<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:41:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:41:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت ٹیکسز کی شرح میں کمی کیلئے آئی ایم ایف سے رجوع کرسکتی ہے، عارف حبیب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282597/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے 75 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول حاصل کرنے والے کنسورشیم کے صفِ اول کے کاروباری شخصیت عارف حبیب نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے رجوع کرنے کا امکان ہے تاکہ کاروبار پر ٹیکسز کی شرح میں کمی کی جاسکے، اس اقدام کا مقصد ملکی معیشت میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کو 17ویں کراچی لٹریچر فیسٹیول میں ادارے کیوں اہم ہیں؟ میزان بینک کی کہانی کے عنوان سے ہونے والے پینل مباحثے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حساب کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ کاروبار پر ٹیکسز کی مجموعی شرح بہت ہی زیادہ ہے جو کہ 62 فیصد سے 65 فیصد کی حد تک جاپہنچتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ شرح 29 فیصد کارپوریٹ ٹیکس، سپر ٹیکس، انٹر کارپوریٹ ڈیوڈنڈ ٹیکس، ڈیوڈنڈ ٹیکس اور غیر منقولہ جائیداد سے آمدنی پر سیکشن سیون ای ٹیکس کا مجموعہ ہے، یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی بنا پرملکی معیشت میں مقامی اور غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کی آمد انتہائی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومتی حلقوں میں یہ بازگشت سنائی دے رہی ہے کہ ملک (پاکستان) ٹیکسز کی شرح میں کمی کیلئے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب جو کہ عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل ) کے چیئرمین بھی ہیں نے کہا کہ میں نے خود وزیرِاعظم اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین سے بات کی ہے۔ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئی ایم ایف سے بات کریں گے تاکہ کاروبار پر عائد انتہائی زیادہ ٹیکس کی شرح کو کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اعلیٰ حکام آئی ایم ایف کو پرائمری سرپلس (بنیادی بجٹ بچت) کے مقررہ ہدف کو کم کرکے 1 فیصد تک لانے کی تجویز دیں گے تاکہ 1.3 ٹریلین روپے کی مالی گنجائش پیدا کی جاسکے۔ اس سے کاروبار کیلئے ٹیکسز کی شرح میں کٹوتی کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ مالی نقصان کا ازالہ کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل آئی ایم ایف نے جاری مالی سال 2025-26 کیلئے پرائمری سرپلس کا ہدف جی ڈی پی کا 1.6 فیصد مقرر کیا تھا، تاہم مالی سال 26 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے دوران یہ جی ڈی پی کا 3.2 فیصد (یا 4,105 ارب روپے) ریکارڈ کیا گیا جو کہ مقررہ ہدف سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ (اعداد و شمار) اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پرائمری سرپلس کے مقررہ ہدف میں کمی کی گنجائش موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر مالیت کے 37 ماہ طویل ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی پروگرام کے تحت کام کررہا ہے۔ حکومت اس پروگرام کو کامیابی سے چلانے کیلئے اپنے تقریباً ہر کاروباری اور معاشی فیصلے، بالخصوص ٹیکسوں کے معاملات پر آئی ایم ایف سے مشاورت کرتی ہے اور اس کی سفارشات طلب کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب نے کہا کہ ہمارے کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو 29 فیصد سے کم کر کے 27 فیصد پر لایا جانا چاہیے، انٹر کارپوریٹ ڈیوڈنڈ ٹیکس کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، سیکشن سیون ای کو ختم کیا جائے اور جنرل سیلز ٹیکس کی شرح کو موجودہ 18 فیصد سے گھٹا کر 15 فیصد تک لایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں کاروبار کیلئے بینکوں سے حاصل کردہ قرضوں کی شرحِ سود میں کمی اور سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری وہ دیگر اقدامات ہیں جو ملکی معیشت پر مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کیلئے ضروری ہیں۔ انہوں نے (عارف حبیب نے) اس بات پر زور دیا کہ مرکزی بینک کو اپنی کلیدی پالیسی ریٹ (شرحِ سود) کو موجودہ 10.5 فیصد سے کم کر کے سنگل ڈیجٹ (یعنی 10 فیصد سے نیچے) پر لانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق گورنراسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ بینکنگ صنعت کے مجموعی اثاثوں میں شرعی اصولوں کے مطابق کام کرنے والے (اسلامک) بینکوں کا حصہ 23 سال پہلے صفر تھا، جو اب بڑھ کر 24 سے 25 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میزان بینک کے سی ای او سید امیر علی نے کہا کہ وہ اسلامی بینکنگ کو ڈیجیٹلائز کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی کی بنیاد الجبرا پر ہے جس کے بانی 900 سے 1300 عیسوی کے درمیان اسلامی دورِ حکومت کے سنہری عہد کے مسلم سائنسدان تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے 75 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول حاصل کرنے والے کنسورشیم کے صفِ اول کے کاروباری شخصیت عارف حبیب نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے رجوع کرنے کا امکان ہے تاکہ کاروبار پر ٹیکسز کی شرح میں کمی کی جاسکے، اس اقدام کا مقصد ملکی معیشت میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔</strong></p>
