<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آر ٹی او اسلام آباد کی پی او ایس رجسٹریشن مہم جاری، بدعنوانی کے خلاف کارروائی کا عزم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282591/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد کے ریجنل ٹیکس آفس کے اعلیٰ حکام نے دارالحکومت کی کاروباری برادری کو مکمل یقین دہانی کرائی ہے کہ آر ٹی او کسی بھی قسم کی بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کے لیے پُرعزم ہے، تاہم قانون پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے پوائنٹ آف سیلز رجسٹریشن کی مہم جاری رہے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ٹی او اسلام آباد کے سینئر حکام نے اپنے ملازمین کے خلاف بدعنوانی کے الزامات پر بروقت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ ریٹیلرز کی سیلز ٹیکس میں عدم رجسٹریشن کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں تاجر تنظیموں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ متعدد اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق چیف کمشنر سیکریٹریٹ نے شکایات کے ازالے کے لیے ایک فوکل پرسن مقرر کر دیا ہے اور ایک مخصوص واٹس ایپ نمبر بھی جاری کیا گیا ہے، جہاں کسی بھی افسر یا اہلکار کے خلاف بدعنوانی سے متعلق شکایت درج کرائی جا سکتی ہے۔ آر ٹی او نے واضح کیا کہ پوائنٹ آف سیلز سسٹم کی تنصیب پر کوئی اضافی لاگت نہیں آتی کیونکہ یہ نظام پی آر اے ایل کی جانب سے مفت فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ قانون کے تحت رجسٹریشن کے پابند تاجروں کو درکار اضافی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ٹی او حکام کا کہنا تھا کہ کسی بھی الزام کو حقائق کے ساتھ ثابت کرنا ضروری ہے اور اگر کوئی اہلکار بدعنوانی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، تاہم قانون پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد جاری رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب آل پاکستان انجمن تاجران کے چیئرمین اجمل بلوچ نے اسلام آباد میں پوائنٹ آف سیلز رجسٹریشن مہم کے دوران آر ٹی او کے افسران اور اہلکاروں پر سنگین بدعنوانی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ٹیکس افسران تاجروں کو بلیک میل کر رہے ہیں اور ماہانہ رشوت وصول کرنے میں ملوث ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجمل بلوچ کے مطابق بعض اہلکار کم بجلی کے بل رکھنے والے چھوٹے تاجروں کو ہراساں کر کے زبردستی پی او ایس سسٹم میں رجسٹر کروا رہے ہیں، حالانکہ وہ قانون کے تحت اس کے پابند نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آر ٹی او اسلام آباد کا ایک ڈسپیچ رائیڈر دکانوں پر جا کر نوٹس دیتا ہے اور رشوت طلب کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ پریس کانفرنس میں انہوں نے بدعنوانی کی تفصیلات بیان کیں، جس کے بعد آر ٹی او کی جانب سے مبینہ بلیک میلنگ کا سلسلہ وقتی طور پر رک گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹریڈرز ایکشن کمیٹی پہلے ہی ایف بی آر کے رکن آئی آر آپریشنز کو آگاہ کر چکی ہے کہ چھوٹے تاجروں کی زبردستی پی او ایس رجسٹریشن سے ان کی لاگت میں اضافہ ہوگا، کیونکہ ناتجربہ کار تاجر نظام کی تنصیب اور آپریشن کے لیے پیشہ ور افراد کی خدمات لینے پر مجبور ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجمل بلوچ کے مطابق کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ مشین یا کیو آر کوڈ استعمال کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ تاجر لازمی طور پر پی او ایس سسٹم میں رجسٹر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے دکانداروں کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ چوبیس گھنٹے پی او ایس نظام چلانے کے اخراجات برداشت کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد کے ریجنل ٹیکس آفس کے اعلیٰ حکام نے دارالحکومت کی کاروباری برادری کو مکمل یقین دہانی کرائی ہے کہ آر ٹی او کسی بھی قسم کی بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کے لیے پُرعزم ہے، تاہم قانون پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے پوائنٹ آف سیلز رجسٹریشن کی مہم جاری رہے گی۔</strong></p>
<p>آر ٹی او اسلام آباد کے سینئر حکام نے اپنے ملازمین کے خلاف بدعنوانی کے الزامات پر بروقت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ ریٹیلرز کی سیلز ٹیکس میں عدم رجسٹریشن کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں تاجر تنظیموں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ متعدد اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p>حکام کے مطابق چیف کمشنر سیکریٹریٹ نے شکایات کے ازالے کے لیے ایک فوکل پرسن مقرر کر دیا ہے اور ایک مخصوص واٹس ایپ نمبر بھی جاری کیا گیا ہے، جہاں کسی بھی افسر یا اہلکار کے خلاف بدعنوانی سے متعلق شکایت درج کرائی جا سکتی ہے۔ آر ٹی او نے واضح کیا کہ پوائنٹ آف سیلز سسٹم کی تنصیب پر کوئی اضافی لاگت نہیں آتی کیونکہ یہ نظام پی آر اے ایل کی جانب سے مفت فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ قانون کے تحت رجسٹریشن کے پابند تاجروں کو درکار اضافی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>آر ٹی او حکام کا کہنا تھا کہ کسی بھی الزام کو حقائق کے ساتھ ثابت کرنا ضروری ہے اور اگر کوئی اہلکار بدعنوانی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، تاہم قانون پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد جاری رکھا جائے گا۔</p>
<p>دوسری جانب آل پاکستان انجمن تاجران کے چیئرمین اجمل بلوچ نے اسلام آباد میں پوائنٹ آف سیلز رجسٹریشن مہم کے دوران آر ٹی او کے افسران اور اہلکاروں پر سنگین بدعنوانی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ٹیکس افسران تاجروں کو بلیک میل کر رہے ہیں اور ماہانہ رشوت وصول کرنے میں ملوث ہیں۔</p>
<p>اجمل بلوچ کے مطابق بعض اہلکار کم بجلی کے بل رکھنے والے چھوٹے تاجروں کو ہراساں کر کے زبردستی پی او ایس سسٹم میں رجسٹر کروا رہے ہیں، حالانکہ وہ قانون کے تحت اس کے پابند نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آر ٹی او اسلام آباد کا ایک ڈسپیچ رائیڈر دکانوں پر جا کر نوٹس دیتا ہے اور رشوت طلب کرتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ پریس کانفرنس میں انہوں نے بدعنوانی کی تفصیلات بیان کیں، جس کے بعد آر ٹی او کی جانب سے مبینہ بلیک میلنگ کا سلسلہ وقتی طور پر رک گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹریڈرز ایکشن کمیٹی پہلے ہی ایف بی آر کے رکن آئی آر آپریشنز کو آگاہ کر چکی ہے کہ چھوٹے تاجروں کی زبردستی پی او ایس رجسٹریشن سے ان کی لاگت میں اضافہ ہوگا، کیونکہ ناتجربہ کار تاجر نظام کی تنصیب اور آپریشن کے لیے پیشہ ور افراد کی خدمات لینے پر مجبور ہوں گے۔</p>
<p>اجمل بلوچ کے مطابق کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ مشین یا کیو آر کوڈ استعمال کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ تاجر لازمی طور پر پی او ایس سسٹم میں رجسٹر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے دکانداروں کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ چوبیس گھنٹے پی او ایس نظام چلانے کے اخراجات برداشت کر سکیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282591</guid>
      <pubDate>Mon, 09 Feb 2026 09:57:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/09095442fefc08e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/09095442fefc08e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
