<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 14:39:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 14:39:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس تقریباً 1800 پوائنٹس گرگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282596/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) پیر کو شدید مندی کے ساتھ بند ہوئی، جہاں مسلسل فروخت کے دباؤ نے بینچ مارک انڈیکس کو سرخ نشان (منفی زون) میں دھکیل دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریڈنگ سیشن کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں بڑا اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس نے دن کے بلند ترین پوائنٹس 185,650.59 اور کم ترین پوائنٹس 180,992.79 کی سطح کو چھوا۔ یہ صورتحال مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے کمزور اعتماد کی نشاندہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای انڈیکس 182,340.38 پوائنٹس پر بند ہوا، جس میں 1,789.20 پوائنٹس یعنی 0.97 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی مارکیٹ رپورٹ میں بتایا کہ انڈیکس کی کارکردگی پر بڑے اداروں کے حصص میں گراوٹ کا شدید دباؤ رہا، جہاں یوبی ایل، پی پی ایل، ایم ای بی ایل،اوجی ڈی سی ایل،یو بی ایل اور لک نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 932 پوائنٹس کی کمی کی۔ ان نقصانات کا کچھ ازالہ چند منتخب بڑے اداروں جیسے  ایم سی بی، ایس اے زیڈای ڈبلیواور نیسٹلے کے حصص میں اضافے سے ہوا، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 221 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان رواں ہفتے کے آغاز میں اعلیٰ سطح کے دوطرفہ مذاکرات متوقع ہیں جن میں تجارت اور سرمایہ کاری سمیت متعدد بین الاقوامی اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جس کی وجہ جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال، مقامی منافع بخش شرح میں اضافہ، بیرونی تجارتی چیلنجز اور مختلف شعبوں کی ملی جلی کارکردگی رہی۔ ان تمام عوامل کے باوجود بینچ مارک 100 انڈیکس ہفتے کے اختتام پر تقریباً بغیر کسی بڑی تبدیلی کے بند ہوا جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ابھرتے ہوئے خطرات کے ساتھ بعض منتخب شعبوں میں مضبوطی کے آثار بھی موجود رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس 44.90 پوائنٹس کی کمی سے 184,129.58 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی بازاروں (اسٹاک مارکیٹس) میں تیزی دیکھی گئی جس کی وجہ جاپانی وزیرِ اعظم ثنائے تاکائچی کی شاندار کامیابی بنی۔ اس فتح نے مزید افراطِ زر پر مبنی معاشی پالیسیوں کی امید جگا دی ہے جب کہ امریکی چِپ اسٹاکس میں آخری لمحات میں ہونے والی بہتری نے بھی سرمایہ کاروں کو بڑی راحت فراہم کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چِپ اسٹاکس (سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص) میں تیزی اور چاندی سمیت مندی کا شکار مومنٹم پلیئرز میں سستے داموں خریداری نے مارکیٹ کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں مزید کٹوتی کے امکانات نے بھی سرمایہ کاروں کے حوصلے بلند کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون تک شرحِ سود میں کٹوتی کو اب ایک یقینی امکان کے طور پر دیکھا جارہا ہے جبکہ رواں ہفتے ملازمتوں، مہنگائی اور اخراجات سے متعلق آنے والے معاشی اعدادوشمار سے معاشی مراعات کے حق میں دلیل مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے نکئی انڈیکس نے سب سے زیادہ تیزی دکھاتے ہوئے 4.4 فیصد اضافے کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا کیونکہ حکومت کی واضح اکثریت نے مزید اخراجات اور ٹیکس میں کٹوتیوں کی راہ ہموار کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مزید قرضہ لینے کے امکانات نے دو سالہ بانڈز کی شرحِ منافع کو 1.3 فیصد تک پہنچا دیا ہے، جو کہ 1996 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کے سب سے بڑے ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جنوبی کوریا کے ٹیکنالوجی سے بھرپور انڈیکس میں 4.3 فیصد کی بڑی چھلانگ دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آل شیئر انڈیکس پر تجارتی حجم گزشتہ سیشن کے 1.27 ارب حصص سے کم ہو کر 93.13 کروڑ حصص رہ گیا۔ حصص کی مجموعی مالیت بھی 60.36 ارب روپے سے کم ہو کر 58.87 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔ کے الیکٹرک 30.24 کروڑ حصص کے ساتھ تجارتی حجم میں سرفہرست رہا، جس کے بعد بینک آف پنجاب 5.29 کروڑ اور آغا اسٹیل 4.69 کروڑ حصص کے ساتھ نمایاں رہے۔ پیر کے روز مجموعی طور پر 481 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 161 کے نرخ بڑھے، 278 میں کمی ہوئی، جبکہ 42 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/02/0917571644f4656.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/02/0917571644f4656.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) پیر کو شدید مندی کے ساتھ بند ہوئی، جہاں مسلسل فروخت کے دباؤ نے بینچ مارک انڈیکس کو سرخ نشان (منفی زون) میں دھکیل دیا۔</strong></p>
