<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معاشی بحالی کا اعتراف، موڈیز نے پاکستانی بینکنگ سیکٹر کا آؤٹ لک مستحکم کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282608/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملک کے بینکنگ سیکٹر کے لیے ایک اہم پیش رفت میں موڈیز نے پاکستان کے بینکنگ سیکٹر کے آؤٹ لک کو مثبت سے مستحکم میں تبدیل کردیا ہے۔ ایجنسی نے اس کی وجہ بتدریج معاشی بحالی اور مالیاتی و بیرونی پوزیشن میں بہتری کو قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ریٹنگ ایجنسی نے پیر کو کہا کہ ہم نے پاکستان کے بینکنگ سسٹم کے بارے میں اپنے آؤٹ لک کو مستحکم کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز نے نوٹ کیا کہ (بینکوں کے لیے) کاروباری ماحول میں بہتری کا عمل جاری ہے، لیکن یہ بہتری بتدریج ہورہی ہے۔ اس عمل کو ملک کے آہستہ آہستہ بہتر ہوتے ہوئے معاشی و مالیاتی منظرنامے اور مستحکم ہوتی بیرونی پوزیشن (ایکسٹرنل پوزیشن) سے مدد مل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم آئندہ 12 سے 18 ماہ کے دوران بینکوں کی مالی کارکردگی مستحکم رہے گی کیونکہ انہیں اثاثوں کی کوالٹی اور منافع بخشش کے حوالے سے مسلسل چیلنجز کا سامنا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی نے کہا کہ بینکنگ سیکٹر کا آؤٹ لک حکومتِ پاکستان کی درجہ بندی (سی اے اے ون مستحکم ) سے میل کھاتا ہے کیونکہ بینکوں کے پاس حکومتی سیکیورٹیز (قرضوں) کے بڑے ذخائر موجود ہیں جو بینکوں کے مجموعی اثاثوں کا تقریباً نصف (50 فیصد) بنتے ہیں۔ پاکستان کے طویل مدتی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت اب بھی غیر یقینی ہے جس کی وجہ ملک کی تاحال کمزور مالیاتی پوزیشن، بلند لیکویڈٹی کی ضرورت اور بیرونی خطرات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز نے 2026 کے لیے پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی کی شرحِ نمو تقریباً 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے جو کہ 2025 میں 3.1 فیصد تھی، اس نمو کو جاری اصلاحات سے مدد مل رہی ہے جو (سرمایہ کاروں کے) اعتماد کو بہتر بنا رہی ہیں اور بتدریج معاشی سرگرمیوں کو تقویت دے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیڈلائن مہنگائی کی شرح جو 2024 کے دوران 23 فیصد تھی، 2025 میں گر کر 4.5 فیصد پر آگئی۔ موڈیز کی توقع ہے کہ 2026 میں مہنگائی دوبارہ بڑھ کر تقریباً 7.5 فیصد تک پہنچ جائے گی، جس کی ایک وجہ بیس ایفیکٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی نے نوٹ کیا کہ بہتر ہوتے ہوئے معاشی منظرنامے اور کم ہوتی مہنگائی نے مانیٹری پالیسی میں نرمی لانے میں مدد دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرض لینے کی لاگت میں کمی (شرحِ سود میں کمی) سے کریڈٹ کی طلب میں اضافہ ہوگا اور پرابلم لون کا تناسب بھی مجموعی طور پر مستحکم رہے گا۔ اس کے ساتھ ہی شرحِ سود میں کٹوتی کے بعد منافع کے مارجن میں جو کمی آئی تھی، وہ اب مستحکم رہے گی لیکن کاروباری حجم میں اضافہ، غیر سودی آمدنی اور مستحکم اخراجات سے بینکوں کے منافع کو سہارا ملے گا اور ان کے کیپٹل بفرز (مالیاتی تحفظ) محفوظ رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز نے نوٹ کیا ہے کہ حالیہ سیلاب سے زرعی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے تاہم صنعتی اور خدمات (سروسز) کے شعبوں میں سرگرمیاں مستحکم رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی نے مزید بتایا کہ 2025 کے آغاز میں پورے بینکنگ سیکٹر میں ’نان پرفارمنگ لون کے تناسب میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ اس کی