<p>ہفتے کو 17ویں کراچی لٹریچر فیسٹیول میں ادارے کیوں اہم ہیں؟ میزان بینک کی کہانی کے عنوان سے ہونے والے پینل مباحثے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حساب کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ کاروبار پر ٹیکسز کی مجموعی شرح بہت ہی زیادہ ہے جو کہ 62 فیصد سے 65 فیصد کی حد تک جاپہنچتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ شرح 29 فیصد کارپوریٹ ٹیکس، سپر ٹیکس، انٹر کارپوریٹ ڈیوڈنڈ ٹیکس، ڈیوڈنڈ ٹیکس اور غیر منقولہ جائیداد سے آمدنی پر سیکشن سیون ای ٹیکس کا مجموعہ ہے، یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی بنا پرملکی معیشت میں مقامی اور غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کی آمد انتہائی کم ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومتی حلقوں میں یہ بازگشت سنائی دے رہی ہے کہ ملک (پاکستان) ٹیکسز کی شرح میں کمی کیلئے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>عارف حبیب جو کہ عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل ) کے چیئرمین بھی ہیں نے کہا کہ میں نے خود وزیرِاعظم اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین سے بات کی ہے۔ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئی ایم ایف سے بات کریں گے تاکہ کاروبار پر عائد انتہائی زیادہ ٹیکس کی شرح کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اعلیٰ حکام آئی ایم ایف کو پرائمری سرپلس (بنیادی بجٹ بچت) کے مقررہ ہدف کو کم کرکے 1 فیصد تک لانے کی تجویز دیں گے تاکہ 1.3 ٹریلین روپے کی مالی گنجائش پیدا کی جاسکے۔ اس سے کاروبار کیلئے ٹیکسز کی شرح میں کٹوتی کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ مالی نقصان کا ازالہ کیا جا سکے گا۔</p>
<p>اس سے قبل آئی ایم ایف نے جاری مالی سال 2025-26 کیلئے پرائمری سرپلس کا ہدف جی ڈی پی کا 1.6 فیصد مقرر کیا تھا، تاہم مالی سال 26 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے دوران یہ جی ڈی پی کا 3.2 فیصد (یا 4,105 ارب روپے) ریکارڈ کیا گیا جو کہ مقررہ ہدف سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔</p>
<p>یہ (اعداد و شمار) اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پرائمری سرپلس کے مقررہ ہدف میں کمی کی گنجائش موجود ہے۔</p>
<p>پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر مالیت کے 37 ماہ طویل ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی پروگرام کے تحت کام کررہا ہے۔ حکومت اس پروگرام کو کامیابی سے چلانے کیلئے اپنے تقریباً ہر کاروباری اور معاشی فیصلے، بالخصوص ٹیکسوں کے معاملات پر آئی ایم ایف سے مشاورت کرتی ہے اور اس کی سفارشات طلب کرتی ہے۔</p>
<p>عارف حبیب نے کہا کہ ہمارے کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو 29 فیصد سے کم کر کے 27 فیصد پر لایا جانا چاہیے، انٹر کارپوریٹ ڈیوڈنڈ ٹیکس کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، سیکشن سیون ای کو ختم کیا جائے اور جنرل سیلز ٹیکس کی شرح کو موجودہ 18 فیصد سے گھٹا کر 15 فیصد تک لایا جائے۔</p>
<p>مزید برآں کاروبار کیلئے بینکوں سے حاصل کردہ قرضوں کی شرحِ سود میں کمی اور سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری وہ دیگر اقدامات ہیں جو ملکی معیشت پر مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کیلئے ضروری ہیں۔ انہوں نے (عارف حبیب نے) اس بات پر زور دیا کہ مرکزی بینک کو اپنی کلیدی پالیسی ریٹ (شرحِ سود) کو موجودہ 10.5 فیصد سے کم کر کے سنگل ڈیجٹ (یعنی 10 فیصد سے نیچے) پر لانا چاہیے۔</p>
<p>سابق گورنراسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ بینکنگ صنعت کے مجموعی اثاثوں میں شرعی اصولوں کے مطابق کام کرنے والے (اسلامک) بینکوں کا حصہ 23 سال پہلے صفر تھا، جو اب بڑھ کر 24 سے 25 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔</p>
<p>میزان بینک کے سی ای او سید امیر علی نے کہا کہ وہ اسلامی بینکنگ کو ڈیجیٹلائز کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی کی بنیاد الجبرا پر ہے جس کے بانی 900 سے 1300 عیسوی کے درمیان اسلامی دورِ حکومت کے سنہری عہد کے مسلم سائنسدان تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282597</guid>
      <pubDate>Mon, 09 Feb 2026 11:45:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/09111109f8871a7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/09111109f8871a7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