<p>ٹریڈنگ سیشن کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں بڑا اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس نے دن کے بلند ترین پوائنٹس 185,650.59 اور کم ترین پوائنٹس 180,992.79 کی سطح کو چھوا۔ یہ صورتحال مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے کمزور اعتماد کی نشاندہی کرتی ہے۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای انڈیکس 182,340.38 پوائنٹس پر بند ہوا، جس میں 1,789.20 پوائنٹس یعنی 0.97 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی مارکیٹ رپورٹ میں بتایا کہ انڈیکس کی کارکردگی پر بڑے اداروں کے حصص میں گراوٹ کا شدید دباؤ رہا، جہاں یوبی ایل، پی پی ایل، ایم ای بی ایل،اوجی ڈی سی ایل،یو بی ایل اور لک نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 932 پوائنٹس کی کمی کی۔ ان نقصانات کا کچھ ازالہ چند منتخب بڑے اداروں جیسے  ایم سی بی، ایس اے زیڈای ڈبلیواور نیسٹلے کے حصص میں اضافے سے ہوا، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 221 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔</p>
<p>باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان رواں ہفتے کے آغاز میں اعلیٰ سطح کے دوطرفہ مذاکرات متوقع ہیں جن میں تجارت اور سرمایہ کاری سمیت متعدد بین الاقوامی اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جس کی وجہ جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال، مقامی منافع بخش شرح میں اضافہ، بیرونی تجارتی چیلنجز اور مختلف شعبوں کی ملی جلی کارکردگی رہی۔ ان تمام عوامل کے باوجود بینچ مارک 100 انڈیکس ہفتے کے اختتام پر تقریباً بغیر کسی بڑی تبدیلی کے بند ہوا جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ابھرتے ہوئے خطرات کے ساتھ بعض منتخب شعبوں میں مضبوطی کے آثار بھی موجود رہے۔</p>
<p>ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس 44.90 پوائنٹس کی کمی سے 184,129.58 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی بازاروں (اسٹاک مارکیٹس) میں تیزی دیکھی گئی جس کی وجہ جاپانی وزیرِ اعظم ثنائے تاکائچی کی شاندار کامیابی بنی۔ اس فتح نے مزید افراطِ زر پر مبنی معاشی پالیسیوں کی امید جگا دی ہے جب کہ امریکی چِپ اسٹاکس میں آخری لمحات میں ہونے والی بہتری نے بھی سرمایہ کاروں کو بڑی راحت فراہم کی ہے۔</p>
<p>چِپ اسٹاکس (سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص) میں تیزی اور چاندی سمیت مندی کا شکار مومنٹم پلیئرز میں سستے داموں خریداری نے مارکیٹ کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں مزید کٹوتی کے امکانات نے بھی سرمایہ کاروں کے حوصلے بلند کیے ہیں۔</p>
<p>جون تک شرحِ سود میں کٹوتی کو اب ایک یقینی امکان کے طور پر دیکھا جارہا ہے جبکہ رواں ہفتے ملازمتوں، مہنگائی اور اخراجات سے متعلق آنے والے معاشی اعدادوشمار سے معاشی مراعات کے حق میں دلیل مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>جاپان کے نکئی انڈیکس نے سب سے زیادہ تیزی دکھاتے ہوئے 4.4 فیصد اضافے کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا کیونکہ حکومت کی واضح اکثریت نے مزید اخراجات اور ٹیکس میں کٹوتیوں کی راہ ہموار کر دی ہے۔</p>
<p>تاہم مزید قرضہ لینے کے امکانات نے دو سالہ بانڈز کی شرحِ منافع کو 1.3 فیصد تک پہنچا دیا ہے، جو کہ 1996 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔</p>
<p>دوسری جانب جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کے سب سے بڑے ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جنوبی کوریا کے ٹیکنالوجی سے بھرپور انڈیکس میں 4.3 فیصد کی بڑی چھلانگ دیکھی گئی۔</p>
<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آل شیئر انڈیکس پر تجارتی حجم گزشتہ سیشن کے 1.27 ارب حصص سے کم ہو کر 93.13 کروڑ حصص رہ گیا۔ حصص کی مجموعی مالیت بھی 60.36 ارب روپے سے کم ہو کر 58.87 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔ کے الیکٹرک 30.24 کروڑ حصص کے ساتھ تجارتی حجم میں سرفہرست رہا، جس کے بعد بینک آف پنجاب 5.29 کروڑ اور آغا اسٹیل 4.69 کروڑ حصص کے ساتھ نمایاں رہے۔ پیر کے روز مجموعی طور پر 481 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 161 کے نرخ بڑھے، 278 میں کمی ہوئی، جبکہ 42 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/02/0917571644f4656.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/02/0917571644f4656.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282596</guid>
      <pubDate>Mon, 09 Feb 2026 18:34:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/09110559cebf16d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/09110559cebf16d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