وجہ ایڈوانسز ٹو ڈپازٹ ریشو ٹیکس کا خاتمہ تھا جس کے نتیجے میں بینکوں نے اپنے قرضوں کے حجم (لون بکس) میں کمی کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ستمبر 2025 تک بینکوں کے کل اثاثوں میں قرضوں کا حصہ صرف 23 فیصد تھا لیکن ہم توقع کرتے ہیں کہ بہتر ہوتے معاشی حالات کی بدولت 2026 میں قرضوں کی فراہمی میں دو ہندسوں میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود قرض داروں کی جانب سے ادائیگیوں میں کوتاہی (قرض نہ لوٹانا) کا سلسلہ جاری رہے گا، خاص طور پر زراعت اور توانائی جیسے کمزور شعبوں میں۔ تاہم قرض لینے کی لاگت میں کمی اور قرضوں کی بڑھتی طلب کی وجہ سے پرابلم لون کا تناسب مجموعی طور پر مستحکم رہے گا۔ موڈیز کے پیمانے کے مطابق (جسے گراس لونز کے مقابلے میں ’اسٹیج 3‘ لونز کہا جاتا ہے)، ہمارے ریٹ کردہ پاکستانی بینکوں کے لیے یہ شرح تقریباً 8 فیصد پر برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز نے بتایا کہ ستمبر 2025 تک بینکنگ سسٹم کے ٹیئر ون اور کل سرمائے کے رسک ویٹڈ اثاثوں کے تناسب بالترتیب 18 فیصد اور 22.1 فیصد رہے۔ ایک سال پہلے یہ شرح 17 فیصد اور 21.5 فیصد تھی جو کہ اب ریگولیٹری (اسٹیٹ بینک) کی مقرر کردہ کم از کم حد سے کافی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ شرحِ سود میں کمی کی وجہ سے 2026 میں قرضوں کی فراہمی میں اضافہ ہوگا لیکن پاکستانی بینک حکومتی سیکیورٹیز (سرکاری قرضوں) میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانا جاری رکھیں گے جن پر کوئی رسک ویٹنگ (مالیاتی خطرہ) لاگو نہیں ہوتا جس سے بینکوں کے سرمائے کے اشاریوں کو مزید تقویت ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہماری توقع ہے کہ بینک اپنے شیئر ہولڈرز کو منافع کی ادائیگی کی بلند شرح برقرار رکھیں گے جبکہ بینکوں کا بچا ہوا منافع شرحِ سود میں کٹوتی کے باعث مارجن میں معمولی کمی کے باوجودبیلنس شیٹ کی ترقی اور سرمائے کے تناسب کو برقرار رکھنے کے لیے کافی ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملک کے بینکنگ سیکٹر کے لیے ایک اہم پیش رفت میں موڈیز نے پاکستان کے بینکنگ سیکٹر کے آؤٹ لک کو مثبت سے مستحکم میں تبدیل کردیا ہے۔ ایجنسی نے اس کی وجہ بتدریج معاشی بحالی اور مالیاتی و بیرونی پوزیشن میں بہتری کو قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>عالمی ریٹنگ ایجنسی نے پیر کو کہا کہ ہم نے پاکستان کے بینکنگ سسٹم کے بارے میں اپنے آؤٹ لک کو مستحکم کردیا ہے۔</p>
<p>موڈیز نے نوٹ کیا کہ (بینکوں کے لیے) کاروباری ماحول میں بہتری کا عمل جاری ہے، لیکن یہ بہتری بتدریج ہورہی ہے۔ اس عمل کو ملک کے آہستہ آہستہ بہتر ہوتے ہوئے معاشی و مالیاتی منظرنامے اور مستحکم ہوتی بیرونی پوزیشن (ایکسٹرنل پوزیشن) سے مدد مل رہی ہے۔</p>
<p>تاہم آئندہ 12 سے 18 ماہ کے دوران بینکوں کی مالی کارکردگی مستحکم رہے گی کیونکہ انہیں اثاثوں کی کوالٹی اور منافع بخشش کے حوالے سے مسلسل چیلنجز کا سامنا رہے گا۔</p>
<p>ایجنسی نے کہا کہ بینکنگ سیکٹر کا آؤٹ لک حکومتِ پاکستان کی درجہ بندی (سی اے اے ون مستحکم ) سے میل کھاتا ہے کیونکہ بینکوں کے پاس حکومتی سیکیورٹیز (قرضوں) کے بڑے ذخائر موجود ہیں جو بینکوں کے مجموعی اثاثوں کا تقریباً نصف (50 فیصد) بنتے ہیں۔ پاکستان کے طویل مدتی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت اب بھی غیر یقینی ہے جس کی وجہ ملک کی تاحال کمزور مالیاتی پوزیشن، بلند لیکویڈٹی کی ضرورت اور بیرونی خطرات ہیں۔</p>
