<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 04:16:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 04:16:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر خزانہ کا سعودی عرب اور آئی ایم ایف کے زیر اہتمام اجلاس سے خطاب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282633/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے سعودی عرب کی حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اشتراک سے منعقدہ العلا کانفرنس 2026 کے موقع پر خودمختار قرضوں کے خطرات سے نمٹنے کے موضوع پر اعلیٰ سطح گول میز اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر سرکاری قرضے تاریخی بلند سطح پر ہیں، جس کے باعث ابھرتی اور ترقی پذیر معیشتوں کو بلند قرض ادائیگی لاگت، سخت مالی حالات اور محدود مالی گنجائش جیسے دباؤ کا سامنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ اصل پالیسی چیلنج صرف قرض کے حجم کو سنبھالنا نہیں بلکہ اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ وقتی لیکویڈیٹی دباؤ دیوالیہ پن کے بحران میں تبدیل نہ ہو، جبکہ ترقی کو فروغ دینے والے اور سماجی اخراجات کا تحفظ بھی برقرار رہے۔ انہوں نے سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام ترقی کا دشمن نہیں بلکہ پائیدار معاشی نمو کی بنیاد ہے، اور پاکستان کا حالیہ تجربہ اس نقطہ نظر کی تائید کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان نے نظم و ضبط پر مبنی میکرو اکنامک پالیسیوں، ادارہ جاتی اصلاحات اور فعال قرض مینجمنٹ کے ذریعے معاشی استحکام کی بحالی کی جانب ابتدائی مگر بامعنی پیش رفت کی ہے، تاہم اصلاحات کا سفر ابھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عوامی قرضوں کو قابو میں رکھنے، ادائیگی کی مدت میں توسیع، قرضوں کی لاگت میں کمی اور بروقت ادائیگیوں کے ذریعے قرض مینجمنٹ کو بہتر بنایا ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ تین برسوں میں قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب تقریباً 74 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد کے قریب آ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر اورنگزیب نے قرضوں کے پائیدار تجزیے کے باقاعدہ اور شفاف نظام کے نفاذ پر بھی روشنی ڈالی، جو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے طریقہ کار سے ہم آہنگ ہے اور ملکی و بیرونی قرضوں کے ساتھ حکومتی ضمانتوں کا بھی احاطہ کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس عمل سے خطرات کی بہتر نشاندہی، قرض دہندگان کے ساتھ مؤثر رابطہ اور مارکیٹ اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ٹیکس اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو سنگل ڈیجٹ سطح سے بڑھا کر تقریباً 12 فیصد تک پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ گرین سکوک کے اجرا اور خودمختار پائیدار فنانسنگ فریم ورک کے قیام کے ذریعے قرض مینجمنٹ کو ماحولیاتی اور ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔ اختتام پر وفاقی وزیر نے زور دیا کہ خودمختار قرضوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات، مضبوط ادارے، شفافیت اور قابلِ اعتماد پالیسی فریم ورک ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے سعودی عرب کی حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اشتراک سے منعقدہ العلا کانفرنس 2026 کے موقع پر خودمختار قرضوں کے خطرات سے نمٹنے کے موضوع پر اعلیٰ سطح گول میز اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر سرکاری قرضے تاریخی بلند سطح پر ہیں، جس کے باعث ابھرتی اور ترقی پذیر معیشتوں کو بلند قرض ادائیگی لاگت، سخت مالی حالات اور محدود مالی گنجائش جیسے دباؤ کا سامنا ہے۔</strong></p>
<p>سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ اصل پالیسی چیلنج صرف قرض کے حجم کو سنبھالنا نہیں بلکہ اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ وقتی لیکویڈیٹی دباؤ دیوالیہ پن کے بحران میں تبدیل نہ ہو، جبکہ ترقی کو فروغ دینے والے اور سماجی اخراجات کا تحفظ بھی برقرار رہے۔ انہوں نے سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام ترقی کا دشمن نہیں بلکہ پائیدار معاشی نمو کی بنیاد ہے، اور پاکستان کا حالیہ تجربہ اس نقطہ نظر کی تائید کرتا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان نے نظم و ضبط پر مبنی میکرو اکنامک پالیسیوں، ادارہ جاتی اصلاحات اور فعال قرض مینجمنٹ کے ذریعے معاشی استحکام کی بحالی کی جانب ابتدائی مگر بامعنی پیش رفت کی ہے، تاہم اصلاحات کا سفر ابھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عوامی قرضوں کو قابو میں رکھنے، ادائیگی کی مدت میں توسیع، قرضوں کی لاگت میں کمی اور بروقت ادائیگیوں کے ذریعے قرض مینجمنٹ کو بہتر بنایا ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ تین برسوں میں قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب تقریباً 74 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد کے قریب آ گیا ہے۔</p>
<p>سینیٹر اورنگزیب نے قرضوں کے پائیدار تجزیے کے باقاعدہ اور شفاف نظام کے نفاذ پر بھی روشنی ڈالی، جو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے طریقہ کار سے ہم آہنگ ہے اور ملکی و بیرونی قرضوں کے ساتھ حکومتی ضمانتوں کا بھی احاطہ کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس عمل سے خطرات کی بہتر نشاندہی، قرض دہندگان کے ساتھ مؤثر رابطہ اور مارکیٹ اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ٹیکس اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو سنگل ڈیجٹ سطح سے بڑھا کر تقریباً 12 فیصد تک پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ گرین سکوک کے اجرا اور خودمختار پائیدار فنانسنگ فریم ورک کے قیام کے ذریعے قرض مینجمنٹ کو ماحولیاتی اور ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔ اختتام پر وفاقی وزیر نے زور دیا کہ خودمختار قرضوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات، مضبوط ادارے، شفافیت اور قابلِ اعتماد پالیسی فریم ورک ناگزیر ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282633</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Feb 2026 09:35:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/1009332698c0a80.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/1009332698c0a80.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
