<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کا بلند شرح سود کی پالیسی کا دفاع، عالمی معاشی اتار چڑھاؤ پر تشویش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282601/</link>
      <description>&lt;p&gt;گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ مہنگائی میں حالیہ کمی کے باوجود مرکزی بینک اپنی سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل عالمی غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ ملکی دباؤ کے پیشِ نظر پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو ابھرتی ہوئی معیشتوں کیلئے منعقدہ العلا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر جمیل احمد نے کہا کہ مرکزی بینک کے اقدامات فعال، بروقت اور انتہائی مؤثر ہونے چاہئیں تاکہ یہ اپنے حتمی مقصد کے حصول کو ممکن بنا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/6IUOPbRy2U0?feature=share'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'&gt;    &lt;div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto"&gt;
        &lt;iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/6IUOPbRy2U0?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        &gt;&lt;/iframe&gt;
    &lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک کی ذمہ داری کا سب سے مشکل حصہ پیشگی اقدامات کرنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کے سربراہ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح حالیہ مہینوں میں کم رہی ہے، یہاں تک کہ یہ مرکزی بینک کے مقررہ ہدف 5 سے 7 فیصد سے بھی نیچے آگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم شرحِ سود کو برقرار رکھے ہوئے ہیں جو کہ کافی بلند سطح پر ہے، اس وقت ریئر ایفیکٹو انٹرسٹ ریٹ بہت زیادہ ہے۔ چنانچہ یہ سوال پیدا ہوگا کہ ہم ترقی اور کاروبار کو سپورٹ کرنے کے بجائے بلند شرحِ سود کیوں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ لیکن بہت سے اسٹیک ہولڈرز یہ نہیں جانتے کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے، کیونکہ بہت سی ایسی متوقع عالمی اور مقامی تبدیلیاں ہیں جو مہنگائی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں اور بالآخر شرح سود جو اس وقت زیادہ لگ رہی ہے، ہوسکتا ہے مستقبل میں اتنی زیادہ نہ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر نے اعتراف کیا کہ مرکزی بینک کے لیے بعض اوقات اسٹیک ہولڈرز، خاص طور پر معاشی نمائندوں کو اس بات پر قائل کرنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ اس خیال کو تسلیم کر لیں کہ شرحِ سود کو صرف اس لیے بلند رکھا جا رہا ہے کہ ’کچھ (برا) ہونے والا ہے اور ہمیں اس صورتحال سے نمٹنا ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2026 کی اپنی پہلی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں بنیادی پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے برعکس تھا کیونکہ ماہرین اور سرمایہ کار کلیدی شرحِ سود میں کمی کی توقع کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران جمیل احمد نے اس بات پر زور دیا کہ نافذ کردہ پالیسیوں کی بدولت مرکزی بینک اپنا اعتبار بحال کرنے میں کامیاب رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پیشہ ور تجزیہ کاروں کو دیکھیں، وہ سب کہہ رہے ہیں کہ اس سال اور اگلے سال بھی مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہے گی۔ تو یہ وہ اعتبار ہے کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں، مارکیٹ اس پر یقین کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ مہنگائی میں حالیہ کمی کے باوجود مرکزی بینک اپنی سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل عالمی غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ ملکی دباؤ کے پیشِ نظر پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں۔</p>
<p>اتوار کو ابھرتی ہوئی معیشتوں کیلئے منعقدہ العلا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر جمیل احمد نے کہا کہ مرکزی بینک کے اقدامات فعال، بروقت اور انتہائی مؤثر ہونے چاہئیں تاکہ یہ اپنے حتمی مقصد کے حصول کو ممکن بنا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/6IUOPbRy2U0?feature=share'>
        <div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'>    <div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto">
        <iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/6IUOPbRy2U0?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        ></iframe>
    </div></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک کی ذمہ داری کا سب سے مشکل حصہ پیشگی اقدامات کرنا ہوتا ہے۔</p>
<p>مرکزی بینک کے سربراہ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح حالیہ مہینوں میں کم رہی ہے، یہاں تک کہ یہ مرکزی بینک کے مقررہ ہدف 5 سے 7 فیصد سے بھی نیچے آگئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم شرحِ سود کو برقرار رکھے ہوئے ہیں جو کہ کافی بلند سطح پر ہے، اس وقت ریئر ایفیکٹو انٹرسٹ ریٹ بہت زیادہ ہے۔ چنانچہ یہ سوال پیدا ہوگا کہ ہم ترقی اور کاروبار کو سپورٹ کرنے کے بجائے بلند شرحِ سود کیوں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ لیکن بہت سے اسٹیک ہولڈرز یہ نہیں جانتے کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے، کیونکہ بہت سی ایسی متوقع عالمی اور مقامی تبدیلیاں ہیں جو مہنگائی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں اور بالآخر شرح سود جو اس وقت زیادہ لگ رہی ہے، ہوسکتا ہے مستقبل میں اتنی زیادہ نہ رہے۔</p>
<p>گورنر نے اعتراف کیا کہ مرکزی بینک کے لیے بعض اوقات اسٹیک ہولڈرز، خاص طور پر معاشی نمائندوں کو اس بات پر قائل کرنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ اس خیال کو تسلیم کر لیں کہ شرحِ سود کو صرف اس لیے بلند رکھا جا رہا ہے کہ ’کچھ (برا) ہونے والا ہے اور ہمیں اس صورتحال سے نمٹنا ہو گا۔</p>
<p>گزشتہ ماہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2026 کی اپنی پہلی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں بنیادی پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>یہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے برعکس تھا کیونکہ ماہرین اور سرمایہ کار کلیدی شرحِ سود میں کمی کی توقع کر رہے تھے۔</p>
<p>اسی دوران جمیل احمد نے اس بات پر زور دیا کہ نافذ کردہ پالیسیوں کی بدولت مرکزی بینک اپنا اعتبار بحال کرنے میں کامیاب رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پیشہ ور تجزیہ کاروں کو دیکھیں، وہ سب کہہ رہے ہیں کہ اس سال اور اگلے سال بھی مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہے گی۔ تو یہ وہ اعتبار ہے کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں، مارکیٹ اس پر یقین کررہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282601</guid>
      <pubDate>Mon, 09 Feb 2026 15:40:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/09120355733de73.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/09120355733de73.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