<p>موڈیز نے 2026 کے لیے پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی کی شرحِ نمو تقریباً 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے جو کہ 2025 میں 3.1 فیصد تھی، اس نمو کو جاری اصلاحات سے مدد مل رہی ہے جو (سرمایہ کاروں کے) اعتماد کو بہتر بنا رہی ہیں اور بتدریج معاشی سرگرمیوں کو تقویت دے رہی ہیں۔</p>
<p>ہیڈلائن مہنگائی کی شرح جو 2024 کے دوران 23 فیصد تھی، 2025 میں گر کر 4.5 فیصد پر آگئی۔ موڈیز کی توقع ہے کہ 2026 میں مہنگائی دوبارہ بڑھ کر تقریباً 7.5 فیصد تک پہنچ جائے گی، جس کی ایک وجہ بیس ایفیکٹ ہے۔</p>
<p>ایجنسی نے نوٹ کیا کہ بہتر ہوتے ہوئے معاشی منظرنامے اور کم ہوتی مہنگائی نے مانیٹری پالیسی میں نرمی لانے میں مدد دی ہے۔</p>
<p>قرض لینے کی لاگت میں کمی (شرحِ سود میں کمی) سے کریڈٹ کی طلب میں اضافہ ہوگا اور پرابلم لون کا تناسب بھی مجموعی طور پر مستحکم رہے گا۔ اس کے ساتھ ہی شرحِ سود میں کٹوتی کے بعد منافع کے مارجن میں جو کمی آئی تھی، وہ اب مستحکم رہے گی لیکن کاروباری حجم میں اضافہ، غیر سودی آمدنی اور مستحکم اخراجات سے بینکوں کے منافع کو سہارا ملے گا اور ان کے کیپٹل بفرز (مالیاتی تحفظ) محفوظ رہیں گے۔</p>
<p>موڈیز نے نوٹ کیا ہے کہ حالیہ سیلاب سے زرعی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے تاہم صنعتی اور خدمات (سروسز) کے شعبوں میں سرگرمیاں مستحکم رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>ایجنسی نے مزید بتایا کہ 2025 کے آغاز میں پورے بینکنگ سیکٹر میں ’نان پرفارمنگ لون کے تناسب میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ اس کی وجہ ایڈوانسز ٹو ڈپازٹ ریشو ٹیکس کا خاتمہ تھا جس کے نتیجے میں بینکوں نے اپنے قرضوں کے حجم (لون بکس) میں کمی کردی تھی۔</p>
<p>اگرچہ ستمبر 2025 تک بینکوں کے کل اثاثوں میں قرضوں کا حصہ صرف 23 فیصد تھا لیکن ہم توقع کرتے ہیں کہ بہتر ہوتے معاشی حالات کی بدولت 2026 میں قرضوں کی فراہمی میں دو ہندسوں میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>اس کے باوجود قرض داروں کی جانب سے ادائیگیوں میں کوتاہی (قرض نہ لوٹانا) کا سلسلہ جاری رہے گا، خاص طور پر زراعت اور توانائی جیسے کمزور شعبوں میں۔ تاہم قرض لینے کی لاگت میں کمی اور قرضوں کی بڑھتی طلب کی وجہ سے پرابلم لون کا تناسب مجموعی طور پر مستحکم رہے گا۔ موڈیز کے پیمانے کے مطابق (جسے گراس لونز کے مقابلے میں ’اسٹیج 3‘ لونز کہا جاتا ہے)، ہمارے ریٹ کردہ پاکستانی بینکوں کے لیے یہ شرح تقریباً 8 فیصد پر برقرار رہے گی۔</p>
<p>موڈیز نے بتایا کہ ستمبر 2025 تک بینکنگ سسٹم کے ٹیئر ون اور کل سرمائے کے رسک ویٹڈ اثاثوں کے تناسب بالترتیب 18 فیصد اور 22.1 فیصد رہے۔ ایک سال پہلے یہ شرح 17 فیصد اور 21.5 فیصد تھی جو کہ اب ریگولیٹری (اسٹیٹ بینک) کی مقرر کردہ کم از کم حد سے کافی زیادہ ہے۔</p>
<p>اگرچہ شرحِ سود میں کمی کی وجہ سے 2026 میں قرضوں کی فراہمی میں اضافہ ہوگا لیکن پاکستانی بینک حکومتی سیکیورٹیز (سرکاری قرضوں) میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانا جاری رکھیں گے جن پر کوئی رسک ویٹنگ (مالیاتی خطرہ) لاگو نہیں ہوتا جس سے بینکوں کے سرمائے کے اشاریوں کو مزید تقویت ملے گی۔</p>
<p>ہماری توقع ہے کہ بینک اپنے شیئر ہولڈرز کو منافع کی ادائیگی کی بلند شرح برقرار رکھیں گے جبکہ بینکوں کا بچا ہوا منافع شرحِ سود میں کٹوتی کے باعث مارجن میں معمولی کمی کے باوجودبیلنس شیٹ کی ترقی اور سرمائے کے تناسب کو برقرار رکھنے کے لیے کافی ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282608</guid>
      <pubDate>Mon, 09 Feb 2026 16:33:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/09124721ac73776.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/09124721ac73776.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
