمز ٹیرف کے چیپٹر 52 کے تحت آنے والے بنے ہوئے کاٹن فیبرک کو ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کے دائرہ کار سے خارج کیا جائے تاکہ مقامی صنعت کے لیے یکساں مسابقتی ماحول یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے چیئرمین کو لکھے گئے خط میں اپٹما نے 5 اگست 2025 کے ایس آر او 1435(I)/2025 کا حوالہ دیا، جس کے تحت روئی، کاٹن یارن اور گرے کلاتھ کو ای ایف ایس سے خارج کیا گیا تھا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق گرے کلاتھ کی اس اخراج کے بعد بعض غیر ذمہ دار درآمد کنندگان نے نیم تیار یا جزوی طور پر تیار شدہ گرے کاٹن فیبرک درآمد کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ ان اشیا کو اسکیم سے خارج کرنے کے اصل مقصد کو ناکام بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد نے کہا کہ اس طریقہ کار کے باعث مقامی اپ اسٹریم صنعت کو شدید نقصان کا سامنا ہے، کیونکہ ای ایف ایس کے تحت درآمد کی جانے والی یہ اشیا زیرو ریٹڈ رہتی ہیں جبکہ مقامی طور پر تیار کی جانے والی بالکل یکساں مصنوعات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس فرق نے مقامی صنعت کو واضح طور پر غیر مساوی حالات سے دوچار کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے بتایا کہ ای ایف ایس کے تحت دی جانے والی چھوٹ کے غلط استعمال اور غلط بیانی کے ذریعے درآمدات کا معاملہ اس سے قبل بھی 11 دسمبر 2025 کے اپنے خط میں ایف بی آر کے سامنے اٹھایا گیا تھا۔ اس خط میں واضح کیا گیا تھا کہ گرے کاٹن فیبرک اب بھی مختلف متبادل ناموں، جن میں “ڈائنگ کے لیے تیار شدہ” جیسی اصطلاحات شامل ہیں، کے تحت درآمد کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے افسوس کا اظہار کیا کہ مسئلے کی نشاندہی کے باوجود گرے فیبرک کی غلط بیانی کے ذریعے درآمدات کا سلسلہ تاحال بلا روک ٹوک جاری ہے۔ اپٹما نے اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے تجویز دی ہے کہ پاکستان کسٹمز ٹیرف کے چیپٹر 52 کے تحت آنے والے تمام اقسام کے بنے ہوئے کاٹن فیبرک کو ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم سے مکمل طور پر خارج کر دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے زور دیا کہ مقامی ٹیکسٹائل صنعت کو کاٹن فیبرک کی بڑے پیمانے پر درآمدات کے دباؤ سے بچانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن(اپٹما) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کسٹمز ٹیرف کے چیپٹر 52 کے تحت آنے والے بنے ہوئے کاٹن فیبرک کو ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کے دائرہ کار سے خارج کیا جائے تاکہ مقامی صنعت کے لیے یکساں مسابقتی ماحول یقینی بنایا جا سکے۔</strong></p>
<p>ایف بی آر کے چیئرمین کو لکھے گئے خط میں اپٹما نے 5 اگست 2025 کے ایس آر او 1435(I)/2025 کا حوالہ دیا، جس کے تحت روئی، کاٹن یارن اور گرے کلاتھ کو ای ایف ایس سے خارج کیا گیا تھا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق گرے کلاتھ کی اس اخراج کے بعد بعض غیر ذمہ دار درآمد کنندگان نے نیم تیار یا جزوی طور پر تیار شدہ گرے کاٹن فیبرک درآمد کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ ان اشیا کو اسکیم سے خارج کرنے کے اصل مقصد کو ناکام بنایا جا سکے۔</p>
<p>خط میں اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد نے کہا کہ اس طریقہ کار کے باعث مقامی اپ اسٹریم صنعت کو شدید نقصان کا سامنا ہے، کیونکہ ای ایف ایس کے تحت درآمد کی جانے والی یہ اشیا زیرو ریٹڈ رہتی ہیں جبکہ مقامی طور پر تیار کی جانے والی بالکل یکساں مصنوعات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس فرق نے مقامی صنعت کو واضح طور پر غیر مساوی حالات سے دوچار کر دیا ہے۔</p>
<p>اپٹما نے بتایا کہ ای ایف ایس کے تحت دی جانے والی چھوٹ کے غلط استعمال اور غلط بیانی کے ذریعے درآمدات کا معاملہ اس سے قبل بھی 11 دسمبر 2025 کے اپنے خط میں ایف بی آر کے سامنے اٹھایا گیا تھا۔ اس خط میں واضح کیا گیا تھا کہ گرے کاٹن فیبرک اب بھی مختلف متبادل ناموں، جن میں “ڈائنگ کے لیے تیار شدہ” جیسی اصطلاحات شامل ہیں، کے تحت درآمد کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے افسوس کا اظہار کیا کہ مسئلے کی نشاندہی کے باوجود گرے فیبرک کی غلط بیانی کے ذریعے درآمدات کا سلسلہ تاحال بلا روک ٹوک جاری ہے۔ اپٹما نے اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے تجویز دی ہے کہ پاکستان کسٹمز ٹیرف کے چیپٹر 52 کے تحت آنے والے تمام اقسام کے بنے ہوئے کاٹن فیبرک کو ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم سے مکمل طور پر خارج کر دیا جائے۔</p>
<p>اپٹما نے زور دیا کہ مقامی ٹیکسٹائل صنعت کو کاٹن فیبرک کی بڑے پیمانے پر درآمدات کے دباؤ سے بچانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282635</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Feb 2026 09:59:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/100956233a2d504.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/100956233a2d504.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
